ایک مشہور بعد کی صوفیانہ حکایت میں رابعہ بصری (رابعہ عدویہ) کو ایک ہاتھ میں آگ اور دوسرے میں پانی لیے دکھایا گیا ہے۔ پوچھنے پر وہ جنت کو جلانے اور جہنم کو بجھانے کی تمثیلی بات کرتی ہیں تاکہ عبادت اجر کی سوداگری یا صرف عذاب کے خوف سے آزاد ہو کر اللہ کے لیے ہو۔ یہ مخصوص منظر افلاکی کی طرف منسوب ایک بعد کی مناقبی تمثیل کے طور پر پیش کرنا زیادہ درست ہے، نہ کہ یقینی طور پر ثابت ابتدائی تاریخی کرامت کے طور پر۔
ایک مشہور صوفیانہ حکایت میں رابعہ بصری (رابعہ عدویہ) کو ایک ہاتھ میں آگ اور دوسرے ہاتھ میں پانی لیے تیزی سے جاتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ راستے میں انہیں دیکھنے والے حیران ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ وہ کہاں جا رہی ہیں اور ان چیزوں کا کیا مقصد ہے۔ شمس الدین احمد افلاکی کی طرف منسوب بیان میں رابعہ ایک بہت گہری تمثیل کے ساتھ جواب دیتی ہیں: وہ جنت کو آگ لگانا اور جہنم پر پانی ڈالنا چاہتی ہیں۔ اس جملے کا مقصد کسی حقیقی تباہی کی دعوت دینا نہیں، بلکہ عبادت کے محرک کو ایک یاد رہ جانے والی تصویر کے ذریعے سمجھانا ہے۔
حکایت کا مرکزی سوال یہ ہے کہ اگر انسان کے سامنے جنت کے اجر کی امید اور جہنم کے عذاب کا خوف نہ رہے تو کیا وہ پھر بھی اللہ کی عبادت، اطاعت اور محبت اختیار کرے گا؟ آگ اور پانی اسی سوال کی علامت بن جاتے ہیں۔ جنت اس اجر کی نمائندگی کرتی ہے جس کی خواہش عبادت کا محرک بن سکتی ہے، جبکہ جہنم اس سزا کی علامت ہے جس کے خوف سے انسان نیکی کرے۔ حکایت دونوں محرکات کو ایک لمحے کے لیے منظر سے ہٹا کر ایسی بندگی کا تصور سامنے لاتی ہے جو حساب کتاب اور روحانی سوداگری سے بلند ہو۔
رابعہ سے منسوب دوسری صوفیانہ روایات میں بھی یہی عمومی مضمون ملتا ہے۔ القشیری کی الرسالہ کے جانچے گئے متن میں ان سے ایک مختلف قول نقل ہوا ہے جس میں وہ اپنے دل کے جنت کی طرف متوجہ ہونے کا ذکر کرتی ہیں۔ عطار کی تذکرۃ الاولیاء کے جانچے گئے فارسی باب میں بھی وہ عبادت جو صرف جہنم کے خوف یا جنت کی خواہش پر قائم ہو، کم تر محرک کے طور پر پیش ہوتی ہے۔ یہ متون اس روحانی خیال کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن انہیں اسی آگ اور پانی والے منظر کا براہ راست ماخذ نہیں کہنا چاہیے۔
یہ ماخذی حد اس لیے اہم ہے کہ مخصوص حکایت بعد کی مناقبی روایت میں سامنے آتی ہے۔ افلاکی رابعہ کے زمانے سے کئی صدیوں بعد کے مصنف ہیں، اور یہاں کوئی ایسی ابتدائی حدیثی طرز کی سند محفوظ نہیں جو اس جسمانی منظر کو یقینی تاریخی واقعہ ثابت کر دے۔ جدید علمی مطالعے بھی اس قصے کو افلاکی کی طرف منسوب تمثیل کے طور پر بیان کرتے ہیں اور اسے بے غرض محبتِ الٰہی کی مثال سمجھتے ہیں۔
