ابن ابی الدنیا نے حبیب عجمی رحمہ اللہ سے متعلق ایک روایت محفوظ کی ہے کہ ایک ناتواں شخص، جس کے اہل و عیال بھی تھے، چارپائی یا اٹھانے کے کسی ڈھانچے پر ان کے پاس لایا گیا۔ وہاں موجود لوگوں نے حبیب عجمی رحمہ اللہ سے درخواست کی کہ وہ اللہ سے اس شخص کی صحت و قوت کی واپسی کے لیے دعا کریں۔ روایت کے مطابق حبیب رحمہ اللہ نے ایک مصحف اپنے گلے میں رکھا اور مسلسل دعا کرتے رہے۔ پھر وہ شخص اٹھ کھڑا ہوا، اپنی چارپائی خود کندھے پر اٹھائی اور اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلا گیا۔
ابن ابی الدنیا نے حبیب عجمی رحمہ اللہ سے متعلق ایک واقعہ محفوظ کیا ہے جس میں ایک ایسا شخص ان کے پاس لایا گیا جو اس قدر ناتواں تھا کہ خود چل کر نہیں آسکتا تھا۔ اسے چارپائی یا اٹھانے کے کسی ڈھانچے پر لایا گیا۔ روایت یہ بھی بتاتی ہے کہ اس کے اہل و عیال تھے، اس لیے اس کی حالت صرف ایک فرد کی مشکل نہیں بلکہ ایک پورے گھر کی پریشانی بھی تھی۔
وہاں موجود لوگوں نے حبیب عجمی رحمہ اللہ سے کہا کہ اس شخص کے لیے اللہ سے دعا کریں تاکہ اسے دوبارہ قوت اور صحت ملے۔ اصل ماخذ دعا کے کوئی مقررہ یا مفصل الفاظ محفوظ نہیں کرتا، اس لیے اس واقعے کے ساتھ اپنی طرف سے کوئی مخصوص دعا منسوب نہیں کی جاتی۔ روایت صرف یہ بتاتی ہے کہ حبیب رحمہ اللہ نے اس درخواست کو قبول کیا اور دعا میں مشغول ہوگئے۔
روایت کے مطابق حبیب عجمی رحمہ اللہ نے ایک مصحف اپنے گلے میں رکھا اور اس شخص کے لیے مسلسل دعا کرتے رہے۔ منظر نہایت سادہ ہے؛ نہ کوئی طویل تقریر ہے، نہ علاج کی تفصیلی کیفیت اور نہ اس شخص کی حالت کو کسی خاص جدید بیماری کا نام دیا گیا ہے۔ پوری توجہ دعا اور اس کے بعد بیان ہونے والے واقعے پر رہتی ہے۔
پھر روایت کہتی ہے کہ اللہ نے اس شخص کو بحال کردیا اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس تبدیلی کو ظاہر کرنے کے لیے ماخذ ایک بہت واضح منظر بیان کرتا ہے: جس چارپائی یا اٹھانے کے ڈھانچے پر اسے لایا گیا تھا، اب اسے اس کی ضرورت نہیں رہی۔ اس نے وہی چیز اپنے کندھے پر خود اٹھا لی۔
اس کے بعد وہ شخص اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلا گیا۔ یہی واقعے کا سب سے یاد رہ جانے والا منظر ہے۔ جو شخص دوسروں کے ذریعے اٹھا کر لایا گیا تھا، وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوا اور اپنی سواری یا چارپائی خود اٹھا کر گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ روایت اس کے بعد کسی طویل انجام کا ذکر نہیں کرتی۔
لالکائی نے بعد میں اسی بنیادی واقعے کو حبیب عجمی رحمہ اللہ سے متعلق کرامات کے ضمن میں نقل کیا، اور ابن عساکر نے بھی اسے ابن ابی الدنیا کے ذریعے محفوظ کیا۔ عوامی بیان میں اسی سادہ ترتیب کو برقرار رکھا گیا ہے: ناتواں شخص لایا گیا، دعا کی درخواست ہوئی، حبیب رحمہ اللہ مسلسل دعا کرتے رہے، پھر وہ شخص اٹھا، اپنی چارپائی خود اٹھائی اور گھر لوٹ گیا۔
