پہلی صدی ہجری میں، رقیہ بنت علی کے جڑواں بھائی کے طور پر؛ درست سال محفوظ نہیں۔
عمر بن علیؑ
PER-000041
اہلِ بیت
قوی امکان
صرف عمومی علاقہ معلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
عمر بن علی المعروف بہ عمر الاطرف، امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور ام حبیب الصہباء تغلبیہ کے فرزند اور رقیہ بنت علی کے جڑواں بھائی تھے۔ مآخذ انہیں تابعی، راویِ حدیث اور علوی نسل کی ایک مستقل شاخ کے جد کے طور پر یاد کرتے ہیں، لیکن کربلا میں ان کی شرکت، وفات کے زمانے اور مدفن کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔
وفات کے بارے میں ۶۷ھ میں قتل، ینبع میں ۷۵ یا ۷۷ برس کی عمر میں وفات، اور ۸۵ برس عمر کی مختلف روایات ہیں؛ کوئی ایک تاریخ قطعی نہیں۔
ایک نمایاں نسبی روایت کے مطابق حضرت عمر بن علی علیہ السلام واقعۂ کربلا کے بعد طویل عرصہ زندہ رہے، مدینہ منورہ کے قریب ساحلی شہر ینبع منتقل ہوئے، وہیں آخری ایام گزارے، تقریباً ۷۵ سے ۸۵ برس کی عمر میں وہیں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔ اس لیے مدفن کے بارے میں ینبع کی روایت زیادہ نمایاں ہے، اگرچہ کسی الگ اور مسلسل طور پر ثابت شدہ قبر کی یقینی شناخت دستیاب نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
عمر بن علی علیہ السلام کو نسبی مآخذ عموماً عمر الاطرف، عمر الاکبر، ابو القاسم اور بعض جگہ ابو حفص کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ امام مزی نے «تہذیب الکمال»، جلد ۲۱، سوانح ۴۲۸۹ میں انہیں امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا فرزند لکھا اور والدہ کا نام الصہباء بنت ربیعہ یا بنت عباد، یعنی ام حبیب تغلبیہ، نقل کیا۔ مصعب زبیری کے حوالے سے وہ رقیہ بنت علی کے جڑواں بھائی اور امام علی علیہ السلام کی آخری اولاد میں شمار ہوتے ہیں۔
ان کی والدہ ام حبیب الصہباء تغلبیہ تھیں، جن کا تعلق بنی تغلب سے تھا۔ بعض نسبی روایات انہیں عین التمر کے قیدیوں میں شمار کرتی ہیں اور بعض یمامہ کی طرف نسبت دیتی ہیں۔ اس اختلاف کو جغرافیائی روایت کے فرق کے طور پر رکھنا چاہیے؛ اس سے عمر بن علی علیہ السلام کی والدہ کی بنیادی شناخت متاثر نہیں ہوتی، کیونکہ متعدد سوانحی و نسبی مآخذ ام حبیب الصہباء اور رقیہ کے ساتھ جڑواں ولادت پر متفق ہیں۔
«تہذیب الکمال»، جلد ۲۱، صفحات ۴۶۹–۴۷۰ کے مطابق عمر بن علی علیہ السلام نے اپنے والد امام علی علیہ السلام سے روایت کی۔ ان سے ان کے بیٹوں محمد، عبید اللہ اور علی، نیز ابو زرعہ عمرو بن جابر حضرمی نے روایت کی۔ ابن سعد کے حوالے سے انہیں مدینہ کے اولین تابعین میں شمار کیا گیا اور یہ بھی لکھا گیا کہ ان کی اولاد میں متعدد اہل روایت تھے۔ عجلی نے انہیں ثقہ تابعی کہا؛ اس طرح ان کی تاریخی اہمیت صرف نسب تک محدود نہیں رہتی بلکہ حدیثی روایت سے بھی وابستہ ہے۔
ابن عنبہ نے «عمدۃ الطالب»، جلد ۱، صفحہ ۳۶۱ میں انہیں فصیح، سخی، پاک دامن اور صاحبِ مروّت بتایا ہے۔ اسی مقام پر ایک منقول واقعے میں قحط کے زمانے میں بنی عدی کے ایک پڑاؤ پر ان کا نرم گفتگو سے ایک مخالفِ بنی ہاشم کو قائل کرنا، اپنا زادِ سفر اور لباس تقسیم کرنا، اور بعد میں بھی اس شخص کے ساتھ حسنِ سلوک جاری رکھنا بیان ہوا ہے۔ اسے ایک بعد کے نسبی مؤلف کی محفوظ کردہ اخلاقی روایت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، نہ کہ ابتدائی دور کی مستقل طور پر ثابت شدہ خبر کے طور پر۔
کربلا کے بارے میں سب سے اہم احتیاط یہ ہے کہ بعد کی بعض مقتل کتابوں نے «عمر بن علی» نامی ایک شہید کا ذکر کیا، لیکن نسبی مآخذ عمر الاطرف کو واقعۂ کربلا کے بعد زندہ بتاتے ہیں۔ «سر السلسلۃ العلویۃ»، جلد ۱، صفحات ۹۶–۹۷، اور «عمدۃ الطالب»، جلد ۱، صفحہ ۳۶۲، واضح طور پر لکھتے ہیں کہ وہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ عراق نہیں گئے اور بعد کے سیاسی ادوار تک زندہ رہے۔ اس لیے کربلا کے شہید «عمر» کو اس تعارف کے عمر الاطرف کے ساتھ قطعی طور پر یکساں قرار دینا تاریخی طور پر محفوظ نہیں۔
