مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ کی نزاع کے دوران مشروط دعا

ولی یا صالح کی کرامتالٰہی عذابدعا کی قبولیتتاریخی نتیجہقدیم تاریخ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

لالکائی نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ کے بارے میں ایک روایت محفوظ کی ہے جس میں ان کی قوم کے ایک شخص نے نزاع کے دوران ان کے بارے میں جھوٹ بولا۔ مطرف رحمہ اللہ نے مشروط دعا کی کہ اگر وہ شخص جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی موت جلد کر دے، اور روایت کے مطابق وہ وہیں وفات پا گیا۔ جب اس کے گھر والوں نے زیاد کے پاس شکایت کی تو انہوں نے خود تسلیم کیا کہ مطرف رحمہ اللہ نے نہ اسے مارا تھا اور نہ چھوا تھا۔ پھر زیاد سے منقول ہے کہ انہوں نے اسے ایک صالح شخص کی دعا کا تقدیرِ الٰہی کے موافق واقع ہونا قرار دیا۔

لالکائی نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ کے بارے میں ایک نہایت غیر معمولی روایت محفوظ کی ہے۔ واقعہ ان کے اور ان کی قوم کے ایک شخص کے درمیان نزاع سے شروع ہوتا ہے۔ روایت کے مطابق اس شخص نے اس نزاع میں مطرف رحمہ اللہ کے بارے میں جھوٹ بولا۔

مطرف رحمہ اللہ نے اس الزام کا جواب جسمانی قوت سے نہیں دیا۔ انہوں نے ایک مشروط دعا کی جسے اس بات کے سچا یا جھوٹا ہونے سے جوڑا گیا تھا۔ دعا کا مفہوم یہ تھا کہ اگر وہ شخص جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی موت جلد کر دے۔ یہ شرط خود واقعے کا بنیادی حصہ ہے، اس لیے اسے ایک مطلق بددعا کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔

اس کے بعد روایت فوری اور غیر معمولی نتیجہ بیان کرتی ہے۔ اس شخص کے بارے میں منقول ہے کہ وہ وہیں موقع پر وفات پا گیا۔ اس وقت مطرف رحمہ اللہ کی طرف سے کسی مار پیٹ، جھگڑے یا جسمانی حملے کا ذکر نہیں آتا۔

بعد میں اس شخص کے گھر والے زیاد کے پاس شکایت لے کر گئے۔ اس شکایت کے دوران انہوں نے خود ایک اہم حقیقت تسلیم کی کہ مطرف رحمہ اللہ نے نہ اس شخص کو مارا تھا اور نہ اسے چھوا تھا۔ یوں روایت واقعے کو جسمانی عمل کے بجائے منقول دعا کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتی ہے۔

پھر زیاد سے منقول ہے کہ انہوں نے اس واقعے کو ایک صالح شخص کی دعا کا تقدیرِ الٰہی کے موافق واقع ہونا قرار دیا۔ یہ بات خود قصے کی محفوظ صورت کا حصہ بن گئی اور اسی وجہ سے بعد کی کتابوں میں یہ واقعہ مطرف رحمہ اللہ کی کرامات کے ضمن میں نقل ہوتا رہا۔

بعد کے کلاسیکی مصادر نے بھی اسی مرکزی واقعے کو محفوظ کیا۔ ابن حجر نے ذکر کیا کہ ابن ابی الدنیا نے اسے اپنی دعا کی قبولیت سے متعلق کتاب میں نقل کیا، جبکہ ابو نعیم نے بھی مطرف رحمہ اللہ کی سوانح میں اس واقعے کا بنیادی حصہ محفوظ کیا۔ عوامی بیان میں قصہ اسی ایک ترتیب تک محدود رکھا گیا ہے: نزاع، جھوٹا بیان، مشروط دعا، اچانک وفات، گھر والوں کی شکایت اور یہ اقرار کہ مطرف رحمہ اللہ نے جسمانی طور پر اس شخص کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔

خلاصۂ نتیجہ

روایت کا اختتام زیاد کے اس بیان پر ہوتا ہے کہ یہ ایک صالح شخص کی دعا کا تقدیرِ الٰہی کے موافق واقع ہونا تھا، جبکہ گھر والے خود مان چکے تھے کہ مطرف رحمہ اللہ نے نہ مارا تھا اور نہ چھوا تھا۔

مآخذ

al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna, reports 171-172
al-Lalaka'i, reports 171-172
al-Lalaka'i, reports 171-172
al-Lalaka'i, reports 171-172
al-Lalaka'i reports 171-172: two upper routes converge on Yazid ibn Harun -> Jarir ibn Hazim -> Humayd ibn Hilal
Humayd ibn Hilal al-Adawi narrator dossier
Ibn Hajar, al-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba, Mutarrif ibn Abd Allah entry
Ibn Hajar encyclopedia extract, Mutarrif report 637
al-Lalaka'i, report 173
CAND-0164 Task 1 evidence synthesis
al-Lalaka'i, reports 171-172
al-Lalaka'i, reports 171-172; Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya 2/202
Ibn Hajar, al-Isaba, Mutarrif ibn Abd Allah entry; al-Lalaka'i reports 171-172