بعد کے معتبر تاریخی مصادر حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ کا ایک مؤثر واقعہ محفوظ کرتے ہیں۔ یمن میں جھوٹے مدعیِ نبوت اسود عنسی نے انہیں بلایا اور اپنے دعوے کو ماننے کا مطالبہ کیا۔ حضرت ابو مسلم رحمہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی گواہی دی مگر اسود کے دعوے کو رد کردیا۔ ایک بڑی آگ جلائی گئی اور انہیں اس میں ڈال دیا گیا، مگر روایت کے مطابق آگ نے انہیں نقصان نہیں پہنچایا۔ اسود کے لوگوں نے مشورہ دیا کہ انہیں یمن سے نکال دیا جائے۔ بعد میں وہ مدینہ پہنچے، جہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے واقعے سے انہیں پہچان لیا، گلے لگایا اور رو پڑے۔
جب دباؤ سے بات نہ بنی تو اسود نے ایک بڑی آگ جلانے کا حکم دیا۔ تاریخی روایت بیان کرتی ہے کہ حضرت ابو مسلم رحمہ اللہ کو اس آگ میں ڈال دیا گیا، مگر آگ نے انہیں نقصان نہیں پہنچایا۔
اسود کے اپنے لوگوں کو خوف ہوا کہ اگر ابو مسلم یمن میں رہے تو ان کا آگ سے محفوظ رہنا اسود کے پیروکاروں کو متاثر کرے گا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ انہیں علاقے سے نکال دیا جائے۔ چنانچہ حضرت ابو مسلم کو روانہ ہونے کا حکم دیا گیا۔
وہ مدینہ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ وصال فرما چکے تھے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے۔ روایت کے مطابق حضرت ابو مسلم نے اپنی سواری مسجد کے دروازے پر باندھی، اندر داخل ہوئے اور ایک ستون کے پاس نماز پڑھنے لگے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا اور پوچھا: تم کہاں کے ہو؟ انہوں نے کہا: یمن سے۔ حضرت عمر نے اس شخص کے بارے میں پوچھا جسے اس کذاب نے آگ میں ڈالا تھا مگر آگ نے نقصان نہیں پہنچایا۔ حضرت ابو مسلم نے کہا: وہ عبد اللہ بن ثوب ہے۔ حضرت عمر نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا: کیا تم ہی وہ شخص ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔
متوازی تاریخی روایات کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں گلے لگا لیا اور رو پڑے۔ پھر انہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور اپنے اور ان کے درمیان بٹھایا۔ حضرت عمر نے اللہ کی حمد کی کہ اس نے امتِ محمد ﷺ میں ایسا شخص دکھایا جس کے ساتھ آگ سے نجات کا ایسا واقعہ منقول ہوا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نجات کی یاد دلاتا ہے۔
یوں مرکزی داستان واضح ہے: جھوٹے مدعی کے سامنے ایمان پر استقامت، بڑی آگ میں ڈالے جانے کے باوجود محفوظ رہنے کی روایت، یمن سے نکالا جانا، اور پھر مدینہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پہچان کر عزت دینا۔ البتہ امام ذہبی نے صراحت کی ہے کہ شرحبیل نے یہ حکایت مرسل طور پر روایت کی، اس لیے اسے بلا قید مکمل متصل صحیح حدیث نہیں کہا جائے گا۔
خلاصۂ نتیجہ
یہ درجہ بندی کے اعتبار سے اعلیٰ اعتماد والی الٰہی نجات ہے، جبکہ خود تاریخی روایت سندی احتیاط کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ محفوظ مرکزی قصہ یہ ہے کہ حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ نے اسود عنسی کے جھوٹے دعوے کو رد کیا، روایت کے مطابق عظیم آگ میں ڈالے جانے کے باوجود محفوظ رہے، اور بعد میں مدینہ پہنچے جہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں پہچان کر عزت دی۔ اس واقعے کو ایمان پر استقامت اور غیر معمولی نجات کی کلاسیکی روایت کے طور پر بیان کرنا درست ہے، ساتھ ہی امام ذہبی کی مرسل والی تنبیہ برقرار رہنی چاہیے۔