پیدائش کی تاریخ اور مقام یقینی طور پر ثابت نہیں۔ ایک نسبی روایت انہیں یمامہ کے بنو حنیفہ سے جوڑتی ہے، جبکہ دوسری قدیم روایت انہیں اس قبیلے کی ملکیت میں ایک سندھی باندی قرار دیتی ہے۔
خولہ حنفیہ
PER-000034
خاندان کی شخصیت
قوی امکان
مقامِ تدفین نامعلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
خولہ حنفیہ رحمۃ اللہ علیہا بنیادی طور پر محمد بن علی، جو محمد بن حنفیہ کے نام سے معروف ہوئے، کی والدہ اور امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کے گھرانے سے وابستہ خاتون کے طور پر یاد کی جاتی ہیں۔ قدیم سنی سوانحی کتابیں اور ایک قدیم امامی نسبی ماخذ ان کا محمد سے تعلق تسلیم کرتے ہیں، مگر اصل کے بارے میں مختلف روایتیں محفوظ کرتے ہیں: ایک روایت انہیں بنو حنیفہ کے معروف نسب سے جوڑتی ہے، جبکہ دوسری انہیں بنو حنیفہ کی ملکیت میں ایک باندی قرار دیتی ہے جو یمامہ کے واقعات کے بعد سامنے آئیں۔ اس لیے ان کی شناخت کو قطعی کے بجائے محتاط اور غالب قرار دینا درست ہے، جبکہ پیدائش، وفات اور تدفین کی صحیح تفصیلات ثابت نہیں۔
اس پروفائل میں استعمال ہونے والے قدیم ماخذ ان کی وفات کی تاریخ اور حالات یقینی طور پر متعین نہیں کرتے۔
تدفین کا مقام نامعلوم ہے؛ یہاں استعمال ہونے والا کوئی تصدیق شدہ قدیم ماخذ کسی قبر یا قبرستان کی شناخت نہیں کرتا۔
سوانح و تاریخی تعارف
قدیم ماخذ خولہ رحمۃ اللہ علیہا کو زیادہ تر ان کے فرزند محمد بن علی کی سوانح کے ذریعے محفوظ کرتے ہیں، جو محمد بن حنفیہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ ابن سعد کی الطبقات الکبریٰ میں ان کی والدہ کا نام خولہ بنت جعفر بن قیس لکھا گیا اور نسب بنو حنیفہ تک پہنچایا گیا ہے۔ قدیم امامی نسبی کتاب المعقبون من ولد امیر المؤمنین بھی محمد بن علی کی والدہ کو حنفیہ خولہ بنت جعفر بن قیس قرار دیتی ہے۔ یہ روایات خولہ، محمد اور امام علی علیہ السلام کے گھرانے کے درمیان مضبوط تاریخی تعلق قائم کرتی ہیں۔
تفصیلی نسبی روایت کے مطابق وہ خولہ بنت جعفر بن قیس بن مسلمہ تھیں اور بنو حنیفہ، بکر بن وائل سے تعلق رکھتی تھیں۔ طبری، ابن خلکان اور بعد کے سوانح نگار یہی یا اس سے قریب نسب نقل کرتے ہیں۔ اس بیان میں حنفیہ ایک قبائلی نسبت ہے، اور محمد کی مادری نسبت ابن حنفیہ نے انہیں اپنے بھائیوں امام حسن اور امام حسین علیہما السلام سے الگ شناخت دی۔
انہی قدیم کتابوں میں ایک نمایاں طور پر مختلف روایت بھی موجود ہے۔ ابن سعد لکھتے ہیں کہ کہا گیا وہ یمامہ کے قیدیوں میں سے تھیں اور امام علی علیہ السلام تک پہنچیں۔ طبری اور ذہبی اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ محمد کی والدہ سیاہ رنگ سندھی باندی تھیں، جو بنو حنیفہ کی ملکیت تھیں مگر خود اس قبیلے سے نہ تھیں۔ اصل کے ان دونوں بیانات کو ایک قطعی سوانح میں ملا دینا تاریخی طور پر درست نہیں۔
یمامہ کی اسیری والی روایت کے مطابق ان کا امام علی علیہ السلام کے گھرانے تک پہنچنا خلیفۂ اول کے زمانے میں یمامہ کی لڑائیوں، یعنی ۱۱ ہجری، کے بعد ہوا۔ ماخذ اس انتقال کی یکساں صورت بیان نہیں کرتے: بعض صرف اتنا کہتے ہیں کہ وہ امام علی علیہ السلام تک پہنچیں، جبکہ بعد کی روایتیں آزادی، نکاح یا قانونی انتقال کی مختلف تفصیل دیتی ہیں۔ محفوظ حقیقت یہ ہے کہ وہ امام علی علیہ السلام کے فرزند محمد کی والدہ بنیں؛ گھرانے میں آنے کی مکمل صورت مختلف فیہ ہے۔
ان کے فرزند کی مادری نسبت ان کی سب سے نمایاں تاریخی یاد بن گئی۔ محمد کو اپنی والدہ کی وجہ سے ابن حنفیہ کہا گیا، جبکہ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی شناخت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ذریعے تھی۔ اس نام نے خولہ رحمۃ اللہ علیہا کی یاد کو تاریخ، نسب اور تراجم کی کتابوں میں محفوظ رکھا، اگرچہ ان کی اپنی زندگی کے مستقل واقعات بہت کم نقل ہوئے۔
