صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان محفوظ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کسی معاملے میں اپنی رائے ظاہر کرتے تو بارہا معاملہ اسی طرح سامنے آتا جیسا انہوں نے سمجھا تھا۔ اسی روایت میں ایک واضح مثال بھی ہے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گزرنے والے مسلمان کے بارے میں گمان کیا کہ وہ زمانۂ جاہلیت میں اپنی قوم کا کاہن رہا ہوگا، اور اس شخص نے خود اس کی تصدیق کی۔ ایک دوسری صحیح نبوی روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر مُحَدَّثین کے ضمن میں آتا ہے، جبکہ ابن حجر اس سے نبوت کے بغیر سچی فراست یا الہام یافتہ بصیرت مراد لیتے ہیں۔ دیگر روایات میں وہ معروف مواقع بھی محفوظ ہیں جہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق بعد میں قرآنی وحی نازل ہوئی، لیکن اس سے ان کے لیے عصمت یا وحی ثابت نہیں ہوتی۔
اسی بخاری روایت میں ایک عملی مثال بھی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان شخص کو گزرتے دیکھا اور خیال آیا کہ اسلام سے پہلے یہ شخص اپنی قوم کا کاہن رہا ہوگا۔ انہوں نے پوچھا تو اس شخص نے تصدیق کی کہ زمانۂ جاہلیت میں وہ واقعی اپنی قوم کا کاہن تھا۔ یوں عمومی بیان کے ساتھ ایک تاریخی صورت سامنے آتی ہے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے سابق کردار کے بارے میں رائے قائم کی اور خود اسی شخص نے اسے درست قرار دیا۔
امام لالکائی نے بعد میں یہی روایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کرامات کے باب میں نقل کی اور بتایا کہ اسے امام بخاری نے بھی روایت کیا ہے۔ صحیح بخاری کی ایک الگ روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں ایسے لوگ ہوتے تھے جنہیں مُحَدَّث کہا جاتا تھا، اور اگر اس امت میں ایسا کوئی ہو تو وہ عمر ہوں گے۔ حافظ ابن حجر مُحَدَّث سے ایسے شخص کو مراد لیتے ہیں جسے نبوت کے بغیر سچی بصیرت یا الہام جیسی رہنمائی ملے، اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بار بار درست رائے کو اسی فضیلت سے جوڑتے ہیں۔
دیگر ثابت شدہ روایات معاون تہہ پیش کرتی ہیں۔ جامع ترمذی اور مسند احمد میں یہ مضمون محفوظ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان اور دل پر رکھا۔ اسی نقل میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جب کوئی معاملہ پیش آتا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ رائے دیتے تو قرآن ان کی رائے کے موافق نازل ہوتا۔ صحیح مسلم میں تین مواقع مذکور ہیں: مقامِ ابراہیم، پردے کا حکم، اور بدر کے قیدی۔ صحیح بخاری میں بھی تین مثالوں والی متوازی روایت ہے، جس میں تیسری مثال ازواجِ نبوی سے متعلق ہے۔
یہ روایات مل کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے وابستہ غیر معمولی فراست اور بار بار درست ثابت ہونے والی رائے کی تائید کرتی ہیں۔ تاہم ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی تھے، ان کی آرا وحی تھیں، انہیں مستقل علمِ غیب حاصل تھا، یا ان کی ہر رائے خطا سے پاک تھی۔ مضبوط ترین ماخذی نتیجہ محدود ہے: صحیح اور کلاسیکی سنی مصادر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بارہا درست ثابت ہونے والی بصیرت اور ان کے فیصلوں کی متعدد نمایاں تائیدات محفوظ کرتے ہیں۔
خلاصۂ نتیجہ
صحیح بخاری حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے بار بار درست ثابت ہونے کا نمونہ محفوظ کرتی ہے، جس میں ایک ایسا واضح واقعہ بھی ہے جس کی متعلقہ شخص نے خود تصدیق کی۔ کلاسیکی سنی شرح اس کیفیت کو غیر نبوی مُحَدَّث کی فضیلت سے جوڑتی اور اسے سچی، غیر معمولی فراست کی ایک صورت سمجھتی ہے۔