ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ

PER-000437 نیک شخصیت مصدقہ مقامِ تدفین نامعلوم مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ تیسری صدی ہجری کے معروف صوفی مشائخ میں تھے۔ قدیم صوفی ماخذ انہیں توکل، عبادت، حلال کمائی، سفر، مجاہدۂ نفس اور خدمتِ خلق سے جوڑتے ہیں اور ان سے کرامات کی روایات بھی نقل کرتے ہیں۔ انہی ماخذ کے مطابق ان کی آخری بیماری اور وفات رے کی جامع مسجد میں ہوئی اور یوسف بن حسین رازی نے غسل و تدفین کا انتظام کیا؛ اس لیے بغداد کے شونیزیہ مقام کو ان کی ثابت شدہ اصل قبر نہیں بلکہ منسوب مقام سمجھا جاتا ہے۔
وفات

کلاسیکی حوالہ جات ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ کی آخری بیماری اور وفات کو رے کی جامع مسجد میں بیان کرتے ہیں۔ صفۃ الصفوۃ میں ۲۹۱ ہجری کا قول ہے، جبکہ ۲۸۴ ہجری کا دوسرا قول بھی نقل ہوا ہے، اور یوسف بن حسین رازی کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے غسل و تدفین کی ذمہ داری سنبھالی۔

مدفن یا منسوب مقام

کلاسیکی ماخذ ان کی تجہیز و تدفین کو رے سے منسلک کرتے ہیں اور بغداد کے شونیزیہ مقام کو ان کی قبر قرار دینے والا کوئی نام زد قدیم حوالہ پیش نہیں کرتی۔ اس لیے بغداد کا مقام ایک منسوب زیارت گاہ یا یادگاری نسبت کے طور پر محفوظ ہے، تاریخی طور پر ثابت اصل مدفن کے طور پر نہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ، ابواسحاق ابراہیم بن احمد بن اسماعیل خواص، تیسری صدی ہجری کے صوفی ماحول کی ایک معروف شخصیت تھے۔ وہ جنید بغدادی، ابوالحسین نوری اور دوسرے ابتدائی مشائخ کے زمانے کے صوفی ماحول سے وابستہ تھے، اور ان کی زندگی میں توکل، منظم سفر، حلال کمائی، بھوک کی ریاضت، رفقا کی خدمت اور ظاہری اسباب پر قلبی انحصار نہ کرنے کی تعلیم نمایاں تھی۔

حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء، جلد ۱۰، صفحہ ۲۲۹ کے مطابق انہوں نے توکل کا طریق ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل مغربی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیا اور وہ اس باب میں ان کے استاد تھے۔ اس نسبت سے ان کی روحانی تربیت صحبتِ مشائخ، عبادت، سفر، مجاہدۂ نفس اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد کی ابتدائی صوفی روایت سے وابستہ دکھائی دیتی ہے۔

الرسالۃ القشیریۃ، جلد ۱، صفحات ۳۰۳–۳۰۴ میں ان کے عملی توکل کی مثال محفوظ ہے کہ وہ سفر میں سوئی، دھاگا، پانی کا چھوٹا برتن اور قینچی ساتھ رکھتے تھے۔ ان کا بیان یہ تھا کہ توکل ستر پوشی، نماز اور طہارت کی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتا۔ اسی کتاب، جلد ۱، صفحہ ۱۰۵ میں ان سے دل کی پانچ دوائیں منقول ہیں: قرآن کو غور سے پڑھنا، پیٹ کو ہلکا رکھنا، رات کی نماز، سحر کے وقت عاجزی سے دعا اور صالحین کی صحبت۔

صفۃ الصفوۃ، جلد ۲، صفحہ ۲۹۸ میں ان کی خدمتِ خلق کا واقعہ ملتا ہے۔ وہ کھجور کے پتوں سے ٹوکریاں بنا کر دریا میں ڈال دیتے تھے؛ بعد میں معلوم ہوا کہ ایک غریب بیوہ اپنے پانچ یتیم بچوں کے لیے انہیں نکال کر فروخت کرتی ہے۔ اس حال سے واقف ہونے کے بعد انہوں نے اس عورت اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری کئی برس تک سنبھالی۔

حلیۃ الاولیاء، جلد ۱۰، صفحہ ۳۳۰ میں ان کی کرامات کے ضمن میں ایک روایت ہے جس میں وہ ایک یہودی مسافر کے ساتھ کھلے پانی سے گزر کر ساحل تک پہنچتے ہیں۔ اسی روایت میں غیر معمولی طور پر کھانا پہنچنے اور اس مسافر کے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے کا ذکر ہے، جسے اسی کتابی روایت کے دائرے میں محفوظ رکھا گیا ہے۔

