ابوبکر شبلیؒ، انجیر کا درخت اور صرف حلال کھانے کے عہد کا واقعہ

⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

قشیری ابوبکر شبلیؒ سے منسوب کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک وقت یہ عہد کیا کہ صرف حلال چیز کھائیں گے۔ بیابان میں چلتے ہوئے انہیں انجیر کا ایک درخت ملا اور انہوں نے پھل لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ روایت کے مطابق اسی لمحے درخت نے انہیں ان کا عہد یاد دلایا اور کہا کہ وہ ایک یہودی کی ملکیت ہے۔ قصے کا اصل اثر یہی ہے کہ تنبیہ عین اس وقت آئی جب شبلیؒ اپنے ہی عہد کے خلاف قدم بڑھانے والے تھے۔

قشیری ابوبکر شبلیؒ سے ایک مختصر مگر بہت واضح واقعہ منسوب کرتے ہیں۔ قصہ کسی کرامت سے نہیں بلکہ شبلیؒ کے اپنے ایک فیصلے سے شروع ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک وقت انہوں نے اپنے اوپر یہ عہد کیا کہ صرف وہی کھائیں گے جو حلال ہو۔ یہی عہد آگے آنے والے واقعے کی اصل بنیاد بنتا ہے، کیونکہ بعد کی پوری تنبیہ اسی وعدے کو یاد دلانے کے گرد گھومتی ہے۔

اس کے بعد شبلیؒ بیان کرتے ہیں کہ وہ بیابانوں میں پھر رہے تھے۔ اسی دوران انہیں انجیر کا ایک درخت نظر آیا۔ پھل سامنے تھا، چنانچہ انہوں نے اسے کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ روایت اس بالکل معمولی انسانی لمحے کو نمایاں کرتی ہے: سفر، سامنے موجود پھل، اور اسے لینے کے لیے بڑھتا ہوا ہاتھ۔

اسی لمحے غیر معمولی واقعہ منقول ہے۔ روایت کے مطابق درخت نے شبلیؒ کو پکار کر کہا: «اپنے عہد کی حفاظت کرو، مجھ میں سے نہ کھاؤ، کیونکہ میں ایک یہودی کی ملکیت ہوں۔» کلام مختصر ہے، مگر براہِ راست اسی نکتے پر آتا ہے جو شبلیؒ نے خود اپنے لیے طے کیا تھا: حلال کھانا اور دوسرے کی ملکیت سے بلا اجازت فائدہ نہ اٹھانا۔

اسی کلاسیکی کتاب میں شبلیؒ سے ورع کے بارے میں ایک الگ ارشاد بھی منقول ہے کہ «ورع یہ ہے کہ اللہ کے سوا ہر چیز سے اپنے آپ کو بچاؤ۔» یہ جملہ انجیر کے درخت والے واقعے کا حصہ نہیں، لیکن یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ شبلیؒ کی سوانح میں ورع کو کس قدر سخت داخلی احتیاط کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہاں یہی فکر ایک عملی صورت اختیار کرتی ہے: کھانے کی خواہش کے مقابل اپنے عہد کو یاد رکھنا۔

شاطبی نے بعد میں الاعتصام میں اسی حکایت کو ایک فقہی تنبیہ کے لیے نقل کیا۔ ان کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ اگر کسی درخت، نامعلوم آواز یا غیر معمولی تجربے سے کوئی خبر منقول ہو تو وہ اپنے آپ ملکیت یا حلال و حرام کا لازم شرعی حکم ثابت نہیں کرتی۔ اس لیے شاطبی کی گفتگو قصے کے اخلاقی سبق کو ختم نہیں کرتی، بلکہ اس کے قانونی استعمال کی حد مقرر کرتی ہے۔

عوامی بیان میں اس واقعے کا اصل زور شبلیؒ کے عہد اور عین موقع پر آنے والی تنبیہ پر ہونا چاہیے۔ قشیری کی روایت یہی کہتی ہے کہ شبلیؒ نے صرف حلال کھانے کا عہد کیا، بیابان میں انجیر لینے کو ہاتھ بڑھایا اور درخت کی طرف سے اپنا عہد یاد دلانے اور ایک یہودی مالک کا ذکر کرنے والا کلام سنا۔ اس قصے کا سب سے صاف سبق یہ ہے کہ فوری خواہش انسان کو حلال رزق اور دوسرے کی ملکیت کے احترام کے اپنے اصول سے غافل نہ کرے۔

خلاصۂ نتیجہ

اسے احتیاط کے ساتھ ایک کلاسیکی صوفیانہ روایت کے طور پر شائع کیا جا سکتا ہے: صرف حلال کھانے کے عہد کے بعد ابوبکر شبلیؒ نے بیابان میں انجیر کی طرف ہاتھ بڑھایا، تو روایت کے مطابق درخت نے انہیں عہد یاد دلایا اور کہا کہ وہ ایک یہودی کی ملکیت ہے۔

مآخذ

al-Risala al-Qushayriyya, vol.2 p.555; direct attribution: “wa-qala al-Shibli”.
al-Shatibi, al-I'tisam, vol.1 pp.271–272: quotes the Shibli fig-tree story and rejects using such extraordinary speech as independent legal evidence.