حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا استسقاء، بارش اور بادل سے منسوب آواز

صحابی/صحابیہ کی کرامتدعا کی قبولیترحمت یا برکتقدیم تاریخ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

ابن ابی الدنیا نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے کے سخت قحط سے متعلق ایک روایت محفوظ کی ہے۔ اس کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ استسقاء کے لیے نکلے، دو رکعتیں پڑھیں، اپنی چادر کے دونوں کنارے بدلے، اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور بارش کی دعا کی، اور لوگوں کے واپس ہونے سے پہلے بارش شروع ہوگئی۔ پھر کچھ اعرابی آئے اور انہوں نے بتایا کہ ایک بادل نے ان پر سایہ کیا اور اس میں سے ابو حفص، یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ، کے لیے کشادگی کی خبر دینے والی آواز سنی۔ امام لالکائی اور ابن کثیر نے بھی بعد کی کتابوں میں اسی یادگار واقعے کو نقل کیا ہے۔

ابن ابی الدنیا نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد کا ایک واقعہ محفوظ کیا ہے، جب لوگوں کو سخت قحط کا سامنا تھا۔ بارش کی شدید ضرورت تھی، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ استسقاء کے لیے باہر نکلے۔ روایت اس اجتماع کو مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کے حضور اجتماعی دعا اور التجا کے طور پر پیش کرتی ہے۔

روایت کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی۔ پھر آپ نے اپنی چادر کے دونوں کنارے بدلے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور بارش مانگی۔ واقعہ سادہ انداز میں آگے بڑھتا ہے: خلیفہ اور لوگ ایک ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہیں اور قحط سے نجات کی دعا کر رہے ہیں۔ ابھی لوگ نماز کی جگہ سے واپس بھی نہ ہوئے تھے کہ بارش برسنے لگی۔

اس کے بعد قصہ اپنے سب سے غیر معمولی منظر کی طرف آتا ہے۔ بارش کے بعد کچھ اعرابی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور انہوں نے ایک ایسا واقعہ بیان کیا جو ان کے سفر میں پیش آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بادل ان کے اوپر آیا اور اس نے انہیں سایہ دیا۔ اسی بادل کے نیچے انہوں نے ایک آواز سنی۔

اعرابیوں کے بیان کے مطابق اس آواز میں ابو حفص کے لیے کشادگی اور راحت کی خبر دی گئی۔ ابو حفص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی معروف کنیت تھی۔ روایت کہتی ہے کہ یہ آواز دو مرتبہ سنائی دی۔ یوں استسقاء، بارش اور پھر بادل سے منسوب آواز ایک ہی مسلسل حکایت کے مناظر بن جاتے ہیں۔

ابن ابی الدنیا نے اس واقعے کو مجاب الدعوة اور الهواتف میں محفوظ کیا ہے۔ بعد میں امام لالکائی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کرامات کے ضمن میں اسی واقعے کو ذکر کیا، جبکہ ابن کثیر نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد کے قحط کے واقعات میں اسے نقل کیا۔ ان نقلوں میں بنیادی منظر وہی رہتا ہے: قحط، اجتماعی دعا، بارش اور پھر اعرابیوں کی طرف سے بادل کی آواز کا بیان۔

عوامی کہانی کے طور پر واقعہ کی ترتیب بالکل واضح ہے۔ سخت قحط حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور لوگوں کو استسقاء کے لیے باہر لاتا ہے؛ آپ اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور بارش مانگتے ہیں؛ واپس ہونے سے پہلے بارش آتی ہے؛ پھر کچھ مسافر آکر بتاتے ہیں کہ ایک بادل نے ان پر سایہ کیا اور اس میں سے ابو حفص کے لیے کشادگی کی آواز سنائی دی۔ کلاسیکی کتابوں میں یہی اس روایت کا مرکزی اور یادگار قصہ ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

روایت کا اختتام حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دعا کے بعد بارش آنے اور اعرابیوں کی طرف سے بادل سے ابو حفص کے لیے کشادگی کی آواز سننے کے بیان پر ہوتا ہے۔

مآخذ

Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 43 (numbering may vary by edition)
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 43
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 43
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 43
Ibn Abi al-Dunya, al-Hawatif, report 15/16 depending numbering
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa 43 and al-Hawatif 15/16
al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna, vol. 9 pp. 129-130, report 69
al-Lalaka'i report 69, digital hadith portal display
Ibn Kathir, al-Bidaya wa al-Nihaya, events of 18 AH
Ibn Hajar, Taqrib al-Tahdhib: Abdullah ibn Umar ibn Hafs al-Umari = 'weak, devout'; corroborated by classical critics
Critical edition/modern source audit of the Khawwat report: route is disconnected because Abdullah al-Umari did not meet Khawwat
Rijal summaries for 'Ata ibn Muslim al-Khaffaf; Ibn Hajar: truthful but makes many mistakes; Abu Dawud and al-Bayhaqi: weak
Khawwat ibn Jubayr: death in Medina around 40 AH
Sahih al-Bukhari 1010, Book of Istisqa
Sahih al-Bukhari 1012
Sahih al-Bukhari 1025
CAND-0108 Task 1 evidence synthesis
Shu'ab al-Iman modern thematic edition note on report 1674: Ibn Abi al-Dunya al-Hawatif 16; Ibn Asakir 44/346; 'with a weak chain'