وہاں موجود لوگوں نے حبیب عجمی رحمہ اللہ سے کہا کہ اس شخص کے لیے اللہ سے دعا کریں تاکہ اسے دوبارہ قوت اور صحت ملے۔ اصل ماخذ دعا کے کوئی مقررہ یا مفصل الفاظ محفوظ نہیں کرتا، اس لیے اس واقعے کے ساتھ اپنی طرف سے کوئی مخصوص دعا منسوب نہیں کی جاتی۔ روایت صرف یہ بتاتی ہے کہ حبیب رحمہ اللہ نے اس درخواست کو قبول کیا اور دعا میں مشغول ہوگئے۔
روایت کے مطابق حبیب عجمی رحمہ اللہ نے ایک مصحف اپنے گلے میں رکھا اور اس شخص کے لیے مسلسل دعا کرتے رہے۔ منظر نہایت سادہ ہے؛ نہ کوئی طویل تقریر ہے، نہ علاج کی تفصیلی کیفیت اور نہ اس شخص کی حالت کو کسی خاص جدید بیماری کا نام دیا گیا ہے۔ پوری توجہ دعا اور اس کے بعد بیان ہونے والے واقعے پر رہتی ہے۔
پھر روایت کہتی ہے کہ اللہ نے اس شخص کو بحال کردیا اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس تبدیلی کو ظاہر کرنے کے لیے ماخذ ایک بہت واضح منظر بیان کرتا ہے: جس چارپائی یا اٹھانے کے ڈھانچے پر اسے لایا گیا تھا، اب اسے اس کی ضرورت نہیں رہی۔ اس نے وہی چیز اپنے کندھے پر خود اٹھا لی۔
اس کے بعد وہ شخص اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلا گیا۔ یہی واقعے کا سب سے یاد رہ جانے والا منظر ہے۔ جو شخص دوسروں کے ذریعے اٹھا کر لایا گیا تھا، وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوا اور اپنی سواری یا چارپائی خود اٹھا کر گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ روایت اس کے بعد کسی طویل انجام کا ذکر نہیں کرتی۔
لالکائی نے بعد میں اسی بنیادی واقعے کو حبیب عجمی رحمہ اللہ سے متعلق کرامات کے ضمن میں نقل کیا، اور ابن عساکر نے بھی اسے ابن ابی الدنیا کے ذریعے محفوظ کیا۔ عوامی بیان میں اسی سادہ ترتیب کو برقرار رکھا گیا ہے: ناتواں شخص لایا گیا، دعا کی درخواست ہوئی، حبیب رحمہ اللہ مسلسل دعا کرتے رہے، پھر وہ شخص اٹھا، اپنی چارپائی خود اٹھائی اور گھر لوٹ گیا۔
خلاصۂ نتیجہ
روایت حبیب عجمی رحمہ اللہ کی دعا کے بعد ایک ناتواں شخص کے اٹھ کھڑے ہونے، اپنی چارپائی خود کندھے پر اٹھانے اور اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے کا واقعہ محفوظ کرتی ہے۔
مآخذ
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 97
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 97
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 97
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 97
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 97
al-Mizzi, Tahdhib al-Kamal, Habib al-Ajami entry: Abu Abd Allah al-Shahham listed among his transmitters
al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna, report 195
Ibn Asakir, Tarikh Dimashq, Habib al-Ajami entry; reproduces Ibn Abi al-Dunya report
Ibn Bashkuwal, al-Mustaghithin bi-Allah, passage quoting Ibn Abi al-Dunya
CAND-0173 Task 1 evidence synthesis