حضرت جریج کی بے گناہی: شیر خوار بچے کی گواہی جس نے جھوٹا الزام ختم کردیا

الٰہی نجاتعبرترحمت یا برکتمخالفین پر حجتصحیح حدیث
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

صحیح بخاری ۳۴۳۶، ۲۴۸۲ اور صحیح مسلم ۲۵۵۰ الف بنی اسرائیل کے عابد حضرت جریج کا واقعہ محفوظ کرتی ہیں۔ والدہ کی پکار کے باوجود وہ نماز میں مشغول رہے، پھر ایک عورت نے انہیں گناہ پر آمادہ کرنا چاہا مگر ناکام رہی۔ وہ ایک چرواہے سے حاملہ ہوئی اور بچے کی نسبت جھوٹے طور پر حضرت جریج کی طرف کردی۔ لوگوں نے عبادت گاہ گرا دی اور انہیں رسوا کیا۔ حضرت جریج نے وضو اور نماز کے بعد شیر خوار بچے سے پوچھا کہ اس کا باپ کون ہے؛ بچے نے بول کر چرواہے کی نشاندہی کردی اور حضرت جریج کی بے گناہی ظاہر ہوگئی۔

حضرت جریج بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار شخص تھے جو اپنی عبادت گاہ میں اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ صحیح روایات جھوٹے الزام سے پہلے کا پس منظر بھی بیان کرتی ہیں۔ ایک مرتبہ ان کی والدہ اس وقت آئیں جب وہ نماز میں مشغول تھے اور انہیں پکارا۔ حضرت جریج کے دل میں سوال پیدا ہوا کہ والدہ کو جواب دیں یا نماز جاری رکھیں، مگر انہوں نے نماز جاری رکھی۔ والدہ دوبارہ آئیں اور پکارا، مگر وہ عبادت میں مصروف رہے۔ صحیح مسلم کی تفصیلی روایت میں یہ کیفیت بار بار پیش آئی، یہاں تک کہ والدہ نے دعا کی کہ جریج بدکار عورتوں کے چہرے دیکھے بغیر نہ مریں۔

کچھ عرصے بعد ایک عورت حضرت جریج کے پاس آئی اور انہیں گناہ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، مگر انہوں نے انکار کردیا۔ وہ عورت پھر ایک چرواہے کے پاس گئی اور اس سے حاملہ ہوگئی۔ جب بچہ پیدا ہوا تو اس نے لوگوں کے سامنے جھوٹا دعویٰ کردیا کہ یہ بچہ جریج کا ہے۔

الزام پھیلتے ہی لوگ غصے میں حضرت جریج کی عبادت گاہ پر پہنچ گئے۔ صحیح بخاری بیان کرتی ہے کہ انہوں نے عبادت گاہ گرا دی، حضرت جریج کو باہر نکالا اور برا بھلا کہا۔ صحیح مسلم مزید بیان کرتی ہے کہ لوگ اوزار لے کر آئے، عمارت گرانا شروع کردی اور انہیں عورت کے الزام کا سامنا کرایا۔

حضرت جریج نے گھبراہٹ یا بدلے کے بجائے وضو کیا اور نماز پڑھی۔ پھر وہ شیر خوار بچے کے پاس گئے۔ صحیح بخاری کے مطابق انہوں نے پوچھا: اے بچے، تمہارا باپ کون ہے؟ صحیح مسلم کی متوازی روایت میں ہے کہ انہوں نے بچے کے سر کو چھوا اور یہی سوال کیا۔

تب وہ غیر معمولی لمحہ آیا جس نے پورا الزام پلٹ دیا۔ شیر خوار بچہ بول اٹھا اور بتایا کہ اس کا باپ چرواہا ہے۔ بچے کی واضح گواہی نے عورت کا دعویٰ جھوٹا ثابت کردیا اور حضرت جریج پر لگایا گیا الزام ختم ہوگیا۔ صحیح روایات اس بچے کو ان غیر معمولی بچوں میں شمار کرتی ہیں جنہوں نے گہوارے کی عمر میں کلام کیا۔

جو لوگ حضرت جریج کی عبادت گاہ گرا چکے تھے، بچے کا جواب سن کر بدل گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ انہوں نے عبادت گاہ سونے سے بنانے کی پیشکش کی، جبکہ صحیح مسلم میں سونے اور چاندی دونوں کا ذکر ہے۔ حضرت جریج نے یہ شان و شوکت قبول نہ کی اور فرمایا کہ اسے پہلے کی طرح مٹی ہی سے بنایا جائے۔ پھر وہ دوبارہ اپنی عبادت کی طرف لوٹ گئے۔

یوں یہ داستان صرف شیر خوار بچے کے بولنے تک محدود نہیں۔ اس میں والدہ کی پکار، گناہ کی دعوت سے انکار، جھوٹا نسبی الزام، عوامی رسوائی، عبادت گاہ کی تباہی اور آخرکار ایسی غیر معمولی گواہی ایک ہی مستند سلسلے میں آتی ہے جس نے ایک بے گناہ عابد کو بری کردیا۔ عورت، چرواہے اور بچے کے ذاتی نام صحیح روایات میں نہیں، اس لیے انہیں گھڑنا درست نہیں۔

خلاصۂ نتیجہ

یہ اعلیٰ اعتماد کے ساتھ الٰہی مدد اور بے گناہی ظاہر ہونے کا واقعہ ہے۔ حضرت جریج پر بچے کی ولدیت کا جھوٹا الزام لگا، عبادت گاہ گرادی گئی اور انہیں رسوا کیا گیا؛ وضو اور نماز کے بعد انہوں نے بچے سے والد کے بارے میں پوچھا تو شیر خوار بچے نے معجزانہ طور پر چرواہے کو باپ بتایا۔ الزام ختم ہوگیا اور حضرت جریج نے عبادت گاہ کو قیمتی دھاتوں کے بجائے پہلے کی طرح مٹی سے بنانے کو ترجیح دی۔ یہ جھوٹے الزام کی سنگینی اور اللہ کی طرف سے غیر معمولی انداز میں حق ظاہر ہونے کی روشن مثال ہے۔

مآخذ

Sahih al-Bukhari 3436
Sahih al-Bukhari 2482
Sahih Muslim 2550a
Sahih al-Bukhari 1206