ابراہیم خواص رحمہ اللہ کے قدموں کا پتھر میں موم کی طرح دھنسنا

ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

ہجویری رحمہ اللہ نے ابراہیم خواص رحمہ اللہ کے ایک پہاڑی سفر سے متعلق ایک نہایت دل چسپ کرامتی روایت محفوظ کی ہے۔ سفر کے دوران ان کے ساتھی نے چند اشعار پڑھے جن سے ابراہیم خواص پر گہرا اثر ہوا۔ اشعار دوبارہ سن کر وہ تواجد کی شدید کیفیت میں آگئے اور پتھریلی زمین پر اپنے قدم حرکت دینے لگے۔ روایت کے مطابق ان کے قدم پتھر میں ایسے دھنس گئے جیسے وہ موم ہو۔ اس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئے اور ہوش آنے پر جنت میں ہونے کا ذکر کیا۔

ہجویری رحمہ اللہ نے کشف المحجوب میں ابراہیم خواص رحمہ اللہ کے ایک پہاڑی سفر سے متعلق ایک نہایت حیرت انگیز حکایت محفوظ کی ہے۔ ابراہیم خواص اپنے ایک ساتھی کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ راستہ پہاڑی تھا اور سفر جاری تھا کہ ان کے ساتھی نے چند اشعار پڑھے۔ ان اشعار نے ابراہیم خواص کے دل پر گہرا اثر ڈالا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے ساتھی سے انہیں دوبارہ پڑھنے کو کہا۔

ساتھی نے وہ اشعار پھر سنائے۔ انہیں سنتے ہی ابراہیم خواص پر تواجد کی ایک شدید کیفیت طاری ہوئی۔ وہ اس روحانی اثر میں اس قدر ڈوب گئے کہ پتھریلی زمین پر اپنے قدم بار بار حرکت دینے لگے۔ اسی لمحے وہ غیر معمولی منظر پیش آیا جس کی وجہ سے یہ حکایت مشہور ہوئی۔

ہجویری کی روایت کے مطابق ابراہیم خواص کے قدم سخت پتھر میں اس طرح دھنسنے لگے جیسے وہ پتھر موم بن گیا ہو۔ پہاڑی زمین اپنی معمول کی سختی کے برخلاف ان کے قدموں کے نیچے نرم ہوتی دکھائی دی۔ یہ منظر ان کے ساتھی کے سامنے پیش آیا اور روایت کا سب سے نمایاں کرامتی پہلو یہی ہے۔

اس کیفیت کے بعد ابراہیم خواص بے ہوش ہوگئے۔ ان کا ساتھی ان کے پاس موجود رہا اور کچھ دیر بعد جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے اپنے اس تجربے کے بارے میں کلام کیا۔ انہوں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ وہ اس دوران جنت کے باغ میں تھے، جبکہ ساتھی کو ان کی اس کیفیت کا ادراک نہیں تھا۔

یوں پوری حکایت ایک مسلسل ترتیب کے ساتھ سامنے آتی ہے: پہاڑی سفر، راستے میں پڑھے گئے اشعار، ان اشعار سے پیدا ہونے والی تواجد کی کیفیت، پتھر میں قدموں کا موم کی طرح دھنسنا، پھر بے ہوشی اور ہوش آنے کے بعد جنت کا ذکر۔ یہی ترتیب اس واقعے کو ابراہیم خواص رحمہ اللہ سے منسوب یادگار کرامتی روایات میں نمایاں بناتی ہے۔

کشف المحجوب میں محفوظ اس حکایت کا سب سے مؤثر منظر وہی ہے جب سخت چٹان ان کے قدموں کے نیچے موم کی طرح نرم ہوتی بیان ہوئی ہے۔ اس کے بعد بے ہوشی اور جنت کے بارے میں ان کے الفاظ واقعے کو ایک اور غیر معمولی جہت دیتے ہیں اور پوری داستان کو ایک مکمل کرامتی واقعے کی صورت دے دیتے ہیں۔

خلاصۂ نتیجہ

ابراہیم خواص رحمہ اللہ کی یہ حکایت ایک واضح اور یادگار کرامتی روایت ہے: پہاڑی سفر میں اشعار کا اثر، تواجد کی شدید کیفیت، قدموں کا پتھر میں موم کی طرح دھنسنا، اور ہوش آنے کے بعد ایک غیر معمولی روحانی تجربے کا ذکر۔

مآخذ

al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, Bab Maratibihim fi al-Sama, section 2
al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, same passage
al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, same passage
al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, same passage
al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, same passage
Nicholson translation of al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, audition chapter
al-Hujwiri, Kashf al-Mahjub, report opening 'a certain man says'
al-Qushayri, al-Risala al-Qushayriyya, biography of Ibrahim al-Khawwas
CAND-0250 Task 1 source search assessment
CAND-0250 Task 1 taxonomy decision