ابن ابی الدنیا نے ایک پڑوسی لڑکے کی روایت محفوظ کی ہے جو تقریباً بارہ برس کی عمر تک گنجا رہا۔ اس کے والد اسے حبیب عجمی رحمہ اللہ کے پاس لائے اور دعا کی درخواست کی۔ روایت کے مطابق حبیب رحمہ اللہ روئے، لڑکے کے لیے دعا کی اور اپنے آنسو اس کے سر پر ملے۔ لڑکے کے جانے سے پہلے بالوں کی جڑیں سیاہ ہونے لگیں اور بعد میں اس کے بال بڑھنے کا ذکر آیا۔ ایک نامی گواہ کے بارے میں بھی منقول ہے کہ اس نے لڑکے کو پہلے اور بعد دونوں حالتوں میں دیکھا۔
ابن ابی الدنیا ایک زاہدانہ روایت محفوظ کرتے ہیں جس میں ایک پڑوسی لڑکے کا ذکر ہے جو تقریباً بارہ برس کی عمر تک گنجا رہا۔ اس کے والد اسے حبیب عجمی رحمہ اللہ کے پاس لائے اور درخواست کی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کریں۔ حکایت کی ابتدا اسی سادہ منظر سے ہوتی ہے کہ ایک باپ اپنے بچے کو دعا کی امید کے ساتھ ایسے شخص کی خدمت میں لے کر آیا جو عبادت، زہد اور دعا کے لیے معروف تھا۔
روایت کے مطابق لڑکے کی حالت دیکھ کر حبیب عجمی رحمہ اللہ پر رقت طاری ہوئی۔ وہ روئے، اس کے لیے دعا کی، اور اپنے آنسو اس کے سر پر ملے۔ روایت دعا کے کوئی متعین الفاظ نقل نہیں کرتی، اس لیے اصل قصہ انہی اعمال کے گرد رہتا ہے: حبیب رحمہ اللہ کا رونا، لڑکے کے لیے اللہ سے دعا کرنا، اور پھر اپنے آنسو اس کے سر پر ملنا۔ اس مرحلے پر روایت کسی لمبی گفتگو یا اضافی تفصیل میں نہیں جاتی۔
پھر حکایت لڑکے کے وہاں سے جانے سے پہلے ایک ظاہری تبدیلی کا ذکر کرتی ہے۔ روایت میں ہے کہ اس کے بالوں کی جڑیں سیاہ ہونے لگیں۔ اس کے بعد بیان کیا گیا ہے کہ اس کے سر پر بال بڑھتے رہے۔ یوں واقعے کا سلسلہ واضح ہے: والد لڑکے کو لے کر آتا ہے، حبیب رحمہ اللہ دعا کرتے اور روتے ہیں، بالوں کی جڑیں سیاہ ہوتی ہیں، اور بعد میں بال بڑھنے کا ذکر آتا ہے۔ پوری حکایت اسی مرحلہ وار تبدیلی کو مرکزی واقعہ بناتی ہے۔
روایت میں مجاشع الدیری نامی شخص کا ذکر بھی بطور مشاہدہ کرنے والے کے آتا ہے۔ ان کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے اس لڑکے کو پہلے گنجا دیکھا تھا اور بعد میں اسے بالوں کے ساتھ بھی دیکھا۔ یہ پہلے اور بعد کی حالت کا بیان حکایت میں ایک ایسے نامی گواہ کو شامل کرتا ہے جو دونوں مرحلوں کو دیکھنے والا بتایا گیا ہے۔ اس طرح قصہ صرف باپ اور حبیب عجمی رحمہ اللہ کی ملاقات تک محدود نہیں رہتا بلکہ بعد کی حالت کا مشاہدہ بھی نقل کرتا ہے۔
ابن ابی الدنیا نے یہ واقعہ مجابو الدعوۃ میں محفوظ کیا، جبکہ لالکائی نے بعد میں حبیب عجمی رحمہ اللہ کی کرامات سے متعلق مواد میں اسی بنیادی روایت کو نقل کیا۔ پوری حکایت ایک ہی منقول واقعے پر مرکوز رہتی ہے: باپ کی دعا کی درخواست، حبیب رحمہ اللہ کا رونا اور دعا کرنا، بالوں کی جڑوں کا سیاہ ہونا، پھر لڑکے کے سر پر بال بڑھنے کا ذکر، اور ایک نامی گواہ کا اسے پہلے اور بعد دونوں حالتوں میں دیکھنا۔
