پیدائش کا سال اور مقام معتبر ابتدائی مآخذ میں متعین نہیں۔ بعد کی روایت انہیں عمر الاطرف کی جڑواں بہن کہتی ہے، مگر اس تفصیل کو قطعی تاریخ نہیں سمجھا گیا۔
رقیہ بنت علیؑ
PER-000042
اہلِ بیت
قوی امکان
منسوب مقام
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
رقیہ بنت علی علیہا السلام کو امامی نسبی روایت امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور ام حبیب صہباء تغلبیہ کی بیٹی اور عمر الاطرف کی ہمشیرہ قرار دیتی ہے؛ بعض بعد کے مآخذ دونوں کو جڑواں بھی کہتے ہیں۔ کربلا کے ابتدائی مقتل مآخذ عبداللہ بن مسلم بن عقیل کی والدہ کا نام رقیہ بنت علی لکھتے ہیں، جس سے مسلم بن عقیل کے ساتھ ازدواجی نسبت نکلتی ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ وہاں یہی رقیہ کبریٰ مراد ہیں یا علی علیہ السلام کی کوئی دوسری رقیہ۔ پیدائش، وفات اور قبر کی معتبر تفصیل معلوم نہیں، جبکہ قاہرہ اور لاہور کی قبری نسبتیں مقامی زیارتی روایات ہیں، ثابت تاریخی تدفین نہیں۔
وفات کی تاریخ، مقام اور حالات معتبر طور پر معلوم نہیں۔ ۶۱ ہجری، یعنی ۶۸۰ء میں ان کے منسوب فرزند عبداللہ بن مسلم کی شہادت ثابت ہے، مگر اس سے خود رقیہ علیہا السلام کی وفات کا وقت متعین نہیں ہوتا۔
تاریخی تدفین نامعلوم ہے۔ قاہرہ کا مشہدِ سیدہ رقیہ اور لاہور کا بی بی پاک دامن ان سے منسوب مقامی زیارتی مقامات ہیں، مگر کسی ایک نسبت کو ان کی ثابت انفرادی قبر قرار دینے کے لیے کافی ابتدائی شہادت موجود نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
رقیہ بنت علی علیہا السلام کا ذکر امام علی علیہ السلام کی اولاد کی فہرستوں میں ملتا ہے۔ شیخ مفید کی الارشاد سے منقول ترتیب کے مطابق ان کی والدہ ام حبیب بنت ربیعہ تھیں، جنہیں صہباء تغلبیہ بھی کہا جاتا ہے، اور اسی والدہ سے عمر الاطرف بھی پیدا ہوئے۔ محفوظ شخصی ریکارڈ میں والد، والدہ اور خود شخصیت کی شناخت احتمال کے درجے پر ہے، جو محدود اور مختلف نسبی روایتوں کے مطابق محتاط درجہ بندی ہے۔
بعض بعد کے امامی اور سوانحی مآخذ عمر الاطرف اور رقیہ کو جڑواں بہن بھائی قرار دیتے ہیں، لیکن یہ تفصیل تمام ابتدائی فہرستوں میں یکساں طور پر محفوظ نہیں۔ اسی طرح صہباء کے قبیلہ، مکمل نسب اور ان کے مدینہ پہنچنے کے حالات کی عبارتیں بھی مختلف ہیں۔ اس لیے پروفائل مشترک والدہ اور بہن بھائی کی نسبت کو اہم سمجھتا ہے، مگر جڑواں ہونے کو بعد کی معروف روایت کے طور پر پیش کرتا ہے، قطعی تاریخ کے طور پر نہیں۔
ابو الفرج اصفہانی کی مقاتل الطالبیین اور ابن اثیر کی الکامل میں کربلا کے شہداء میں عبداللہ بن مسلم بن عقیل کا ذکر ہے اور ان کی والدہ رقیہ بنت علی لکھی گئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی رقیہ بنت علی کا نکاح مسلم بن عقیل سے تھا۔ بعض امامی سوانح اسی نسبت کو ام حبیب صہباء کی بیٹی رقیہ کے ساتھ جوڑتی ہیں اور علی نامی ایک دوسرے فرزند کا بھی ذکر کرتی ہیں۔
آزاد تقابلی جانچ زیادہ محتاط نتیجے کا تقاضا کرتی ہے۔ ابن حبیب کی المحبر کے مطابق مسلم بن عقیل کے نکاح میں پہلے رقیہ بنت علی تھیں اور بعد میں انہوں نے رقیہ صغریٰ بنت علی سے نکاح کیا، لہٰذا مآخذ حضرت علی کی دو ہم نام صاحبزادیوں کو محفوظ کرتے ہیں۔ الارشاد ام حبیب بنت ربیعہ سے عمر الاطرف کے ساتھ پیدا ہونے والی رقیہ کی شناخت بیان کرتی ہے، جبکہ مقاتل الطالبیین عبداللہ بن مسلم کی والدہ کو رقیہ بنت علی اور ان کی نانی کو امِ ولد کہتی ہے۔ اسی بنا پر اس رقیہ کا مسلم بن عقیل سے ازدواجی رشتہ احتمال کے درجے پر درج کیا گیا ہے، مگر عبداللہ کی والدہ ہونا اس مخصوص رقیہ کے لیے قطعی قرار نہیں دیا گیا۔