خیر النساج سے منقول ایک اور روایت حلیۃ الاولیاء، جلد ۱۰، صفحات ۳۳۰–۳۳۱ میں درج ہے۔ اس میں مقامِ حاجِر پر شدید پیاس، ایک سوار کے ذریعے پانی ملنے، پھر بہت مختصر وقت میں مدینہ دکھائی دینے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک رضوان کا سلام پہنچانے کی ہدایت کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ بھی قدیم صوفی کتاب میں منقول کرامت کے طور پر درج ہے۔

ان کی آخری بیماری اور وفات کے بارے میں کلاسیکی کتابی حوالہ جات رے کی جامع مسجد کو واضح طور پر ذکر کرتے ہیں۔ صفۃ الصفوۃ ۲۹۱ ہجری کا قول دیتی ہے اور ۲۸۴ ہجری کا دوسرا قول بھی نقل کرتی ہے، جبکہ یوسف بن حسین رازی کے غسل و تدفین کی ذمہ داری سنبھالنے کا ذکر بھی موجود ہے۔ الرسالۃ القشیریۃ اور سیر السلف الصالحین بھی رے ہی کا بیان محفوظ کرتے ہیں؛ اسی وجہ سے بغداد کے مقبرہ شونیزیہ کا مقام ان کی اصل ثابت شدہ قبر کے بجائے بعد کا منسوب مقام رہتا ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ کی تاریخی اہمیت ابتدائی تصوف میں ایسے توکل کی نمائندگی سے ہے جسے عبادت، طہارت، حلال اسباب اور عملی ذمہ داری سے جدا نہیں کیا گیا۔ قدیم صوفی مصادر ان کے استاد کے طور پر ابو عبداللہ مغربی کا نام دیتے ہیں اور ان کی تعلیمات کو ابتدائی صوفی مکتب کے ساتھ محفوظ کرتے ہیں۔

ان کی سوانح میں خدمتِ خلق بھی نمایاں ہے۔ صفۃ الصفوۃ میں غریب بیوہ اور پانچ یتیم بچوں کی کفالت کا واقعہ درج ہے، جبکہ الرسالۃ القشیریۃ ان کے عملی توکل اور دل کی پانچ دواؤں سے متعلق اقوال محفوظ کرتی ہے۔

حلیۃ الاولیاء میں سمندر عبور کرنے اور مدینہ تک غیر معمولی طور پر پہنچنے کی روایات ان کی کرامات کے طور پر نقل ہوئی ہیں۔ ان روحانی روایات کو مدفن کے سوال سے الگ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ کلاسیکی کتابی شہادت ان کی آخری بیماری، وفات اور تجہیز و تدفین کو رے سے جوڑتی ہے اور بغداد کے شونیزیہ مقام کو صرف منسوب مقام کے طور پر چھوڑتی ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

صفة الصفوة | ابن الجوزي | ج 2، ص 298–300: خدمة الأرملة والأيتام؛ الوفاة في ج
حلية الأولياء وطبقات الأصفياء | أبو نعيم الأصبهاني | ج 10، ص 229 و326–331: أبو عبد الله المغربي أستاذه
الرسالة القشيرية | أبو القاسم عبد الكريم القشيري | ج 1، ص 105 و303–304: أدوية القلب الخمسة؛ الإبرة وا
سير السلف الصالحين | قوام السنة إسماعيل بن محمد الأصبهاني | ج 1، ص 1325–1326: مرضه ووفاته في جامع الري وأقواله
طبقات الصوفية | أبو عبد الرحمن السلمي | ترجمة إبراهيم الخواص؛ وفاته في الري سنة 291هـ؛ يخت
المنتظم في تاريخ الملوك والأمم | ابن الجوزي | ترجمة أبي عبد الله المغربي وإبراهيم الخواص؛ يختلف
Additional donor web references (unpaired):
https://ftp.shamela.ws/book/12031/1316
https://shamela.ws/book/12031/1318
https://ftp.shamela.ws/book/10495/3711
https://mail.shamela.ws/book/10495/3812
https://mail.shamela.ws/book/10495/3813
https://www.islamweb.net/ar/library/content/1087/48/%D8%A3%D8%A8%D9%88-%D8%A5%D8%B3%D8%AD%D8%A7%D9%82-%D8%A5%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%87%D9%8A%D9%85-%D8%A8%D9%86-%D8%A3%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B5
https://www.islamweb.net/ar/library/content/1087/133/%D8%A8%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D8%AA%D9%88%D9%83%D9%84
https://www.islamweb.net/ar/library/content/1072/850/%D8%B0%D9%83%D8%B1-%D8%A5%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%87%D9%8A%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B5

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