اس لیے عوامی پیشکش میں حکایت کی روحانی قوت بھی محفوظ رہنی چاہیے اور اس کی تاریخی حد بھی۔ اسے رابعہ بصری (رابعہ عدویہ) سے وابستہ ایک مؤثر صوفیانہ تمثیل کے طور پر سنایا جا سکتا ہے: ایسی عبادت کی تصویر جو اجر کی طلب، عذاب کے خوف اور ذاتی حساب سے بلند ہو کر اللہ کی محبت اور اخلاص کی طرف متوجہ ہو۔ البتہ عین منظر کو ثابت شدہ ابتدائی کرامت یا قطعی تاریخی واقعہ قرار نہ دیا جائے۔
حکایت کا مرکزی سوال یہ ہے کہ اگر انسان کے سامنے جنت کے اجر کی امید اور جہنم کے عذاب کا خوف نہ رہے تو کیا وہ پھر بھی اللہ کی عبادت، اطاعت اور محبت اختیار کرے گا؟ آگ اور پانی اسی سوال کی علامت بن جاتے ہیں۔ جنت اس اجر کی نمائندگی کرتی ہے جس کی خواہش عبادت کا محرک بن سکتی ہے، جبکہ جہنم اس سزا کی علامت ہے جس کے خوف سے انسان نیکی کرے۔ حکایت دونوں محرکات کو ایک لمحے کے لیے منظر سے ہٹا کر ایسی بندگی کا تصور سامنے لاتی ہے جو حساب کتاب اور روحانی سوداگری سے بلند ہو۔
رابعہ سے منسوب دوسری صوفیانہ روایات میں بھی یہی عمومی مضمون ملتا ہے۔ القشیری کی الرسالہ کے جانچے گئے متن میں ان سے ایک مختلف قول نقل ہوا ہے جس میں وہ اپنے دل کے جنت کی طرف متوجہ ہونے کا ذکر کرتی ہیں۔ عطار کی تذکرۃ الاولیاء کے جانچے گئے فارسی باب میں بھی وہ عبادت جو صرف جہنم کے خوف یا جنت کی خواہش پر قائم ہو، کم تر محرک کے طور پر پیش ہوتی ہے۔ یہ متون اس روحانی خیال کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن انہیں اسی آگ اور پانی والے منظر کا براہ راست ماخذ نہیں کہنا چاہیے۔
یہ ماخذی حد اس لیے اہم ہے کہ مخصوص حکایت بعد کی مناقبی روایت میں سامنے آتی ہے۔ افلاکی رابعہ کے زمانے سے کئی صدیوں بعد کے مصنف ہیں، اور یہاں کوئی ایسی ابتدائی حدیثی طرز کی سند محفوظ نہیں جو اس جسمانی منظر کو یقینی تاریخی واقعہ ثابت کر دے۔ جدید علمی مطالعے بھی اس قصے کو افلاکی کی طرف منسوب تمثیل کے طور پر بیان کرتے ہیں اور اسے بے غرض محبتِ الٰہی کی مثال سمجھتے ہیں۔
اس لیے عوامی پیشکش میں حکایت کی روحانی قوت بھی محفوظ رہنی چاہیے اور اس کی تاریخی حد بھی۔ اسے رابعہ بصری (رابعہ عدویہ) سے وابستہ ایک مؤثر صوفیانہ تمثیل کے طور پر سنایا جا سکتا ہے: ایسی عبادت کی تصویر جو اجر کی طلب، عذاب کے خوف اور ذاتی حساب سے بلند ہو کر اللہ کی محبت اور اخلاص کی طرف متوجہ ہو۔ البتہ عین منظر کو ثابت شدہ ابتدائی کرامت یا قطعی تاریخی واقعہ قرار نہ دیا جائے۔
خلاصۂ نتیجہ
آگ اور پانی کی حکایت کو رابعہ بصری (رابعہ عدویہ) سے منسوب ایک بعد کی صوفیانہ تمثیل کے طور پر محفوظ کرنا زیادہ درست ہے، جس کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ عبادت جہنم کے خوف یا جنت کی خواہش کے بجائے اللہ کی محبت اور اخلاص کے لیے ہو۔
مآخذ
Shams al-Din Ahmad Aflaki, Manaqib al-'Arifin, vol. 2, p. 397
Al-Qushayri, al-Risala al-Qushayriyya, vol. 2, p. 413
Farid al-Din 'Attar, Tadhkirat al-Awliya, chapter on Rabi'a al-'Adawiyya
Nusba Parveen, 'The Contribution of Rabi'ah al-'Adawiyyah in Sufism,' Iqbal Review, April 1999