صحیح بخاری ۶۵۰۲ اس موضوع کی بنیادی اور مستند دلیل ہے: بندہ پہلے فرائض کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے، پھر نوافل کے ذریعے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے محبوب بنا لیتا ہے۔ حدیث میں پھر محبوب بندے کی سماعت، بصارت، ہاتھ اور پاؤں کے لیے اللہ کی خاص مدد کا ذکر ہے، اور یہ وعدہ بھی ہے کہ وہ مانگے تو اسے دیا جائے گا اور پناہ چاہے تو اسے پناہ دی جائے گی۔ سر الاسرار میں اسی مفہوم کی ایک بعد کی مختصر عبارت ملتی ہے جس میں زبان کا اضافہ بھی ہے۔ یہ لفظ صحیح بخاری کے اصل متن کا حصہ نہیں، اس لیے اسے بخاری کی عبارت سمجھ کر نقل نہیں کرنا چاہیے۔
اس محبت کے اثر کو حدیث نہایت بلیغ انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں آتا ہے کہ اللہ محبوب بندے کی وہ سماعت بن جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے، وہ بصارت جس سے وہ دیکھتا ہے، وہ ہاتھ جس سے وہ پکڑتا یا کام کرتا ہے، اور وہ پاؤں جس سے وہ چلتا ہے۔ اسی حدیث میں عملی وعدہ بھی ہے کہ اگر ایسا بندہ اللہ سے مانگے تو اللہ اسے عطا فرمائے گا، اور اگر وہ اللہ کی پناہ طلب کرے تو اللہ اسے پناہ دے گا۔
یہی الفاظ صحیح بخاری کے مستند اور بنیادی متن کی اصل ہیں اور عوامی بیان کا مرکز بھی یہی رہنا چاہیے۔ کلاسیکی سنی تشریح میں ان تعبیرات کو اس معنی میں لینا ضروری نہیں کہ اللہ انسانی اعضا میں حلول کرتا ہے یا بندے اور اللہ کی ذات ایک ہو جاتی ہے۔ پہلے تحقیقی مرحلے میں محفوظ کی گئی ماخذی حد یہی ہے کہ ان الفاظ کو اللہ کی مدد، رہنمائی، حفاظت اور محبوب بندے کی قوتوں اور اعمال کو درست سمت میں استعمال ہونے کی توفیق کے طور پر سمجھا جائے۔
سر الاسرار میں بعد میں اسی مضمون کی ایک مختصر پانچ اجزائی عبارت ملتی ہے، جس میں سماعت، بصارت، زبان، ہاتھ اور پاؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ صورت صحیح بخاری کے مفہوم سے قریب ہے مگر بعینہٖ وہی متن نہیں۔ خاص طور پر لفظ زبان صحیح بخاری ۶۵۰۲ کے اس مستند متن میں موجود نہیں جسے اس کام کے لیے جانچا گیا۔ لہٰذا زبان کا اضافہ بعد کی ادبی روایت کے طور پر اس کے اپنے ماخذ کی طرف منسوب کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسے صحیح بخاری کی اصل عبارت میں شامل کیا جائے۔
اس مواد کو کسی ایک تاریخی کرامت کے بجائے ولی کے بارے میں ایک عمومی دینی اصول کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے۔ اس کا مضبوط ثابت شدہ مفہوم یہ ہے کہ فرائض اور نوافل کے ذریعے قرب، محبتِ الٰہی، مدد، حفاظت اور قبولِ دعا کا سبب بنتا ہے۔ صحیح حدیث اس اصل کو اعلیٰ ماخذی قوت کے ساتھ قائم کرتی ہے، جبکہ سر الاسرار کی اضافی عبارت کو جہاں وہ اصل حدیث سے مختلف ہو، صاف طور پر بعد کی روایتی صورت کے طور پر ہی پیش کرنا چاہیے۔
خلاصۂ نتیجہ
صحیح بخاری مستند طور پر یہ اصول بیان کرتی ہے کہ اللہ کا محبوب ولی فرائض اور نوافل کے ذریعے قرب حاصل کرتا ہے اور اسے اللہ کی مدد، حفاظت اور قبولِ دعا نصیب ہوتی ہے۔ سر الاسرار کی بعد کی عبارت جہاں صحیح حدیث سے مختلف ہے، اسے صرف اپنے ماخذ کی نسبت سے ایک بعد کی روایتی صورت کے طور پر رکھنا چاہیے۔