آیات، معجزات، کرامات اور عبرت آموز واقعات

منظور شدہ واقعات کو زمرے اور مرکزی رجسٹری کی مستند شخصی نسبت، ثبوتی درجے اور اصل مآخذ کے ساتھ دیکھیں۔ نبوی معجزہ، کرامت، تاریخی واقعہ اور جدید دعویٰ اپنی درست اصطلاح میں الگ رہتے ہیں۔

بنیادی زمرے

ولی یا صالح کی کرامتدعا کی قبولیترحمت یا برکت

اللہ کے ولی کی حدیث: قرب، محبتِ الٰہی اور قبولِ دعا

صحیح بخاری ۶۵۰۲ اس موضوع کی بنیادی اور مستند دلیل ہے: بندہ پہلے فرائض کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے، پھر نوافل کے ذریعے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے محبوب بنا لیتا ہے۔ حدیث میں پھر محبوب بندے کی سماعت، بصارت، ہاتھ اور پاؤں کے لیے اللہ کی خاص مدد کا ذکر ہے، اور یہ وعدہ بھی ہے کہ وہ مانگے تو اسے دیا جائے گا اور پناہ چاہے تو اسے پناہ دی جائے گی۔ سر الاسرار میں اسی مفہوم کی ایک بعد کی مختصر عبارت ملتی ہے جس میں زبان کا اضافہ بھی ہے۔ یہ لفظ صحیح بخاری کے اصل متن کا حصہ نہیں، اس لیے اسے بخاری کی عبارت سمجھ کر نقل نہیں کرنا چاہیے۔

اولیائے کرام / اہلِ طریق (عمومی) · PER-000411 · علمی جائزہ شدہ تحقیق
صحابی/صحابیہ کی کرامتالٰہی عذابدعا کی قبولیتتاریخی نتیجہ

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی دعا اور شام میں ابو قلابہ کی ملاقات

لالکائی نے ایک روایت محفوظ کی ہے جس میں ابو قلابہ شام کے سفر کے دوران ایک ایسے نابینا شخص سے ملتے ہیں جس کے ہاتھ اور ٹانگیں نہیں تھیں۔ اس شخص نے بتایا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھر کے محاصرے کے وقت وہ اندر داخل ہونے والوں میں شامل تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ باہر آئیں تو اس نے انہیں مارا۔ پھر اس نے بیان کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ اللہ اس کے ہاتھ، ٹانگیں اور بینائی لے لے اور اسے آگ میں داخل کرے۔ اسی شخص کے بیان کے مطابق بعد میں وہ ہاتھوں اور ٹانگوں سے محروم اور نابینا ہوگیا اور اس نے اپنی حالت کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی دعا کا نتیجہ سمجھا۔ لالکائی نے اس واقعے کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کرامات کے باب میں ذکر کیا ہے۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ · PER-000402 · بعد کی مناقب و کرامات
صحابی/صحابیہ کی کرامتالٰہی عذابتاریخی نتیجہ

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عصا اور جہجاہ پر منقول آفت

کلاسیکی سنی مصادر میں منقول ہے کہ جہجاہ غفاری نامی شخص نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے، جب آپ منبر پر تھے، عصا لیا اور اسے توڑ دیا۔ اس کے بعد اسے الآکِلَہ نامی آفت لاحق ہونے کا ذکر آتا ہے۔ بعض روایات اس آفت کو گھٹنے میں بتاتی ہیں، جبکہ ابو نعیم کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایت میں ہاتھ کا ذکر ہے اور یہ بھی کہ ایک سال گزرنے سے پہلے اس کی موت ہوگئی۔ کلاسیکی مصنفین نے اس واقعے کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے وابستہ غیر معمولی نشانیوں میں محفوظ کیا ہے۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ · PER-000402 · بعد کی مناقب و کرامات
صحابی/صحابیہ کی کرامتدعا کی قبولیترحمت یا برکت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا استسقاء، بارش اور بادل سے منسوب آواز

ابن ابی الدنیا نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے کے سخت قحط سے متعلق ایک روایت محفوظ کی ہے۔ اس کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ استسقاء کے لیے نکلے، دو رکعتیں پڑھیں، اپنی چادر کے دونوں کنارے بدلے، اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور بارش کی دعا کی، اور لوگوں کے واپس ہونے سے پہلے بارش شروع ہوگئی۔ پھر کچھ اعرابی آئے اور انہوں نے بتایا کہ ایک بادل نے ان پر سایہ کیا اور اس میں سے ابو حفص، یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ، کے لیے کشادگی کی خبر دینے والی آواز سنی۔ امام لالکائی اور ابن کثیر نے بھی بعد کی کتابوں میں اسی یادگار واقعے کو نقل کیا ہے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ · PER-000393 · بعد کی مناقب و کرامات
صحابی/صحابیہ کی کرامتتاریخی نتیجہ

