محراب میں حضرت مریم علیہا السلام کے پاس غیر معمولی رزق

ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی تفسیری توضیحقرآن
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

قرآن ۳:۳۷ بیان کرتا ہے کہ جب بھی حضرت زکریا علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام کے پاس محراب میں داخل ہوتے تو ان کے پاس رزق پاتے۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کہاں سے آیا، تو حضرت مریم علیہا السلام نے جواب دیا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ کلاسیکی سنی تفاسیر میں اس رزق کی مشہور توضیح بے موسم پھلوں سے کی گئی ہے، لیکن قرآن خود کھانے کی نوعیت، موسم، مقدار یا پہنچنے کے طریقے کی تعیین نہیں کرتا۔ اگلی آیت میں حضرت زکریا علیہ السلام کی نیک اولاد کے لیے دعا آتی ہے، اور مفسرین اسے اس غیر معمولی منظر سے پیدا ہونے والی امید کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

قرآن ۳:۳۷ میں حضرت مریم بنت عمران علیہا السلام کا ذکر اس ہستی کے طور پر آتا ہے جسے ان کے رب نے حسنِ قبول کے ساتھ قبول فرمایا، اچھی پرورش دی اور حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میں رکھا۔ پھر آیت اس غیر معمولی منظر کو بیان کرتی ہے جو واقعے کا مرکز ہے۔ جب بھی حضرت زکریا علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام کے پاس محراب میں داخل ہوتے، وہ ان کے پاس رزق پاتے۔

حضرت زکریا علیہ السلام نے پوچھا کہ یہ رزق کہاں سے آیا ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام نے جواب دیا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اسی قرآنی سیاق میں اصول بیان ہوتا ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔ اس کی مضبوط ترین بنیاد قرآن ہے؛ رزق کا بار بار ملنا، حضرت زکریا علیہ السلام کا سوال، حضرت مریم علیہا السلام کا جواب اور رزق کو اللہ کی طرف منسوب کرنا آیت میں واضح ہے۔

کلاسیکی سنی تفسیر ایک معروف توضیح بھی نقل کرتی ہے۔ امام طبری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ضحاک، ربیع اور دیگر سے آثار نقل کیے ہیں جن میں حضرت مریم علیہا السلام کے پاس معمول کے موسم سے باہر پھل ملنے کا ذکر ہے۔ ابن کثیر بھی مشہور توضیح بیان کرتے ہیں کہ گرمی کے پھل سردی میں اور سردی کے پھل گرمی میں ملتے تھے، اور اس مقام کو اولیاء کی کرامات کے دلائل میں شمار کرتے ہیں۔ قرطبی اور بغوی بھی یہی عمومی مفہوم بیان کرتے اور اسے اگلی آیت کے سیاق سے جوڑتے ہیں۔

فوراً بعد قرآن ۳:۳۸ میں آتا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے پاکیزہ اولاد کی دعا کی۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت مریم علیہا السلام کے لیے اللہ کی غیر معمولی رزق رسانی دیکھ کر ان کی امید بڑھی کہ اللہ انہیں بڑھاپے میں بھی اولاد عطا فرما سکتا ہے۔ یہ دعا اہم فوری سیاق ہے، لیکن حضرت مریم علیہا السلام کے رزق کے واقعے کے بعد کا مرحلہ ہے؛ اسے اسی واقعے میں دوسری کرامت بنا کر شامل نہیں کرنا چاہیے۔

عوامی بیان میں وحی کے متن اور بعد کی تفسیری وضاحت کی حد واضح رہنی چاہیے۔ قرآن ۳:۳۷ یہ نہیں بتاتا کہ رزق کون سا کھانا تھا، کتنی مقدار میں تھا، کس موسم میں آیا، کس ذریعے سے پہنچا یا کوئی انسانی واسطہ تھا۔ اس لیے گرمی اور سردی کے بے موسم پھلوں کی تفصیل کلاسیکی تفسیر ہے، قرآن کے لفظی متن کا حصہ نہیں۔

مضبوط ترین نتیجہ یہ ہے کہ قرآن حضرت مریم علیہا السلام کے محراب میں ایسے رزق کا واضح ذکر کرتا ہے جس نے حضرت زکریا علیہ السلام کو اس کے ماخذ کے بارے میں سوال کرنے پر آمادہ کیا، اور حضرت مریم علیہا السلام نے اسے اللہ کی طرف منسوب کیا۔ کلاسیکی سنی مفسرین نے اس واقعے کو حضرت مریم علیہا السلام کی کرامت سمجھا اور عموماً رزق کی توضیح بے موسم پھلوں سے کی، جبکہ یہ موسمی تفصیل تفسیری روایت کی سطح پر رہتی ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

قرآن ۳:۳۷ صراحت سے بیان کرتا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام بار بار حضرت مریم علیہا السلام کے پاس محراب میں رزق پاتے اور وہ اسے اللہ کی طرف منسوب کرتی تھیں، جو جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ کلاسیکی سنی تفسیر نے اسے حضرت مریم علیہا السلام کی کرامت کے طور پر سمجھا اور عموماً بے موسم پھلوں سے اس کی توضیح کی، تاہم یہ موسمی تفصیل قرآنی الفاظ نہیں بلکہ تفسیری بیان ہے۔

مآخذ

Ali 'Imran 3:37
Ali 'Imran 3:37
Ali 'Imran 3:37
Ali 'Imran 3:37
Ali 'Imran 3:37
Ali 'Imran 3:38
Tafsir al-Tabari on Ali 'Imran 3:37
Tafsir al-Tabari on Ali 'Imran 3:37
Tafsir Ibn Kathir on Ali 'Imran 3:37
Tafsir al-Qurtubi on Ali 'Imran 3:37
Tafsir al-Baghawi on Ali 'Imran 3:37
Tafsir al-Tabari on Ali 'Imran 3:38
Qur'an/tafsir evidence-layer comparison
Current PER-000376 person evidence and CAND-0024 identity lock
CAND-0024 Task 1 evidence synthesis