ہجرت کے دوران نبی محمد ﷺ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا غار میں پناہ لینا صحیح بخاری ۳۶۵۳ سے مضبوط طور پر ثابت ہے۔ کلاسیکی روایات میں اس اصل واقعے کے ساتھ یہ اضافہ بھی ملتا ہے کہ مکڑی نے غار کے دہانے پر جالا بنا دیا اور دو جنگلی کبوتر وہاں کھڑے ہوگئے، جس سے قریش کے ایک تلاش کرنے والے نے سمجھا کہ اندر کوئی نہیں۔ لیکن مکڑی اور کبوتروں کو جمع کرنے والی سند ضعیف ہے، اور البیہقی کے محفوظ الفاظ میں نہ گھونسلے کا ذکر ہے نہ انڈوں کا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ایک الگ روایت صرف مکڑی کے جالے کا ذکر کرتی ہے اور وہ بھی ضعیف قرار دی گئی ہے۔ اس لیے صحیح واقعۂ غار اور کمزور اضافی تفصیلات کو الگ درجوں میں رکھا گیا ہے۔
بعد کی ایک روایت، جسے البیہقی نے نقل کیا ہے، اسی واقعے میں مزید تفصیل بیان کرتی ہے۔ اس کے مطابق اللہ نے پردے کے لیے ایک درخت اگایا، ایک مکڑی نے نبی ﷺ کے سامنے جالا بنا دیا، اور دو جنگلی کبوتر غار کے دہانے پر کھڑے ہوگئے۔ قریش کا ایک آدمی جب اس جگہ پہنچا اور اس نے کبوتروں کو دیکھا تو اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ اندر کوئی شخص موجود نہیں۔ یہ تفصیل صحیح بخاری کے اصل واقعے سے الگ، بعد کی روایت کے طور پر پیش ہونی چاہیے۔
یہاں اصل الفاظ کی پابندی ضروری ہے۔ البیہقی کے محفوظ متن میں صرف یہ ہے کہ دو جنگلی کبوتر غار کے دروازے پر کھڑے تھے۔ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ انہوں نے وہاں گھونسلہ بنایا تھا، نہ یہ کہ انڈے دیے تھے۔ اس لیے یہ مشہور اضافی باتیں لفظی، ماخذ پر مبنی بیان میں شامل نہیں کی جانی چاہییں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب ایک الگ روایت مسند احمد اور مصنف عبد الرزاق میں صرف مکڑی کے جالے کا ذکر کرتی ہے۔ اس میں سراغ رساں پہاڑ تک پہنچتے، غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا دیکھتے، اور سوچتے ہیں کہ اگر محمد ﷺ داخل ہوئے ہوتے تو جالا باقی نہ رہتا۔ اس الگ روایت میں دو کبوتروں کا ذکر موجود نہیں، اس لیے دونوں روایتی پرتوں کو آپس میں ضم نہیں کرنا چاہیے۔
حدیثی تنقید کی حدود بھی واضح رہنی چاہییں۔ البیہقی اور بزار کے خاندان کی مشترک مکڑی اور کبوتروں والی روایت ابو مصعب المکی کے واسطے سے آتی ہے، جنہیں العقیلی نے مجہول قرار دیا، جبکہ الہیثمی نے بھی اس سند میں نامعلوم راویوں کی نشان دہی کی ہے۔ اسی طرح مسند احمد کی الگ مکڑی والی روایت کو شعیب الارناؤوط نے ضعیف قرار دیا۔ اس لیے یہ اضافی تفصیلات سند کے اعتبار سے صحیح بخاری کے اصل واقعے کے درجے کی نہیں ہیں۔
لہٰذا سب سے مضبوط عوامی پیشکش میں ان طبقات کو الگ رکھا جائے: نبی ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کا غار میں پناہ لینا صحیح بخاری سے مضبوط طور پر ثابت ہے، جبکہ مکڑی کے جالے اور دو جنگلی کبوتروں کی تفصیل بعد کی ضعیف روایات میں ملتی ہے۔ صحیح بخاری میں ان اضافی چیزوں کا ذکر نہ ہونا اپنے آپ میں قطعی رد نہیں، مگر ضعیف تفصیلات کو اس طرح بھی پیش نہیں کرنا چاہیے جیسے وہ اسی صحیح روایت سے ثابت ہوں۔
خلاصۂ نتیجہ
سب سے مضبوط نتیجہ یہ ہے کہ نبی ﷺ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا غار میں اللہ کی حفاظت میں رہنا صحیح روایت سے ثابت ہے، جبکہ مکڑی کا جالا اور دو جنگلی کبوتر کمزور کلاسیکی روایات میں محفوظ اضافی تفصیلات ہیں۔ انہیں صرف اسی صورت میں بیان کیا جائے کہ ان کی سندی کمزوری اور اصل الفاظ دونوں واضح رہیں۔
مآخذ
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0086-CLM-01 links this SOURCE to its exact source-grounded CLAIM.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0086-CLM-02 links this SOURCE to its exact source-grounded CLAIM.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0086-CLM-03 links this SOURCE to its exact source-grounded CLAIM.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0086-CLM-04 links this SOURCE to its exact source-grounded CLAIM.