روایت کے مطابق لڑکے کی حالت دیکھ کر حبیب عجمی رحمہ اللہ پر رقت طاری ہوئی۔ وہ روئے، اس کے لیے دعا کی، اور اپنے آنسو اس کے سر پر ملے۔ روایت دعا کے کوئی متعین الفاظ نقل نہیں کرتی، اس لیے اصل قصہ انہی اعمال کے گرد رہتا ہے: حبیب رحمہ اللہ کا رونا، لڑکے کے لیے اللہ سے دعا کرنا، اور پھر اپنے آنسو اس کے سر پر ملنا۔ اس مرحلے پر روایت کسی لمبی گفتگو یا اضافی تفصیل میں نہیں جاتی۔
پھر حکایت لڑکے کے وہاں سے جانے سے پہلے ایک ظاہری تبدیلی کا ذکر کرتی ہے۔ روایت میں ہے کہ اس کے بالوں کی جڑیں سیاہ ہونے لگیں۔ اس کے بعد بیان کیا گیا ہے کہ اس کے سر پر بال بڑھتے رہے۔ یوں واقعے کا سلسلہ واضح ہے: والد لڑکے کو لے کر آتا ہے، حبیب رحمہ اللہ دعا کرتے اور روتے ہیں، بالوں کی جڑیں سیاہ ہوتی ہیں، اور بعد میں بال بڑھنے کا ذکر آتا ہے۔ پوری حکایت اسی مرحلہ وار تبدیلی کو مرکزی واقعہ بناتی ہے۔
روایت میں مجاشع الدیری نامی شخص کا ذکر بھی بطور مشاہدہ کرنے والے کے آتا ہے۔ ان کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے اس لڑکے کو پہلے گنجا دیکھا تھا اور بعد میں اسے بالوں کے ساتھ بھی دیکھا۔ یہ پہلے اور بعد کی حالت کا بیان حکایت میں ایک ایسے نامی گواہ کو شامل کرتا ہے جو دونوں مرحلوں کو دیکھنے والا بتایا گیا ہے۔ اس طرح قصہ صرف باپ اور حبیب عجمی رحمہ اللہ کی ملاقات تک محدود نہیں رہتا بلکہ بعد کی حالت کا مشاہدہ بھی نقل کرتا ہے۔
ابن ابی الدنیا نے یہ واقعہ مجابو الدعوۃ میں محفوظ کیا، جبکہ لالکائی نے بعد میں حبیب عجمی رحمہ اللہ کی کرامات سے متعلق مواد میں اسی بنیادی روایت کو نقل کیا۔ پوری حکایت ایک ہی منقول واقعے پر مرکوز رہتی ہے: باپ کی دعا کی درخواست، حبیب رحمہ اللہ کا رونا اور دعا کرنا، بالوں کی جڑوں کا سیاہ ہونا، پھر لڑکے کے سر پر بال بڑھنے کا ذکر، اور ایک نامی گواہ کا اسے پہلے اور بعد دونوں حالتوں میں دیکھنا۔
خلاصۂ نتیجہ
حکایت اس منقول نتیجے پر ختم ہوتی ہے کہ حبیب عجمی رحمہ اللہ کے رونے اور دعا کے بعد لڑکے کے بال بڑھنے لگے، اور ایک نامی گواہ کے بارے میں پہلے اور بعد دونوں حالتیں دیکھنے کا ذکر آتا ہے۔
مآخذ
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 96
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 96
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 96
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 96
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 96
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 96: Mujashi' says he saw the boy before and after
al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna, report 194
al-Dhahabi, Mizan al-I'tidal, entry al-Abbas ibn al-Fadl al-Azraq
Tahdhib al-Kamal material for al-Abbas ibn al-Fadl al-Azraq
CAND-0172 Task 1 evidence synthesis