الطبقات، تاریخ طبری، سیر اعلام النبلاء اور وفیات الاعیان جیسی سنی کتابیں قبائلی نسب اور باندی والی مختلف روایت دونوں محفوظ کرتی ہیں۔ امامی نسبی ادب ان کا نام، نسب اور امام علی علیہ السلام کی اولاد کی ماؤں میں ان کا مقام نقل کرتا ہے۔ دونوں علمی روایتیں محمد بن حنفیہ کی والدہ ہونے پر متفق ہیں، مگر اصل اور سماجی حیثیت کی ہر تفصیل پر اتفاق نہیں۔
قدیم معتبر ماخذ میں ان کی پیدائش، نکاح کے وقت عمر، وفات کے سال یا تدفین کے مقام کی یقینی تاریخ موجود نہیں۔ ذمہ دار تاریخی نتیجہ مختصر مگر اہم ہے: خولہ حنفیہ رحمۃ اللہ علیہا وہ والدہ تھیں جن کی نسبت نے محمد بن حنفیہ کی مستقل شناخت بنائی، جبکہ ان کے نسب کی مختلف روایتوں کو بعد کی مصنوعی قطعیت کے بجائے واضح طور پر محفوظ رہنا چاہیے۔
تفصیلی نسبی روایت کے مطابق وہ خولہ بنت جعفر بن قیس بن مسلمہ تھیں اور بنو حنیفہ، بکر بن وائل سے تعلق رکھتی تھیں۔ طبری، ابن خلکان اور بعد کے سوانح نگار یہی یا اس سے قریب نسب نقل کرتے ہیں۔ اس بیان میں حنفیہ ایک قبائلی نسبت ہے، اور محمد کی مادری نسبت ابن حنفیہ نے انہیں اپنے بھائیوں امام حسن اور امام حسین علیہما السلام سے الگ شناخت دی۔
انہی قدیم کتابوں میں ایک نمایاں طور پر مختلف روایت بھی موجود ہے۔ ابن سعد لکھتے ہیں کہ کہا گیا وہ یمامہ کے قیدیوں میں سے تھیں اور امام علی علیہ السلام تک پہنچیں۔ طبری اور ذہبی اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ محمد کی والدہ سیاہ رنگ سندھی باندی تھیں، جو بنو حنیفہ کی ملکیت تھیں مگر خود اس قبیلے سے نہ تھیں۔ اصل کے ان دونوں بیانات کو ایک قطعی سوانح میں ملا دینا تاریخی طور پر درست نہیں۔
یمامہ کی اسیری والی روایت کے مطابق ان کا امام علی علیہ السلام کے گھرانے تک پہنچنا خلیفۂ اول کے زمانے میں یمامہ کی لڑائیوں، یعنی ۱۱ ہجری، کے بعد ہوا۔ ماخذ اس انتقال کی یکساں صورت بیان نہیں کرتے: بعض صرف اتنا کہتے ہیں کہ وہ امام علی علیہ السلام تک پہنچیں، جبکہ بعد کی روایتیں آزادی، نکاح یا قانونی انتقال کی مختلف تفصیل دیتی ہیں۔ محفوظ حقیقت یہ ہے کہ وہ امام علی علیہ السلام کے فرزند محمد کی والدہ بنیں؛ گھرانے میں آنے کی مکمل صورت مختلف فیہ ہے۔
ان کے فرزند کی مادری نسبت ان کی سب سے نمایاں تاریخی یاد بن گئی۔ محمد کو اپنی والدہ کی وجہ سے ابن حنفیہ کہا گیا، جبکہ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی شناخت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ذریعے تھی۔ اس نام نے خولہ رحمۃ اللہ علیہا کی یاد کو تاریخ، نسب اور تراجم کی کتابوں میں محفوظ رکھا، اگرچہ ان کی اپنی زندگی کے مستقل واقعات بہت کم نقل ہوئے۔
الطبقات، تاریخ طبری، سیر اعلام النبلاء اور وفیات الاعیان جیسی سنی کتابیں قبائلی نسب اور باندی والی مختلف روایت دونوں محفوظ کرتی ہیں۔ امامی نسبی ادب ان کا نام، نسب اور امام علی علیہ السلام کی اولاد کی ماؤں میں ان کا مقام نقل کرتا ہے۔ دونوں علمی روایتیں محمد بن حنفیہ کی والدہ ہونے پر متفق ہیں، مگر اصل اور سماجی حیثیت کی ہر تفصیل پر اتفاق نہیں۔
قدیم معتبر ماخذ میں ان کی پیدائش، نکاح کے وقت عمر، وفات کے سال یا تدفین کے مقام کی یقینی تاریخ موجود نہیں۔ ذمہ دار تاریخی نتیجہ مختصر مگر اہم ہے: خولہ حنفیہ رحمۃ اللہ علیہا وہ والدہ تھیں جن کی نسبت نے محمد بن حنفیہ کی مستقل شناخت بنائی، جبکہ ان کے نسب کی مختلف روایتوں کو بعد کی مصنوعی قطعیت کے بجائے واضح طور پر محفوظ رہنا چاہیے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
خولہ رحمۃ اللہ علیہا کی بنیادی تاریخی اہمیت نسبی ہے۔ ان کی نسبت سے محمد بن علی کو ابن حنفیہ کا مستقل لقب ملا، جو سنی اور امامی کتابوں میں امام علی علیہ السلام کے وسیع خاندان کے اندر ان کی الگ شناخت بن گیا۔
