امام مالک کی الموطأ میں ایک روایت محفوظ ہے کہ اپنی آخری بیماری کے دوران حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بنت خارجہ کے حمل کے بارے میں کہا: “أراها جارية” — “میرا خیال ہے کہ وہ لڑکی ہے۔” الموطأ کی ایک قدیم روایت میں بعد میں لڑکی پیدا ہونے کا ذکر ہے، جبکہ امام لالکائی اسے ام کلثوم قرار دیتے ہیں اور اس درست اندازے کے پورا ہونے کو کرامت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس واقعے کو پورا ہونے والا قوی گمان ہی رہنے دینا چاہیے؛ اسے نبوی وحی، مستقل علمِ غیب یا طبی پیش گوئی کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنت خارجہ کے حمل کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: “أراها جارية” — “میرا خیال ہے کہ وہ لڑکی ہے۔” امام مالک کی الموطأ میں یہ قول ابن شہاب زہری سے، عروہ بن زبیر کے واسطے سے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہوا ہے۔ یوں یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اپنے الفاظ نقل کرنے والی قدیم موقوف روایت ہے۔ بعد میں شعیب ارناؤوط نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا۔
اہم پہلو یہ ہے کہ بعد میں کیا ہوا۔ محمد الشیبانی کی روایت کردہ الموطأ میں آگے بتایا گیا ہے کہ ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ امام لالکائی نے بھی صحابہ کی کرامات کے باب میں یہی واقعہ نقل کیا ہے۔ وہ بنت خارجہ کو حبیبہ بنت خارجہ بتاتے ہیں، ذکر کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت وہ حاملہ تھیں، اور بعد میں انہوں نے ام کلثوم کو جنم دیا۔ کلاسیکی سوانحی مواد بھی ام کلثوم بنت ابی بکر کو حبیبہ بنت خارجہ کی بیٹی بتاتا ہے اور لکھتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ان کی والدہ حاملہ تھیں۔
امام لالکائی صرف نتیجہ نقل نہیں کرتے بلکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درست گمان اور اس کے پورا ہونے کو اللہ کی عطا کردہ کرامت قرار دیتے ہیں۔ ابن عبدالبر اس عبارت کی تشریح میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قول کو ایسا قوی گمان کہتے ہیں جو یقین کے مشابہ تھا۔ یہ کلاسیکی توضیح واقعے کی نوعیت واضح کرتی ہے، لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اصل الفاظ کو کسی دوسرے درجے میں نہیں لے جاتی۔
شواہد ایک واضح ترتیب پیش کرتے ہیں: آخری بیماری میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گمان ظاہر کیا کہ حمل میں موجود بچہ لڑکی ہوگا؛ قدیم اور کلاسیکی مآخذ میں بعد میں لڑکی پیدا ہونے کا ذکر محفوظ ہے؛ اور بعد کے سنی اہل علم نے اس پورا ہونے والے گمان کو کرامت کہا۔ مآخذ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے نبوی وحی، مستقل علم غیب یا بچے کی جنس معلوم کرنے کے کسی طبی طریقے کا دعویٰ منقول نہیں۔ عوامی بیان میں یہ فرق محفوظ رہنا چاہیے کہ غیر معمولی پہلو پیدائش سے پہلے کیا گیا وہ گمان ہے جو روایت کے مطابق درست نکلا اور کلاسیکی مآخذ میں کرامت کے طور پر سمجھا گیا۔
خلاصۂ نتیجہ
معتبر مآخذ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ پیدائش سے پہلے کا گمان محفوظ کرتے ہیں کہ بنت خارجہ کے حمل میں موجود بچہ لڑکی ہوگا، اور بعد کی روایات میں واقعی لڑکی پیدا ہونے کا ذکر ہے۔ کلاسیکی سنی اہلِ علم نے اس پورا ہونے والے گمان کو کرامت سمجھا، جبکہ اسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اپنے گمان ہی کے طور پر محفوظ رکھا، وحی کے طور پر نہیں۔