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بار بار درست ثابت ہونے والی فراست

صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان محفوظ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کسی معاملے میں اپنی رائے ظاہر کرتے تو بارہا معاملہ اسی طرح سامنے آتا جیسا انہوں نے سمجھا تھا۔ اسی روایت میں ایک واضح مثال بھی ہے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گزرنے والے مسلمان کے بارے میں گمان کیا کہ وہ زمانۂ جاہلیت میں اپنی قوم کا کاہن رہا ہوگا، اور اس شخص نے خود اس کی تصدیق کی۔ ایک دوسری صحیح نبوی روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر مُحَدَّثین کے ضمن میں آتا ہے، جبکہ ابن حجر اس سے نبوت کے بغیر سچی فراست یا الہام یافتہ بصیرت مراد لیتے ہیں۔ دیگر روایات میں وہ معروف مواقع بھی محفوظ ہیں جہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق بعد میں قرآنی وحی نازل ہوئی، لیکن اس سے ان کے لیے عصمت یا وحی ثابت نہیں ہوتی۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ · PER-000393 · صحیح حدیث
صحابی/صحابیہ کی کرامتپیش خبری یا وحیتاریخی نتیجہ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بنت خارجہ کے حمل میں موجود بچی کے بارے میں قول

امام مالک کی الموطأ میں ایک روایت محفوظ ہے کہ اپنی آخری بیماری کے دوران حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بنت خارجہ کے حمل کے بارے میں کہا: “أراها جارية” — “میرا خیال ہے کہ وہ لڑکی ہے۔” الموطأ کی ایک قدیم روایت میں بعد میں لڑکی پیدا ہونے کا ذکر ہے، جبکہ امام لالکائی اسے ام کلثوم قرار دیتے ہیں اور اس درست اندازے کے پورا ہونے کو کرامت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس واقعے کو پورا ہونے والا قوی گمان ہی رہنے دینا چاہیے؛ اسے نبوی وحی، مستقل علمِ غیب یا طبی پیش گوئی کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ · PER-000387 · بعد کی مناقب و کرامات
الٰہی نجاتاہلِ ایمان کی نجاترحمت یا برکتتاریخی نتیجہ

حضرت ہاجرہ اور شیر خوار اسماعیل علیہ السلام کے لیے زمزم: توکل، تلاش اور الٰہی نجات

صحیح بخاری حضرت ہاجرہ اور شیر خوار اسماعیل علیہ السلام کی بے آب و گیاہ وادی میں مکمل داستان محفوظ کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں بیتِ حرام کے قریب تھوڑی کھجوروں اور پانی کے ساتھ چھوڑ گئے۔ جب حضرت ہاجرہ کو معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا حکم ہے تو انہوں نے یقین سے کہا کہ اللہ انہیں ضائع نہیں کرے گا۔ پانی ختم ہونے پر وہ صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ مدد تلاش کرتی رہیں۔ پھر زمزم کے مقام پر فرشتے نے ایڑی یا پر سے زمین کھودی اور پانی نکل آیا۔ حضرت ہاجرہ نے پانی پیا، بچے کو دودھ پلایا، اور بعد میں قبیلۂ جرہم نے اسی پانی کو دیکھ کر ان کی اجازت سے قریب سکونت اختیار کی۔

حضرت ہاجرہ · PER-000381 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیعبرتمخالفین پر حجت

چلتا ہوا پتھر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی علانیہ براءت

صحیح بخاری ایک غیر معمولی واقعہ محفوظ کرتی ہے جس کے ذریعے اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک تکلیف دہ جسمانی الزام سے لوگوں کے سامنے بری فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نہایت باحیا تھے اور تنہائی میں غسل کرتے تھے، مگر بنی اسرائیل میں سے بعض لوگوں نے اسی حیا کو شک کا سبب بنا کر ان کے بارے میں عیب کی بات پھیلائی۔ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے کپڑے پتھر پر رکھے تو پتھر کپڑے لے کر چل پڑا، حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے گئے، اور آخرکار الزام غلط ثابت ہوگیا۔ صحیح بخاری اس براءت کو سورۂ احزاب ۳۳:۶۹ سے جوڑتی ہے، جبکہ دوسری صحیح روایت بھی چلتے پتھر کے بنیادی واقعے کی تائید کرتی ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام · PER-000366 · صحیح حدیث
قبول شدہ نبوی دعانبوی تائید کی نشانیدعا کی قبولیتآزمائشعبرترحمت یا برکت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا اور آسمانی مائدہ: عید، نشانی اور امتحان