ان کا تعارف یہ بھی دکھاتا ہے کہ ابتدائی اسلامی سوانحی روایت ایک ہی شخصیت کے بارے میں مختلف سماجی اور نسبی بیانات محفوظ کرسکتی تھی۔ بنو حنیفہ کا معروف نسب اور قبیلے کی ملکیت میں سندھی باندی والی روایت دونوں اتنی قدیم ہیں کہ انہیں بیان کرنا ضروری ہے۔ کسی ایک کو بلااحتیاط قطعی قرار دینے کے بجائے دونوں کو محفوظ رکھنا زیادہ درست ہے۔
ان کی الگ سوانح کا مختصر ہونا بھی تاریخی طور پر معنی رکھتا ہے۔ ماخذ انہیں زیادہ تر مادری نسبت اور خاندان کے ذریعے یاد کرتے ہیں، نہ کہ ایک مفصل عوامی زندگی کے ذریعے۔ اس لیے درست عوامی پروفائل کو ان کا احترام، محمد بن حنفیہ سے ثابت تعلق اور غیر ثابت تاریخوں، قبروں یا ڈرامائی قصوں سے اجتناب محفوظ رکھنا چاہیے۔
ان کا تعارف یہ بھی دکھاتا ہے کہ ابتدائی اسلامی سوانحی روایت ایک ہی شخصیت کے بارے میں مختلف سماجی اور نسبی بیانات محفوظ کرسکتی تھی۔ بنو حنیفہ کا معروف نسب اور قبیلے کی ملکیت میں سندھی باندی والی روایت دونوں اتنی قدیم ہیں کہ انہیں بیان کرنا ضروری ہے۔ کسی ایک کو بلااحتیاط قطعی قرار دینے کے بجائے دونوں کو محفوظ رکھنا زیادہ درست ہے۔
ان کی الگ سوانح کا مختصر ہونا بھی تاریخی طور پر معنی رکھتا ہے۔ ماخذ انہیں زیادہ تر مادری نسبت اور خاندان کے ذریعے یاد کرتے ہیں، نہ کہ ایک مفصل عوامی زندگی کے ذریعے۔ اس لیے درست عوامی پروفائل کو ان کا احترام، محمد بن حنفیہ سے ثابت تعلق اور غیر ثابت تاریخوں، قبروں یا ڈرامائی قصوں سے اجتناب محفوظ رکھنا چاہیے۔
خاندانی روابط
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
امام علی ابن ابی طالبؑ
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Biography of Muhammad ibn al-Hanafiyya; digital entry | https://hadithportal.com/index.php?bab_id=1995&book=802&chapter_id=7&page=1&show=bab | Named Banu Hanifa genealogy, Yamama-captive variant and the report that his mother was a Sindhi bondwoman owned by Banu HanifaTarikh al-Rusul wa al-Muluk | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Entry among deaths of 81 AH; digital pagination varies | https://ftp.shamela.ws/book/9783/6372 | Named genealogy, Yamama-captive report and the competing Sindhi bondwoman report
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 4, biography of Muhammad ibn al-Hanafiyya | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/478/ | Khawla as mother of Muhammad ibn al-Hanafiyya and the competing bondwoman report
Al-Mu'aqqibun min Walad Amir al-Mu'minin | Yahya ibn al-Hasan al-Aqiqi | p. 8 in the accessible digital edition | https://usul.ai/ar/t/mucaqqibun | Early Imami genealogy naming al-Hanafiyya as Khawla bint Ja'far ibn Qays, mother of Muhammad ibn Ali
Kitab al-Irshad | Shaykh al-Mufid | Children of the Commander of the Faithful; pagination varies by edition | https://www.shiavault.com/books/kitab-al-irshad-1/chapters/12-the-children-of-the-commander-of-the-faithful/ | Direct Imami source identifying Muhammad's mother as Khawla bint Ja'far ibn Qays and confirming her relationship to Ali's household
Wafayat al-A'yan | Ahmad ibn Muhammad Ibn Khallikan | Vol. 4, p. 169 in the accessible digital edition | https://shamela.ws/book/1000/1698 | Named lineage, Yamama-captive variant and the competing Sindhi bondwoman report
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