منظور شدہ واقعات کو زمرے اور مرکزی رجسٹری کی مستند شخصی نسبت، ثبوتی درجے اور اصل مآخذ کے ساتھ دیکھیں۔ نبوی معجزہ، کرامت، تاریخی واقعہ اور جدید دعویٰ اپنی درست اصطلاح میں الگ رہتے ہیں۔
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت
صحیح بخاری کی متعدد معتبر روایات میں اس کھجور کے تنے کا واقعہ محفوظ ہے جس کے پاس رسول اللہ ﷺ منبر بننے سے پہلے جمعے کا خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ نئے منبر پر تشریف لے گئے تو صحابہؓ نے اس تنے کے رونے اور حنین کی آواز سنی۔ رسول اللہ ﷺ منبر سے اترے، اسے اپنے ساتھ لگایا یا اس پر ہاتھ رکھا تو وہ پرسکون ہوگیا۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ وہ اس ذکر اور دینی علم کی جدائی میں رو رہا تھا جو پہلے آپ کے قریب سنتا تھا۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیدعا کی قبولیترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
غزوۂ احد میں حضرت جابر بن عبداللہؓ کے والد شہید ہوئے تو ان کے ذمہ بھاری قرض اور گھر میں چھ بیٹیاں رہ گئیں۔ کھجوروں کی فصل بظاہر قرض ادا کرنے کے لیے ناکافی تھی، حتیٰ کہ ایک صحیح روایت میں حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ کئی سال کی پیداوار بھی کافی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس گئے۔ آپ ﷺ باغ اور کھجوروں کے ڈھیروں کے درمیان تشریف لائے، اللہ سے برکت کی دعا فرمائی، پھر تمام قرض خواہوں کا حق پورا ادا ہوا اور اس کے باوجود بڑی مقدار میں کھجوریں باقی رہیں۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
وحیانی نشانی یا پیش خبرینبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیتاریخی نتیجہ
ایک مضبوط کلاسیکی روایت غزوۂ بدر کے بعد حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ اور نبی کریم ﷺ کے درمیان ایک نہایت معنی خیز گفتگو محفوظ کرتی ہے۔ حضرت عباسؓ سے فدیہ طلب کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مطلوبہ مال ان کے پاس نہیں۔ نبی ﷺ نے اس مال کا ذکر فرمایا جو وہ مکہ سے روانگی سے پہلے ام الفضلؓ کے ساتھ خفیہ طور پر رکھ گئے تھے، اور اس نجی ہدایت کا بھی ذکر کیا کہ اگر سفر میں انہیں کچھ ہوجائے تو وہ مال ان کے بیٹوں کے لیے ہوگا۔ حضرت عباسؓ نے کہا کہ اس راز کو ان دونوں کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا اور اسے نبوت کی نشانی مانا۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
قبول شدہ نبوی دعانبوی تائید کی نشانیدعا کی قبولیترحمت یا برکت
حضرت عثمان بن حنیفؓ سے ایک معتبر روایت میں ایک نابینا شخص کا واقعہ محفوظ ہے جو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اللہ سے اس کی شفا کی دعا فرمائیں۔ نبی کریم ﷺ نے پہلے صبر کو اس کے لیے بہتر قرار دیا، لیکن جب اس نے دعا کو پسند کیا تو اسے اچھی طرح وضو کرنے اور ایک مخصوص دعا پڑھنے کی تعلیم دی؛ سنن ابن ماجہ کی صحیح روایت میں دو رکعت نماز کا ذکر بھی ہے۔ حاکم کی المستدرک میں محفوظ ایک مفصل قدیم روایت بیان کرتی ہے کہ اس دعا کے بعد وہ شخص بینائی لوٹ آنے کے ساتھ کھڑا ہوا۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیعبرترحمت یا برکت
سنن ابی داود میں حضرت عبداللہ بن جعفرؓ سے ایک نہایت دل نشین واقعہ منقول ہے۔ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں موجود اونٹ نے آپ ﷺ کو دیکھ کر حنین کی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آپ ﷺ نرمی سے اس کے پاس گئے اور سر کے قریب ہاتھ پھیرا تو وہ پرسکون ہوگیا۔ پھر اس کے نوجوان انصاری مالک کو بلا کر فرمایا کہ اس جانور کے بارے میں اللہ سے ڈرو؛ اس نے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے اور مسلسل کام لے کر تھکا دیتے ہو۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت
صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی نہایت واضح گواہی محفوظ ہے کہ صحابہؓ نے نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں کھانے کو اللہ کی تسبیح کرتے ہوئے سنا جبکہ اسے کھایا جا رہا تھا۔ حضرت ابن مسعودؓ ایسے غیر معمولی واقعات کا ذکر اس وضاحت سے شروع کرتے ہیں کہ صحابہ انہیں اللہ کی برکتیں سمجھتے تھے۔ قرآن کی سورۃ الاسراء 17:44 اس واقعے کا وسیع تر روحانی پس منظر بیان کرتی ہے کہ ہر چیز اللہ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے، اگرچہ انسان عموماً اس تسبیح کو سمجھ نہیں پاتے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت
