تاریخ اور مقامِ پیدائش معتبر قدیم مآخذ میں محفوظ نہیں۔
ام حبیب بنت ربیعہ
PER-000035
خاندان کی شخصیت
قوی امکان
مقامِ تدفین نامعلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
ام حبیب بنت ربیعہ، جو الصہباء التغلبیہ کے نام سے بھی معروف ہیں، بنو تغلب سے تعلق رکھنے والی ایک تاریخی خاتون تھیں۔ قدیم نسبی اور سوانحی مآخذ انہیں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے فرزند عمر الاکبر اور صاحبزادی رقیہ کی والدہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی زندگی کی مستقل تفصیلات بہت محدود ہیں، اس لیے ان کے بارے میں صرف وہی معلومات اعتماد سے بیان کی جاسکتی ہیں جو قدیم خاندانی اور رجالی کتابوں میں مشترک طور پر محفوظ ہیں۔
تاریخ اور مقامِ وفات معتبر قدیم مآخذ میں محفوظ نہیں۔
مدفن کی قابل اعتماد تعیین نہیں ملتی؛ کسی مخصوص قبر یا مزار کی نسبت ثابت نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
ان کی سب سے مستحکم شناخت الصہباء اور کنیت ام حبیب ہے۔ ابن سعد اور مصعب زبیری انہیں بنو تغلب کی ام حبیب بنت ربیعہ بن بجیر لکھتے ہیں، بلاذری نے بنت حبیب بن بجیر کی صورت محفوظ کی، جبکہ ابن حجر کے اندراج میں ثعلبیہ کی نسبت ملتی ہے۔ ان اختلافات کی وجہ سے ان کے پدری نسب کی ہر کڑی کو قطعی طور پر قائم نہیں کیا جاسکتا، لیکن الصہباء یا ام حبیب کی شناخت اور عمر و رقیہ سے ان کا تعلق بنیادی مآخذ میں مستحکم ہے۔
مضبوط قدیم روایات کے مطابق وہ عین التمر کے علاقے میں بنو تغلب کے گروہوں کے خلاف خالد بن ولید کی مہمات سے متعلق قیدیوں میں شامل تھیں۔ نسبی مآخذ انہیں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے عمر الاکبر اور رقیہ کی والدہ کے طور پر محفوظ کرتے ہیں۔
نسبی کتابیں عمر الاکبر بن علی اور رقیہ بنت علی کو ان کی اولاد قرار دیتی ہیں، اور بعض روایات ان دونوں کو جڑواں بھی کہتی ہیں۔ ام حبیب کی اپنی پیدائش، وفات، علمی سرگرمیوں اور ذاتی حالات کے بارے میں قابل اعتماد تفصیلی معلومات محفوظ نہیں؛ ان کی تاریخی شناخت زیادہ تر حضرت علی علیہ السلام کے گھرانے اور ان کی اولاد کے نسب کے ذریعے باقی رہی ہے۔
مضبوط قدیم روایات کے مطابق وہ عین التمر کے علاقے میں بنو تغلب کے گروہوں کے خلاف خالد بن ولید کی مہمات سے متعلق قیدیوں میں شامل تھیں۔ نسبی مآخذ انہیں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے عمر الاکبر اور رقیہ کی والدہ کے طور پر محفوظ کرتے ہیں۔
نسبی کتابیں عمر الاکبر بن علی اور رقیہ بنت علی کو ان کی اولاد قرار دیتی ہیں، اور بعض روایات ان دونوں کو جڑواں بھی کہتی ہیں۔ ام حبیب کی اپنی پیدائش، وفات، علمی سرگرمیوں اور ذاتی حالات کے بارے میں قابل اعتماد تفصیلی معلومات محفوظ نہیں؛ ان کی تاریخی شناخت زیادہ تر حضرت علی علیہ السلام کے گھرانے اور ان کی اولاد کے نسب کے ذریعے باقی رہی ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
ام حبیب الصہباء التغلبیہ کی تاریخی اہمیت بنیادی طور پر علوی خاندان کے نسب میں ہے۔ وہ عمر الاکبر بن علی اور رقیہ بنت علی کی والدہ کے طور پر قدیم نسب، طبقات اور رجال کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ محدود شواہد کے باعث ان سے منسوب غیر ثابت تفصیلی واقعات، فضائل یا مدفن کے دعوے شامل نہیں کیے گئے۔
خاندانی روابط
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
امام علی ابن ابی طالبؑ
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
Al-Isabah fi Tamyiz al-Sahabah | Ibn Hajar al-Asqalani | Volume 8, page 219, entry 11426 | https://ftp.shamela.ws/book/9767/4132 | Name al-Sahba, kunya Umm Habib, al-Tha'labiyya lineage form, Ayn al-Tamr captivity, and children Umar and RuqayyaAl-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Volume 3, biography of Ali ibn Abi Talib; printed pagination varies by edition | https://ftp.shamela.ws/book/1686/698 | Banu Taghlib genealogy, name Umm Habib bint Rabi'a ibn Bujayr, captivity, and motherhood of Umar and Ruqayya
Nasab Quraysh | Mus'ab al-Zubayri | Section on the children of Ali ibn Abi Talib | https://shamela.ws/book/2922/40 | Al-Sahba or Umm Habib from Banu Taghlib and the report that Umar and Ruqayya were twins
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | al-Mizzi | Entry 4289, Umar ibn Ali ibn Abi Talib | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/5361/ | Lineage variants, captivity report, children, and transmission through Umar
Futuh al-Buldan | Ahmad ibn Yahya al-Baladhuri | Account of Khalid's movement after Ayn al-Tamr; pagination varies by edition | https://shamela.ws/book/12221/111 | Variant bint Habib ibn Bujayr and the Banu Taghlib captivity context
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