عبداللہ بن مسلم ۶۱ ہجری، یعنی ۶۸۰ء میں کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہید ہوئے۔ اس واقعے سے ان کی والدہ کی خاندانی نسبت کی اہمیت واضح ہوتی ہے، لیکن یہ خود بخود ثابت نہیں کرتا کہ رقیہ علیہا السلام کربلا میں موجود تھیں، اسیران کے قافلے میں شامل ہوئیں یا کسی مخصوص مقام تک پہنچیں۔ ایسی تفصیلات زیادہ تر بعد کی مجالس اور مقامی روایات میں ملتی ہیں اور انہیں ابتدائی مقتل کے برابر تاریخی درجہ نہیں دیا گیا۔
رقیہ علیہا السلام کی پیدائش اور وفات کا سال، آخری قیام اور اصل مدفن معتبر ابتدائی مآخذ سے معلوم نہیں۔ قاہرہ میں مشہدِ سیدہ رقیہ اور لاہور میں بی بی پاک دامن ان سے منسوب معروف زیارتی مقامات ہیں، مگر دونوں نسبتیں مقامی مذہبی یاد کا حصہ ہیں اور کسی ایک جگہ کو ان کی ثابت قبر قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ ان کی تاریخی اہمیت ایک مکمل سوانح سے زیادہ علوی نسب، عقیلی خاندان اور کربلا کے شہداء کی خاندانی یاد میں ہے۔
بعض بعد کے امامی اور سوانحی مآخذ عمر الاطرف اور رقیہ کو جڑواں بہن بھائی قرار دیتے ہیں، لیکن یہ تفصیل تمام ابتدائی فہرستوں میں یکساں طور پر محفوظ نہیں۔ اسی طرح صہباء کے قبیلہ، مکمل نسب اور ان کے مدینہ پہنچنے کے حالات کی عبارتیں بھی مختلف ہیں۔ اس لیے پروفائل مشترک والدہ اور بہن بھائی کی نسبت کو اہم سمجھتا ہے، مگر جڑواں ہونے کو بعد کی معروف روایت کے طور پر پیش کرتا ہے، قطعی تاریخ کے طور پر نہیں۔
ابو الفرج اصفہانی کی مقاتل الطالبیین اور ابن اثیر کی الکامل میں کربلا کے شہداء میں عبداللہ بن مسلم بن عقیل کا ذکر ہے اور ان کی والدہ رقیہ بنت علی لکھی گئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی رقیہ بنت علی کا نکاح مسلم بن عقیل سے تھا۔ بعض امامی سوانح اسی نسبت کو ام حبیب صہباء کی بیٹی رقیہ کے ساتھ جوڑتی ہیں اور علی نامی ایک دوسرے فرزند کا بھی ذکر کرتی ہیں۔
آزاد تقابلی جانچ زیادہ محتاط نتیجے کا تقاضا کرتی ہے۔ ابن حبیب کی المحبر کے مطابق مسلم بن عقیل کے نکاح میں پہلے رقیہ بنت علی تھیں اور بعد میں انہوں نے رقیہ صغریٰ بنت علی سے نکاح کیا، لہٰذا مآخذ حضرت علی کی دو ہم نام صاحبزادیوں کو محفوظ کرتے ہیں۔ الارشاد ام حبیب بنت ربیعہ سے عمر الاطرف کے ساتھ پیدا ہونے والی رقیہ کی شناخت بیان کرتی ہے، جبکہ مقاتل الطالبیین عبداللہ بن مسلم کی والدہ کو رقیہ بنت علی اور ان کی نانی کو امِ ولد کہتی ہے۔ اسی بنا پر اس رقیہ کا مسلم بن عقیل سے ازدواجی رشتہ احتمال کے درجے پر درج کیا گیا ہے، مگر عبداللہ کی والدہ ہونا اس مخصوص رقیہ کے لیے قطعی قرار نہیں دیا گیا۔
عبداللہ بن مسلم ۶۱ ہجری، یعنی ۶۸۰ء میں کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہید ہوئے۔ اس واقعے سے ان کی والدہ کی خاندانی نسبت کی اہمیت واضح ہوتی ہے، لیکن یہ خود بخود ثابت نہیں کرتا کہ رقیہ علیہا السلام کربلا میں موجود تھیں، اسیران کے قافلے میں شامل ہوئیں یا کسی مخصوص مقام تک پہنچیں۔ ایسی تفصیلات زیادہ تر بعد کی مجالس اور مقامی روایات میں ملتی ہیں اور انہیں ابتدائی مقتل کے برابر تاریخی درجہ نہیں دیا گیا۔
رقیہ علیہا السلام کی پیدائش اور وفات کا سال، آخری قیام اور اصل مدفن معتبر ابتدائی مآخذ سے معلوم نہیں۔ قاہرہ میں مشہدِ سیدہ رقیہ اور لاہور میں بی بی پاک دامن ان سے منسوب معروف زیارتی مقامات ہیں، مگر دونوں نسبتیں مقامی مذہبی یاد کا حصہ ہیں اور کسی ایک جگہ کو ان کی ثابت قبر قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ ان کی تاریخی اہمیت ایک مکمل سوانح سے زیادہ علوی نسب، عقیلی خاندان اور کربلا کے شہداء کی خاندانی یاد میں ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
رقیہ بنت علی علیہا السلام کا تذکرہ امام علی علیہ السلام کی وسیع اولاد، تغلبی مادری شاخ اور خاندانِ عقیل کے باہمی رشتوں کو سمجھنے میں اہم ہے۔ مسلم بن عقیل سے احتمال کے درجے پر درج ازدواجی نسبت انہیں خاندانِ عقیل سے جوڑتی ہے، جبکہ عبداللہ بن مسلم کی والدہ کے طور پر اسی مخصوص رقیہ کی تعیین قطعی نہیں۔
