ایک کلاسیکی روایت کے مطابق حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سخت قحط پڑا تو آپ نے لوگوں کو نمازِ استسقاء پڑھائی، چادر کے دونوں کنارے بدلے، اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور بارش کی دعا کی، اور لوگوں کے واپس ہونے سے پہلے بارش ہوگئی۔ اسی ضعیف روایت میں یہ بھی ہے کہ بعد میں کچھ اعرابی آئے اور انہوں نے بتایا کہ ایک بادل نے ان پر سایہ کیا اور اس میں سے آواز سنی کہ ابو حفص کے لیے کشادگی آگئی ہے۔ صحیح احادیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اجتماعی استسقاء اور نبی کریم ﷺ کے دو رکعت پڑھنے اور چادر پلٹنے کے طریقے کی الگ سے تصدیق کرتی ہیں، مگر بادل سے آواز والی اسی مخصوص روایت کو صحیح ثابت نہیں کرتیں۔
اسی روایت میں پھر سب سے غیر معمولی بات بیان ہوتی ہے۔ اس کے مطابق کچھ اعرابی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بتایا کہ ایک بادل نے ان پر سایہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بادل میں سے ایک آواز سنائی دی جس میں کہا گیا کہ ابو حفص کے لیے کشادگی آگئی ہے، اور یہ بات دو مرتبہ کہی گئی۔ کلاسیکی نقل میں بارش اور بادل سے منسوب یہ آواز اس غیر معمولی سلسلے کے مرکزی اجزا ہیں۔
اس واقعے کی قدیم ترین جانچی گئی حفاظت ابن ابی الدنیا کی کتابوں میں ملتی ہے۔ انہوں نے اسے مجاب الدعوة اور الهواتف میں نقل کیا۔ بعد میں اللالکائی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کرامات کے باب میں یہی روایت ذکر کی، اور ابن کثیر نے قحط کے سالوں کے تاریخی بیان میں اسے نقل کیا۔ لیکن یہ نقلیں اس غیر معمولی جز کی آزاد تائید نہیں، کیونکہ سب ایک ہی بنیادی سند پر منحصر ہیں۔
اس سند میں نمایاں کمزوریاں ہیں۔ یہ عطاء بن مسلم الخفاف سے عبداللہ بن عمر بن حفص العمری اور پھر خوات بن جبیر تک جاتی ہے۔ عبداللہ العمری کو ضعیف قرار دیا گیا، اور سند منقطع بھی ہے کیونکہ ان کی خوات بن جبیر سے ملاقات ثابت نہیں۔ عطاء بن مسلم پر بھی غلطیوں اور کمزور حافظے کے حوالے سے خاصی جرح منقول ہے۔ ایک بعد کے علمی نوٹ نے بھی اسی روایت کی سند کو ضعیف کہا ہے۔
البتہ ایک مضبوط تاریخی پس منظر کو اس روایت سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ صحیح بخاری میں معتبر طور پر آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قحط کے دوران اجتماعی استسقاء کیا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ذریعے بارش کی دعا کی تو بارش ہوئی۔ صحیح بخاری کی دوسری روایات ثابت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے استسقاء میں دو رکعتیں پڑھیں اور چادر پلٹی۔ یہ صحیح روایات قحط، دعا، بارش اور عبادت کا عمومی پس منظر ثابت کرتی ہیں، مگر یہ نہیں بتاتیں کہ یہی واقعہ تھا یا بادل کی آواز صحیح ہے۔
اس لیے محتاط نتیجہ یہی ہے کہ سنی کلاسیکی مصادر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے استسقاء کے بعد بارش اور بادل سے ایک نمایاں آواز کی روایت محفوظ کرتے ہیں۔ اس قصے کی کلاسیکی روایت موجود ہے، لیکن غیر معمولی تفصیل ایک ضعیف اور منقطع سند پر قائم ہے۔ اسے ثابت شدہ صحیح تاریخی واقعہ کہنے کے بجائے کم اعتماد کے ساتھ منقول کرامت کے طور پر پیش کرنا زیادہ درست ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
سنی کلاسیکی مصادر میں یہ روایت محفوظ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے استسقاء کے بعد بارش ہوئی اور کچھ اعرابیوں نے بادل سے ابو حفص کے لیے کشادگی کی آواز سننے کا بیان کیا۔ چونکہ اس خاص غیر معمولی روایت کی سند ضعیف اور منقطع ہے، اس لیے اسے ثابت شدہ تاریخی حقیقت کے بجائے کم اعتماد کے ساتھ منقول کرامت کے طور پر پیش کرنا مناسب ہے۔