قرآنِ مجید حواریوں کی ایک غیر معمولی درخواست بیان کرتا ہے: انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آسمان سے مائدہ نازل ہونے کی دعا کرنے کو کہا تاکہ وہ اس میں سے کھائیں، ان کے دل مطمئن ہوں، انہیں آپ کی صداقت پر مزید یقین حاصل ہو اور وہ اس نشانی کے گواہ بنیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے انہیں تقویٰ کی نصیحت کی، پھر دعا کی کہ یہ مائدہ پہلے اور بعد والوں کے لیے عید، اللہ کی طرف سے نشانی اور رزق بنے۔ اللہ نے جواب دیا کہ وہ اسے نازل فرمائے گا، مگر اس کے بعد کفر پر غیر معمولی سخت تنبیہ بھی فرمائی۔ بڑے کلاسیکی مفسرین اس جواب کو حقیقی نزول پر محمول کرتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن
الٰہی نجاتاہلِ ایمان کی نجاترحمت یا برکتمخالفین پر حجتتاریخی نتیجہ

اصحابِ کہف: ایمان، طویل نیند، بیداری اور قیامت کی نشانی

قرآن اصحابِ کہف کو ایسے مومن نوجوانوں کے طور پر بیان کرتا ہے جن کے دل اللہ نے مضبوط کیے۔ انہوں نے اپنی قوم کے باطل معبودوں سے براءت کی، غار میں پناہ لی اور رحمت و درست رہنمائی مانگی۔ اللہ نے انہیں کئی برس گہری نیند میں محفوظ رکھا اور پھر جگایا۔ انہیں گمان ہوا کہ شاید ایک دن یا دن کا کچھ حصہ گزرا ہے، اس لیے انہوں نے چاندی کا سکہ دے کر ایک ساتھی کو شہر سے اچھا کھانا لانے بھیجا اور سخت احتیاط کی تاکید کی، کیونکہ پہچانے جانے پر سنگسار کیے جانے یا دوبارہ پرانے مذہب میں لوٹائے جانے کا خطرہ تھا۔ آخرکار ان کا ظاہر ہونا اللہ کے وعدے اور قیامت کی سچائی کی نشانی بن گیا۔

اصحابِ کہف · PER-000379 · قرآن
وحیانی نشانی یا پیش خبرینبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیمخالفین پر حجت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لوگوں کے کھانے اور گھریلو ذخیرے کی خبر دینا: رب کی طرف سے نشانی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بنی اسرائیل کے سامنے ظاہر ہونے والی نشانیوں میں قرآن ایک غیر معمولی علم کا ذکر کرتا ہے: آپ انہیں بتاتے تھے کہ وہ کیا کھاتے ہیں اور اپنے گھروں میں کیا ذخیرہ کرتے ہیں۔ یہی آیت اس خبر کو دوسری نبوی نشانیوں کے ساتھ رکھ کر ایمان والوں کے لیے دلیل قرار دیتی ہے۔ کلاسیکی تفسیر واضح کرتی ہے کہ یہ ایسے نجی گھریلو امور تھے جنہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عام انسانی مشاہدے سے نہیں جانا تھا بلکہ اللہ نے انہیں یہ علم عطا فرمایا تھا؛ بعد کی تفصیلی حکایات قرآن کے صریح الفاظ کا حصہ نہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتمخالفین پر حجت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا: اللہ کے اذن سے نبوت کی عظیم نشانی

قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مردوں کو زندہ کرنے کو بنی اسرائیل کے لیے ان کی رسالت کی نہایت واضح نشانیوں میں شمار کرتا ہے۔ سورۂ آل عمران ۳:۴۹ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے اذن سے مردوں کو زندہ کرتے ہیں۔ سورۂ مائدہ ۵:۱۱۰ اسی عمل کو اللہ کی نعمت کے طور پر دوبارہ یاد کرتی ہے اور پھر اللہ کے اذن کی قید دہراتی ہے۔ یوں معجزہ نبوت کی دلیل ہے، مستقل ذاتی قدرت نہیں۔ قریب کی آیات اسے رسول کی اطاعت، صرف اللہ کی عبادت اور سیدھے راستے کی دعوت سے جوڑتی ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام · PER-000378 · قرآن