صحیح مسلم اصحاب الاخدود کے مومن لڑکے کی طویل روایت میں ایک نہایت واضح شفا کا واقعہ محفوظ کرتی ہے۔ بادشاہ کا ایک نابینا درباری تحائف لے کر لڑکے کے پاس آیا اور بینائی کی بحالی چاہی۔ لڑکے نے فوراً اپنی مستقل شفا دینے کی قدرت سے انکار کیا اور کہا کہ شفا صرف اللہ دیتا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر درباری اللہ پر ایمان لائے تو وہ اس کے لیے دعا کرے گا۔ درباری ایمان لایا، لڑکے نے اللہ سے دعا کی، اور اللہ نے اس کی بینائی واپس کر دی۔ جامع ترمذی اور صحیح ابن حبان بھی اسی بنیادی واقعے کے متوازی طرق محفوظ کرتے ہیں۔
لڑکا خود کو مستقل شفا دینے والا تسلیم نہیں کرتا۔ صحیح مسلم میں وہ صاف الفاظ میں کہتا ہے کہ میں کسی کو شفا نہیں دیتا، شفا دینے والا اللہ ہے۔ یہی جملہ اس قصے کے معنی کو متعین کرتا ہے۔ آگے جو غیر معمولی نتیجہ ظاہر ہوتا ہے، اس کی اصل نسبت اللہ کی قدرت کی طرف رہتی ہے، جبکہ لڑکے کا کردار ایمان کی دعوت اور دعا تک محدود ہے۔
اس کے بعد لڑکا نابینا درباری کے سامنے ایک واضح شرط رکھتا ہے۔ اگر وہ اللہ پر ایمان لائے تو لڑکا اس کے لیے اللہ سے دعا کرے گا۔ درباری اللہ پر ایمان لے آتا ہے۔ لڑکا دعا کرتا ہے، اور روایت کہتی ہے کہ اللہ نے اسے شفا عطا کی اور اس کی بینائی واپس آگئی۔ وہ دوبارہ بادشاہ کے پاس جاتا ہے اور پہلے کی طرح اس کے قریب بیٹھتا ہے۔
پھر روایت شفا کے عقیدتی نتیجے کو مزید واضح کرتی ہے۔ بادشاہ پوچھتا ہے کہ تمہاری بینائی کس نے واپس کی؟ درباری جواب دیتا ہے: میرے رب نے۔ بادشاہ اس پر ناراض ہوتا ہے کہ کیا میرے سوا بھی تمہارا کوئی رب ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا رب اور تمہارا رب اللہ ہے۔ یوں شفا کا واقعہ محض جسمانی بحالی نہیں رہتا بلکہ اللہ کی ربوبیت کی گواہی اور باطل اقتدار کے مقابل دلیل بن جاتا ہے۔
جامع ترمذی ۳۳۴۰ یہی مرکزی ترتیب مختصر متوازی صورت میں محفوظ کرتی ہے۔ نابینا شخص اس ہستی پر ایمان لانے پر آمادہ ہوتا ہے جو اس کی بینائی واپس کر سکتی ہے، لڑکا اللہ سے دعا کرتا ہے، اللہ اس کی بینائی لوٹا دیتا ہے اور وہ ایمان لے آتا ہے۔ صحیح ابن حبان ۸۷۳ بھی یہی بنیادی مفہوم محفوظ کرتی ہے: لڑکے کا مستقل شفا دینے کی قدرت سے انکار، اللہ پر ایمان کی دعوت، دعا، اور اللہ کی طرف سے شفا۔
اس امیدوار کی عوامی کہانی کو اسی شفا کے منظر تک محدود رکھنا ضروری ہے۔ اسی طویل حدیث میں بڑے جانور کا واقعہ، پہاڑ اور سمندر سے لڑکے کی نجات، اس کی شہادت اور اصحاب الاخدود کے بعد کے مراحل بھی آتے ہیں۔ وہ الگ واقعات ہیں اور انہیں یہاں شامل نہیں کرنا چاہیے۔ مقفول مصادر لڑکے کا ذاتی نام نہیں بتاتے، اس لیے کوئی نام گھڑنا بھی درست نہیں۔
محفوظ مرکز بالکل واضح ہے: ایک نابینا درباری شفا چاہتا ہے، مومن لڑکا اسے اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے، وہ ایمان لاتا ہے، لڑکا دعا کرتا ہے، اور اللہ اس کی بینائی واپس کر دیتا ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
حیثیتِ واقعہ: یہ صحیح مسلم کی صریح روایت اور جامع ترمذی و صحیح ابن حبان کے متوازی طرق پر قائم اعلیٰ اعتماد کی صالح بندے کی کرامت ہے۔ اس کا محفوظ مرکز نابینا درباری کا ایمان لانا، مومن لڑکے کا اللہ سے دعا کرنا، اور اللہ کی طرف سے اس کی بینائی واپس ہونا ہے۔ شفا کی اصل قدرت مکمل طور پر اللہ ہی کی طرف منسوب رہتی ہے۔