اس اندراج میں اب تین چیزیں ایک ساتھ واضح ہیں: قرآن کی آیتِ وسیلہ، حدیثِ نابینا کی اصل عربی دعا مع اردو ترجمہ، اور شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ سے منسوب مکمل قادری صیغۂ توسل مع ترجمہ۔ خلاصة المفاخر اسی عبارت سے پہلے ایک کرامت بھی نقل کرتی ہے کہ شیخ کے ایک ساتھی نے چینی سے لدے چار گم شدہ بوجھ کے وقت آپ کو پکارا اور پھر وہ بوجھ مل گئے۔ یہ مناقبی روایت بعد کے قادری ماخذ کی ہے، جبکہ حاجت اور تکمیل اللہ تعالیٰ کے اذن کی طرف منسوب رکھی گئی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
ترجمہ: “اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔”
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کی حدیثِ نابینا میں نبی کریم ﷺ نے یہ دعا سکھائی، اور امام ترمذی نے اسے حسن صحیح غریب کہا:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى لِي، اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ
اردو ترجمہ: “اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد، نبیِ رحمت کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ میں اپنی اس حاجت میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا ہوں تاکہ میری حاجت پوری ہو۔ اے اللہ! میرے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما۔”
قادری ماخذ میں مکمل منسوب صیغہ یوں ہے:
مَنْ اسْتَغَاثَ بِي فِي كُرْبَةٍ كُشِفَتْ عَنْهُ، وَمَنْ نَادَانِي بِاسْمِي فِي شِدَّةٍ فُرِّجَتْ عَنْهُ، وَمَنْ تَوَسَّلَ بِي إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَةٍ قُضِيَتْ لَهُ، وَمَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بَعْدَ الْفَاتِحَةِ سُورَةَ الْإِخْلَاصِ إِحْدَى عَشْرَةَ مَرَّةً، وَيُصَلِّي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ السَّلَامِ وَيَذْكُرُهُ، ثُمَّ يَخْطُو إِلَى الْعِرَاقِ إِحْدَى عَشْرَةَ خُطْوَةً، وَيَذْكُرُ اسْمِي وَيَذْكُرُ حَاجَتَهُ، فَإِنَّهَا تُقْضَى بِإِذْنِ اللَّهِ تَعَالَى.
اردو ترجمہ: “جو مصیبت میں مجھ سے فریاد کرے اس کی مصیبت دور کی جائے، جو سختی میں میرا نام لے اسے کشادگی دی جائے، اور جو حاجت میں مجھے اللہ عزوجل کی طرف وسیلہ بنائے اس کی حاجت پوری کی جائے۔ جو دو رکعت نماز پڑھے، ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص گیارہ مرتبہ پڑھے، نماز کے بعد رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجے، پھر عراق کی طرف گیارہ قدم چلے، میرا نام لے اور اپنی حاجت بیان کرے، تو وہ حاجت اللہ تعالیٰ کے اذن سے پوری کی جائے۔”
اسی کتاب میں اس عبارت سے فوراً پہلے ایک کرامت کی حکایت ہے۔ شیخ کے ایک ساتھی نے بیان کیا کہ نیشاپور یا خوارزم کے راستے میں ایک خوفناک بیابان میں اس کے چینی سے لدے چار اونٹوں کے بوجھ گم ہوگئے اور قافلہ آگے نکل گیا۔ فجر کے وقت اسے شیخ سے منسوب یہ قول یاد آیا کہ سختی میں مجھے پکارو، چنانچہ اس نے کہا: “یا شیخ عبدالقادر، میرے اونٹ!” پھر اسے ایک ٹیلے پر ایک شخص اشارہ کرتا دکھائی دیا۔ جب وہ ٹیلے پر پہنچا تو کوئی نہ تھا، مگر نیچے اس کے چاروں گم شدہ بوجھ موجود تھے؛ وہ انہیں لے کر قافلے سے جا ملا۔
یہ حکایت بعد کی قادری مناقبی کرامت کے طور پر محفوظ ہے، ابتدائی حدیثی سند والی روایت نہیں۔ مفہوم یہ رکھا گیا ہے کہ حاجت اللہ تعالیٰ سے ہے، بزرگ وسیلہ ہیں اور تکمیل اللہ کے اذن سے ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
اب یہ اندراج محض عقیدتی تشریح نہیں بلکہ ایک منقول کرامت کے واقعے کے ساتھ مکمل ہے: قادری صیغہ، اس کا اللہ تعالیٰ کی طرف توسل والا مفہوم، حدیثِ نابینا کی دعا، اور اسی ماخذ میں موجود گم شدہ بوجھ ملنے کی حکایت سب ایک ساتھ محفوظ ہیں۔
مآخذ
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0088-CLM-01 links this SOURCE to its exact source-grounded CLAIM.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0088-CLM-02 links this SOURCE to its exact source-grounded CLAIM.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0088-CLM-03 links this SOURCE to its exact source-grounded CLAIM.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0088-CLM-04 links this SOURCE to its exact source-grounded CLAIM.
NEW_SUNNI_SOURCE_LINK=PASS
NEW_SUNNI_SOURCE_LINK=PASS
NEW_SUNNI_SOURCE_LINK=PASS
NEW_SUNNI_SOURCE_LINK=PASS
NEW_SUNNI_SOURCE_LINK=PASS
NEW_KARAMAH_SOURCE_LINK=PASS