صحیح مسلم میں نبی کریم ﷺ سے بعثت سے پہلے کی ایک نہایت دل نشین نشانی محفوظ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ مکہ کے ایک ایسے پتھر کو جانتے ہیں جو نبوت پر مبعوث ہونے سے پہلے آپ کو سلام کیا کرتا تھا، اور بعد میں بھی آپ اسی پتھر کو پہچانتے تھے۔ امام نووی اس روایت کو صریح نبوی معجزہ قرار دیتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ اللہ بعض جمادات میں ان کے مناسب حال ادراک پیدا فرما سکتا ہے۔ یہی بنیادی روایت ترمذی، مسند احمد اور سنن دارمی میں بھی قریب الفاظ کے ساتھ محفوظ ہے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
قبول شدہ نبوی دعانبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
صحیح بخاری اور صحیح مسلم مدینہ کے ایک قحط کے دوران جمعہ کے خطبے کا نہایت واضح واقعہ محفوظ کرتی ہیں۔ ایک شخص نبی محمد ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا، مویشیوں اور مال کے نقصان، اہل و عیال کی تکلیف اور راستوں کے بند ہونے کا ذکر کیا اور بارش کی دعا کی درخواست کی۔ نبی ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور اللہ سے بارش مانگی۔ آسمان بالکل صاف تھا، پھر جبلِ سلع کے پیچھے سے ایک بادل نمودار ہوا، پھیل گیا اور بارش اس قدر جلد شروع ہوئی کہ حضرت انسؓ نے نبی ﷺ کے منبر سے اترنے سے پہلے آپ کی داڑھی مبارک پر پانی بہتے دیکھا۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیاہلِ ایمان کی نجاتدعا کی قبولیتتاریخی نتیجہ
صحیح بخاری ہجرت کے دوران سراقہ بن مالکؓ کے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکرؓ کا تعاقب کرنے کا تفصیلی واقعہ محفوظ کرتی ہے، جب قریش نے دونوں کو پکڑنے یا قتل کرنے پر بڑا انعام مقرر کیا تھا۔ سراقہؓ قریب پہنچے تو پہلے گھوڑا ٹھوکر کھا کر گرا، پھر دوبارہ تعاقب کے دوران اس کے اگلے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متوازی روایت اس دھنسنے کو نبی ﷺ کی دعا سے جوڑتی ہے؛ سراقہؓ نے رہائی کی دعا مانگی، نقصان نہ پہنچانے کا وعدہ کیا اور آخر میں تحریری امان طلب کی۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
قبول شدہ نبوی دعانبوی تائید کی نشانیدعا کی قبولیترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
صحیح بخاری اور صحیح مسلم مدینہ کی بارش کے واقعے کا ایک نہایت خوبصورت دوسرا مرحلہ محفوظ کرتی ہیں۔ ایک ہفتہ مسلسل بارش کے بعد اگلے جمعے لوگ دوبارہ آئے؛ راستے کٹ چکے تھے، مویشی متاثر ہو رہے تھے، اور ایک صحیح روایت میں گھروں کے گرنے کا بھی ذکر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بارش کی نعمت ختم ہونے کی دعا نہیں کی بلکہ فرمایا: «اے اللہ! ہمارے گرد برسا، ہم پر نہ برسا۔» اس کے بعد مدینہ کے اوپر سے بادل ہٹ گئے جبکہ پہاڑیوں، وادیوں اور اطراف کی زمین پر بارش جاری رہی۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیرحمت یا برکتمخالفین پر حجت
خیبر کے بعد نبی محمد ﷺ کے سامنے ایک بھنی ہوئی زہر آلود بکری پیش کی گئی۔ خود زہر دینے کا واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے مضبوط طور پر ثابت ہے۔ سنن ابی داود کی مضبوط روایت اس قصے کا معجزاتی مرکز محفوظ کرتی ہے: جب آپ ﷺ اور دوسرے لوگ کھانا شروع کرچکے تو آپ نے سب کو ہاتھ روکنے کا حکم دیا کیونکہ بکری نے آپ کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی۔ اس کے بعد سازش کھل گئی اور ذمہ دار عورت نے اپنے ارادے کا اعتراف کیا۔ دست والی مخصوص تعبیر الگ روایت ہے جس کے درجے میں اختلاف ہے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیدعا کی قبولیترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متعدد صحیح روایات خیبر کے اس واقعے کو بڑی وضاحت سے محفوظ کرتی ہیں۔ حضرت علی بن ابی طالبؓ آنکھوں کی شدید تکلیف میں مبتلا تھے، مگر اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہنا گوارا نہ کیا اور قافلے سے جا ملے۔ رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ جھنڈا ایسے شخص کو دیا جائے گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں؛ حضرت علیؓ لائے گئے تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں پر لعابِ دہن لگایا، دعا فرمائی اور وہ فوراً ایسے صحت یاب ہوگئے جیسے کبھی تکلیف تھی ہی نہیں۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث