سورۃ الفتح رسول اللہ ﷺ کے مسجدِ حرام میں داخلے سے متعلق سچے خواب کی تصدیق کرتی ہے۔ صحیح بخاری کے مطابق اس خواب کی براہِ راست تاریخی تکمیل اگلے سال عمرۃ القضاء میں ہوئی، جب آپ ﷺ صحابہ کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے اور مناسک ادا کیے۔ فتحِ مکہ اس کے بعد کی الگ عظیم فتح تھی، جس دن آپ ﷺ سورۃ الفتح کی تلاوت فرما رہے تھے اور کعبہ کے اندر نماز بھی ادا کی۔
صلحِ حدیبیہ سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے ایک سچا خواب دیکھا جو مسجدِ حرام میں داخل ہونے سے متعلق تھا۔ قدیم تفسیر کے مطابق آپ ﷺ نے خواب میں خود کو اور اپنے صحابہ کو مسجدِ حرام میں داخل ہوتے دیکھا۔ بعد میں سورۃ الفتح نے اس رؤیا کو حق قرار دیا اور یہ بشارت دی کہ مسلمان امن کے ساتھ مسجدِ حرام میں داخل ہوں گے، بعض اپنے سر منڈوائیں گے اور بعض بال کتروائیں گے۔
جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ عمرہ کی نیت سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو قریش نے حدیبیہ کے مقام پر انہیں بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا۔ اس سال مکہ میں داخلہ نہ ہو سکا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ خواب پورا نہیں ہوا۔ صلح کی شرطوں میں یہ طے ہوا کہ مسلمان اگلے سال عمرہ کے لیے واپس آئیں گے۔ یوں قرآنی بشارت کا تعلق اسی سال فوری داخلے سے نہیں بلکہ آنے والے محفوظ داخلے سے تھا۔
صحیح بخاری بتاتی ہے کہ اگلے سال رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرۃ القضاء کے لیے مکہ آئے۔ معاہدے کے مطابق آپ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے، کعبہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی اور صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ مناسک ادا کیے۔ ایک دوسری صحیح روایت کے مطابق مسلمان مکہ میں تین دن رہے اور پھر معاہدے کے مطابق واپس چلے گئے۔ یہی اگلے سال کا داخلہ حدیبیہ کے سیاق میں دیکھے گئے خواب کی براہِ راست تاریخی تکمیل تھا۔
فتحِ مکہ اس کے بعد کا الگ اور زیادہ بڑا واقعہ تھا، اس لیے اسے خواب کی پہلی تکمیل کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہیے۔ فتح کے دن صحیح بخاری کے مطابق رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ اونٹنی پر سوار تھے، اسامہ بن زیدؓ آپ کے پیچھے سوار تھے، جبکہ بلالؓ اور عثمان بن طلحہؓ بھی ساتھ تھے۔ آپ ﷺ کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور وہاں نماز ادا کی۔ ایک دوسری صحیح روایت میں عبداللہ بن مغفلؓ بیان کرتے ہیں کہ اسی دن رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر سورۃ الفتح کی تلاوت فرما رہے تھے۔
اس طرح پوری ترتیب واضح ہو جاتی ہے: پہلے خواب دیکھا گیا، پھر حدیبیہ میں وقتی طور پر مکہ میں داخلہ رک گیا، قرآن نے خواب کی سچائی کی تصدیق کی، اگلے سال عمرۃ القضاء میں وہ وعدہ عملی طور پر پورا ہوا، اور اس کے بعد فتحِ مکہ ایک الگ عظیم فتح کے طور پر پیش آئی۔ اس ترتیب سے خواب اور اس کی تعبیر بھی واضح رہتی ہے اور فتحِ مکہ کی بعد والی تاریخ بھی اپنی صحیح جگہ پر رہتی ہے۔
جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ عمرہ کی نیت سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو قریش نے حدیبیہ کے مقام پر انہیں بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا۔ اس سال مکہ میں داخلہ نہ ہو سکا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ خواب پورا نہیں ہوا۔ صلح کی شرطوں میں یہ طے ہوا کہ مسلمان اگلے سال عمرہ کے لیے واپس آئیں گے۔ یوں قرآنی بشارت کا تعلق اسی سال فوری داخلے سے نہیں بلکہ آنے والے محفوظ داخلے سے تھا۔
صحیح بخاری بتاتی ہے کہ اگلے سال رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرۃ القضاء کے لیے مکہ آئے۔ معاہدے کے مطابق آپ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے، کعبہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی اور صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ مناسک ادا کیے۔ ایک دوسری صحیح روایت کے مطابق مسلمان مکہ میں تین دن رہے اور پھر معاہدے کے مطابق واپس چلے گئے۔ یہی اگلے سال کا داخلہ حدیبیہ کے سیاق میں دیکھے گئے خواب کی براہِ راست تاریخی تکمیل تھا۔
فتحِ مکہ اس کے بعد کا الگ اور زیادہ بڑا واقعہ تھا، اس لیے اسے خواب کی پہلی تکمیل کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہیے۔ فتح کے دن صحیح بخاری کے مطابق رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ اونٹنی پر سوار تھے، اسامہ بن زیدؓ آپ کے پیچھے سوار تھے، جبکہ بلالؓ اور عثمان بن طلحہؓ بھی ساتھ تھے۔ آپ ﷺ کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور وہاں نماز ادا کی۔ ایک دوسری صحیح روایت میں عبداللہ بن مغفلؓ بیان کرتے ہیں کہ اسی دن رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر سورۃ الفتح کی تلاوت فرما رہے تھے۔
اس طرح پوری ترتیب واضح ہو جاتی ہے: پہلے خواب دیکھا گیا، پھر حدیبیہ میں وقتی طور پر مکہ میں داخلہ رک گیا، قرآن نے خواب کی سچائی کی تصدیق کی، اگلے سال عمرۃ القضاء میں وہ وعدہ عملی طور پر پورا ہوا، اور اس کے بعد فتحِ مکہ ایک الگ عظیم فتح کے طور پر پیش آئی۔ اس ترتیب سے خواب اور اس کی تعبیر بھی واضح رہتی ہے اور فتحِ مکہ کی بعد والی تاریخ بھی اپنی صحیح جگہ پر رہتی ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
قرآنی وعدہ عمرۃ القضاء میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے مکہ میں داخلے سے پورا ہوا؛ اس کے بعد فتحِ مکہ اسی تاریخ کا اگلا بڑا باب بنا۔
مآخذ
لقد صدق الله رسوله الرؤيا بالحق لتدخلن المسجد الحرام إن شاء الله آمنين.
Al-Fath 48:27.
Tafsir of Al-Fath 48:27; report that the Messenger saw in a dream entry/tawaf with his companions.