ان کی سوانح ماخذی احتیاط کی بھی مثال ہے۔ نسبی فہرست، مقتل، بعد کی امامی سوانح اور قاہرہ و لاہور کی زیارتی روایات مختلف نوعیت کے شواہد ہیں؛ انہیں ایک ہی درجے پر رکھنا درست نہیں۔ اس لیے محفوظ شناخت اور مقامی احترام کو برقرار رکھتے ہوئے عبداللہ کی مادری شناخت اور تدفین کے غیر حل شدہ سوالات کو مسلم حقیقت نہیں بنایا گیا۔
ان کی سوانح ماخذی احتیاط کی بھی مثال ہے۔ نسبی فہرست، مقتل، بعد کی امامی سوانح اور قاہرہ و لاہور کی زیارتی روایات مختلف نوعیت کے شواہد ہیں؛ انہیں ایک ہی درجے پر رکھنا درست نہیں۔ اس لیے محفوظ شناخت اور مقامی احترام کو برقرار رکھتے ہوئے عبداللہ کی مادری شناخت اور تدفین کے غیر حل شدہ سوالات کو مسلم حقیقت نہیں بنایا گیا۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام علی ابن ابی طالبؑ
قوی امکان
والدہ
ام حبیب بنت ربیعہ
قوی امکان
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام
قوی امکان
ماخذ
Kitab al-Irshad | Shaykh al-Mufid | Vol. 1, p. 354, children of Imam Ali; citation and summary accessible at https://ar.al-shia.org/%D8%B1%D9%82%D9%8A%D8%A9-%D8%A8%D9%86%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D8%A5%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%B9%D9%84%D9%8A/ | identity as Ali's daughter and attribution of her mother as Umm Habib al-SahbaThe Fourteen Luminaries of Islam | Ahmad Ahmadi Birjandi | Ali family section; pagination varies by digital edition | https://al-islam.org/fourteen-luminaries-islam-ahmad-ahmadi-birjandi/second-infallible-hadhrat-ali-b-abi-talib-first-imam | later Imami tradition that Umar al-Atraf and Ruqayya were twins born to Umm Habib
Maqatil al-Talibiyyin | Abu al-Faraj al-Isfahani | p. 78 in the accessed digital edition | https://ablibrary.net/book_content/3118/78 | Abd Allah ibn Muslim's mother named as Ruqayya bint Ali and his death at Karbala
Al-Kamil fi al-Tarikh | Ibn al-Athir | Vol. 3, pp. 195-196 in the accessed edition, events of 61 AH | https://www.islamweb.net/ar/library/content/126/601/ | Abd Allah ibn Muslim's mother named as Ruqayya daughter of Ali and the Karbala death-list
Al-Durr al-Manthur fi Tabaqat Rabbat al-Khudur | Zaynab Fawwaz | p. 206, Ruqayya daughter of Ali entry | https://shamela.ws/book/9229/191 | late biographical report concerning Umm Habib al-Sahba, Umar as her full brother, twinship tradition, and the Cairo shrine attribution
Bibi Pak Daman | Punjab Auqaf and Religious Affairs Department | official heritage page; accessed 2026-08-01 | https://auqaf.punjab.gov.pk/bibi-pakdamna | Lahore local shrine tradition attributing the site to Ruqayya bint Ali
Masjid al-Sayyida Ruqayya, Cairo | Egyptian Ministry of Awqaf | Official monument history; inscription dated 533 AH / 1138-1139 CE | https://awkafonline.gov.eg/about/mosques/79/ | verifies the Fatimid-era commemorative shrine and inscription, not the historical fact of burial
Al-Muhabbar | Muhammad ibn Habib al-Baghdadi | p. 56 | https://islamport.com/l/trk/4383/56.htm | records Muslim ibn Aqil's successive marriages to Ruqayya bint Ali and Ruqayya al-Sughra, preserving the two-Ruqayya distinction
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