حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دریائے نیل کے نام خط اور قدیم مصری رسم کا خاتمہ

صحابی/صحابیہ کی کرامتعبرترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

کلاسیکی مصری مصادر میں ایک روایت محفوظ ہے کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے زمانۂ حکومت میں اہلِ مصر نے دریائے نیل کے سالانہ بہاؤ سے وابستہ ایک قدیم رسم کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق قبطی مہینے بؤنہ کی بارہ راتیں گزرنے پر ایک کنواری لڑکی منتخب کی جاتی، اس کے والدین کو راضی کیا جاتا، اسے بہترین لباس اور زیور پہنایا جاتا اور پھر نیل میں ڈال دیا جاتا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ رسم ختم کر دی۔ جب نیل حسبِ معمول نہ بڑھا تو انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا، جنہوں نے ایک تحریر بھیجی کہ دریا صرف اللہ کے حکم سے جاری ہوتا ہے۔ روایت کے مطابق یہ تحریر نیل میں ڈالنے کے بعد پانی نمایاں طور پر بڑھ گیا۔ محفوظ سند کمزور اور منقطع ہے، اس لیے واقعہ کو قطعی تاریخ کے بجائے محتاط کلاسیکی کرامت کی روایت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

کلاسیکی مصری تاریخ میں ایک مشہور روایت حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے زمانۂ حکومت سے متعلق محفوظ ہے۔ اہلِ مصر کے کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور بتایا کہ دریائے نیل کے سالانہ چڑھاؤ کے ساتھ ان کی ایک پرانی رسم وابستہ ہے۔ ان کے مطابق قبطی مہینے بؤنہ کی بارہ راتیں گزرنے کے بعد وہ اپنے والدین کے پاس رہنے والی ایک کنواری لڑکی کو منتخب کرتے، اس کے والدین کو راضی کرتے، لڑکی کو بہترین لباس اور عمدہ زیور پہناتے، پھر اسے دریائے نیل میں ڈال دیتے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس رسم کے بغیر نیل کا پانی اپنے موسم میں نہیں چڑھے گا۔

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس رسم کو صاف طور پر مسترد کر دیا اور بتایا کہ اسلام ایسی جاہلی رسم کو جاری نہیں رکھتا۔ چنانچہ لوگوں نے یہ عمل چھوڑ دیا۔ روایت کے مطابق اس کے بعد نیل کا پانی متوقع وقت پر نہ بڑھا اور حالات اس قدر مشکل ہونے لگے کہ بعض لوگ علاقہ چھوڑنے کے بارے میں سوچنے لگے، کیونکہ مصر کی زراعت اور روزمرہ زندگی بڑی حد تک دریا کے بہاؤ پر قائم تھی۔

حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے تمام صورتِ حال حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ تم نے درست کیا کہ اس پرانی رسم کو ختم کر دیا، کیونکہ اسلام ایسی چیزوں کو مٹاتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک مختصر تحریر بھیجی جسے نیل میں ڈالنے کا کہا۔ روایت میں اس تحریر کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اے نیل، تو خود اپنی طاقت سے جاری ہوتا ہے تو نہ جاری ہو، اور اگر اللہ واحد و قہار تجھے جاری فرماتا ہے تو ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تجھے جاری فرمائے۔

روایت کے مطابق حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے وہ تحریر نیل میں ڈال دی۔ اگلی صبح پانی سولہ ذراع بڑھنے کا ذکر آتا ہے اور اس کے بعد وہ پرانی رسم ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ اس قصے کا مرکزی مفہوم تحریر کو کوئی مستقل طاقت دینا نہیں، بلکہ انسانی قربانی کی رسم کو ختم کرنا اور یہ واضح کرنا ہے کہ دریا کا بہاؤ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔

یہ روایت ابن عبدالحکم کے ہاں محفوظ ہے اور امام لالکائی اور ابو الشیخ اصفہانی نے بھی اسی بنیادی روایتی سلسلے سے اسے نقل کیا ہے۔ موجود سند میں ابن لہیعہ، قیس بن حجاج اور ایک نامعلوم واسطہ آتا ہے، اس لیے اسے صحیح متصل سند نہیں کہا جا سکتا۔ مناسب علمی انداز یہ ہے کہ واقعے کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک معروف کلاسیکی روایت کے طور پر بیان کیا جائے، سند کی کمزوری واضح رکھی جائے اور ایسی جدید پیمائش یا سائنسی توجیہ نہ بڑھائی جائے جو اصل ماخذ میں موجود نہیں۔

خلاصۂ نتیجہ

روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ذریعے نیل سے وابستہ انسانی قربانی کی ایک پرانی رسم کے خاتمے اور دریا کے بہاؤ کو صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے وابستہ کرنے کا بیان ہے۔ اسے سندی احتیاط کے ساتھ کلاسیکی منقول کرامت کے طور پر پیش کرنا زیادہ درست ہے۔

مآخذ

Ibn Abd al-Hakam, Futuh Misr wa al-Maghrib, chapter 'Dhikr al-Nil'
Al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunnah wa al-Jama'ah, Karamat al-Awliya, athar 66
Abu al-Shaykh al-Asbahani, al-'Azamah 937