صحیح مسلم ۳۰۰۵ میں ظالم بادشاہ کی مؤمن لڑکے کو قتل کرنے کی دو مسلسل کوششیں محفوظ ہیں۔ لڑکے نے دین چھوڑنے سے انکار کیا تو پہلے اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے جا کر نیچے پھینکنے کا حکم دیا گیا۔ لڑکے نے اللہ سے دعا کی کہ وہ جس طرح چاہے اسے ان لوگوں کے مقابلے میں کافی ہوجائے؛ پہاڑ ہلا، اسے لے جانے والے گر گئے اور وہ سلامت چل کر بادشاہ کے پاس واپس آگیا۔ پھر اسے کشتی میں سمندر کے درمیان لے جا کر پانی میں پھینکنے کا حکم ہوا۔ اس نے دوبارہ دعا کی، کشتی الٹ گئی، اسے قتل کرنے والے ڈوب گئے اور وہ پھر محفوظ واپس آکر بولا کہ اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا۔
پہلا منصوبہ یہ تھا کہ لڑکے کو ایک بلند پہاڑ کی چوٹی پر لے جایا جائے۔ بادشاہ نے اپنے چند آدمیوں کو حکم دیا کہ وہاں پہنچ کر اسے دوبارہ دین چھوڑنے کو کہیں، اور اگر وہ انکار کرے تو اسے پہاڑ سے نیچے پھینک دیں۔
لڑکا ان کے ساتھ پہاڑ پر پہنچا۔ جب وہ اسے گرانے کے ارادے کے قریب ہوئے تو لڑکے نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور دعا کی کہ اے اللہ، جس طرح تو چاہے مجھے ان کے مقابلے میں کافی ہوجا۔ صحیح مسلم کے مطابق پہاڑ ہلنے لگا، اسے لے جانے والے لوگ گر پڑے، جبکہ لڑکا محفوظ رہا۔
اس کے بعد واقعے کا ایک نہایت مؤثر منظر سامنے آتا ہے۔ لڑکا کسی نامعلوم جگہ چھپنے کے بجائے خود چل کر دوبارہ بادشاہ کے پاس پہنچ گیا۔
بادشاہ نے اسے دیکھ کر پوچھا کہ تمہارے ساتھ جانے والے لوگ کہاں ہیں؟ لڑکے نے صاف جواب دیا کہ اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا۔ پہلی کوشش ناکام ہونے کے باوجود بادشاہ باز نہ آیا اور اس نے قتل کا دوسرا طریقہ اختیار کیا۔
اس مرتبہ حکم دیا گیا کہ لڑکے کو ایک چھوٹی کشتی میں سمندر کے درمیان لے جایا جائے۔ وہاں بھی پہلے اسے دین چھوڑنے کو کہا جائے، اور اگر وہ انکار کرے تو اسے پانی میں پھینک دیا جائے۔
لڑکے نے پھر اللہ ہی کی طرف رجوع کیا اور وہی بنیادی دعا کی کہ اللہ اسے ان کے شر سے جس طرح چاہے کافی ہوجائے۔ صحیح مسلم بیان کرتی ہے کہ کشتی الٹ گئی، لڑکے کو قتل کرنے کے لیے ساتھ آنے والے لوگ ڈوب گئے اور اللہ نے لڑکے کو بچا لیا۔ جامع ترمذی ۳۳۴۰ بھی اسی پہاڑ اور سمندر کے سلسلے کو متوازی روایت میں محفوظ کرتی ہے: پہاڑ پر لوگ گر گئے اور سمندر میں اللہ نے انہیں ڈبو دیا جبکہ لڑکا محفوظ رہا۔
اور دوسری مرتبہ بھی لڑکا واپس بادشاہ کے سامنے آگیا۔ بادشاہ نے پھر پوچھا کہ تمہارے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ لڑکے نے اسی حقیقت کو دہرایا کہ اللہ نے مجھے ان سے بچا لیا۔
یہ دونوں نجاتیں اصحابِ اخدود کی طویل داستان کا ایک مخصوص مرحلہ ہیں۔ اس سے پہلے شفا اور راہب سے متعلق واقعات، اور اس کے بعد تیر، عوامی ایمان اور خندقوں کا مرحلہ الگ ہے۔ یہاں اصل تسلسل یہ ہے: دین چھوڑنے کا دباؤ، لڑکے کا ثابت قدم رہنا، اللہ سے دعا، قتل کی دو کوششیں اور دونوں مرتبہ اللہ کی غیر معمولی حفاظت۔ لڑکے کا ہر بار خود بادشاہ کے پاس واپس آنا اس واقعے کو مزید معنی خیز بناتا ہے، کیونکہ بادشاہ اپنی محدود طاقت کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا۔
خلاصۂ نتیجہ
یہ صحیح حدیث سے ثابت اعلیٰ اعتماد والی الٰہی نجات کا واقعہ ہے۔ بادشاہ نے مؤمن لڑکے کو پہلے پہاڑ سے گرانے اور پھر سمندر میں ڈبونے کی کوشش کی، مگر لڑکے نے اللہ سے مدد مانگی اور دونوں مرتبہ قتل کی کوشش ناکام ہوگئی۔ وہ ہر بار سلامت بادشاہ کے پاس واپس آیا اور واضح کیا کہ اللہ نے اسے بچایا ہے۔ اس مرحلے کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ جبر اور ظاہری طاقت اپنی حد رکھتی ہے، جبکہ ایمان پر ثابت قدمی اور اللہ کی حفاظت بادشاہ کے اختیار سے باہر تھی۔