بعد کی زندگی میں ان کا نام عبد اللہ بن زبیر، حجاج بن یوسف اور امام زین العابدین علیہ السلام کے زمانے سے متعلق روایات میں آتا ہے۔ «سر السلسلۃ العلویۃ»، صفحہ ۹۷، اور «عمدۃ الطالب»، صفحہ ۳۶۲، صدقاتِ علویہ کی تولیت اور سیاسی بیعتوں سے متعلق خبریں نقل کرتے ہیں۔ چونکہ یہ مواد بعد کے نسبی و سوانحی ذخیرے سے ہے، اس لیے اسے قطعی سیاسی کردار کے بجائے منقول تاریخی روایت کے طور پر سمجھنا مناسب ہے۔
ان کی اولاد میں محمد، ام موسیٰ اور ام حبیب کے نام ابن سعد کے حوالے سے محفوظ ہیں اور ان کی والدہ اسماء بنت عقیل بن ابی طالب بیان ہوئی ہیں۔ «سر السلسلۃ العلویۃ»، صفحہ ۹۷، لکھتی ہے کہ عمر الاطرف کی باقی نسل بنیادی طور پر ان کے بیٹے محمد سے چلی۔ ابن عنبہ بھی انہیں امام علی علیہ السلام کے ان پانچ بیٹوں میں شمار کرتے ہیں جن سے نسل جاری ہوئی، اس لیے علوی نسب کی تاریخ میں ان کا مقام مستقل اور قابل شناخت ہے۔
وفات کے بارے میں مآخذ یکساں نہیں۔ مزی نے «تہذیب الکمال» میں ابن حبان اور خلیفہ بن خیاط سے ۶۷ھ میں مصعب بن زبیر کے ساتھ قتل ہونے کی روایت نقل کی، جبکہ «عمدۃ الطالب»، صفحہ ۳۶۲، انہیں ۷۵ یا ۷۷ برس کی عمر میں ینبع میں وفات پانے والا بتاتی ہے اور «سر السلسلۃ العلویۃ» میں ۸۵ برس عمر کی روایت بھی موجود ہے۔ ان اختلافات کی وجہ سے کسی ایک سال کو قطعی نہیں بنایا گیا۔ مدفن کے بارے میں بھی ینبع کی روایت زیادہ نمایاں ہے، مگر کسی الگ، مسلسل طور پر ثابت شدہ قبر کی شناخت دستیاب نہیں۔ ان اختلافات کے باوجود، ایک نمایاں نسبی روایت کے مطابق حضرت عمر بن علی علیہ السلام واقعۂ کربلا میں شہید نہیں ہوئے، بلکہ اس کے بعد طویل عرصہ زندہ رہے، مدینہ منورہ کے قریب ساحلی شہر ینبع منتقل ہوئے، وہیں زندگی کے آخری ایام گزارے، تقریباً ۷۵ سے ۸۵ برس کی عمر میں وہیں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔
ان کی والدہ ام حبیب الصہباء تغلبیہ تھیں، جن کا تعلق بنی تغلب سے تھا۔ بعض نسبی روایات انہیں عین التمر کے قیدیوں میں شمار کرتی ہیں اور بعض یمامہ کی طرف نسبت دیتی ہیں۔ اس اختلاف کو جغرافیائی روایت کے فرق کے طور پر رکھنا چاہیے؛ اس سے عمر بن علی علیہ السلام کی والدہ کی بنیادی شناخت متاثر نہیں ہوتی، کیونکہ متعدد سوانحی و نسبی مآخذ ام حبیب الصہباء اور رقیہ کے ساتھ جڑواں ولادت پر متفق ہیں۔
«تہذیب الکمال»، جلد ۲۱، صفحات ۴۶۹–۴۷۰ کے مطابق عمر بن علی علیہ السلام نے اپنے والد امام علی علیہ السلام سے روایت کی۔ ان سے ان کے بیٹوں محمد، عبید اللہ اور علی، نیز ابو زرعہ عمرو بن جابر حضرمی نے روایت کی۔ ابن سعد کے حوالے سے انہیں مدینہ کے اولین تابعین میں شمار کیا گیا اور یہ بھی لکھا گیا کہ ان کی اولاد میں متعدد اہل روایت تھے۔ عجلی نے انہیں ثقہ تابعی کہا؛ اس طرح ان کی تاریخی اہمیت صرف نسب تک محدود نہیں رہتی بلکہ حدیثی روایت سے بھی وابستہ ہے۔
ابن عنبہ نے «عمدۃ الطالب»، جلد ۱، صفحہ ۳۶۱ میں انہیں فصیح، سخی، پاک دامن اور صاحبِ مروّت بتایا ہے۔ اسی مقام پر ایک منقول واقعے میں قحط کے زمانے میں بنی عدی کے ایک پڑاؤ پر ان کا نرم گفتگو سے ایک مخالفِ بنی ہاشم کو قائل کرنا، اپنا زادِ سفر اور لباس تقسیم کرنا، اور بعد میں بھی اس شخص کے ساتھ حسنِ سلوک جاری رکھنا بیان ہوا ہے۔ اسے ایک بعد کے نسبی مؤلف کی محفوظ کردہ اخلاقی روایت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، نہ کہ ابتدائی دور کی مستقل طور پر ثابت شدہ خبر کے طور پر۔
کربلا کے بارے میں سب سے اہم احتیاط یہ ہے کہ بعد کی بعض مقتل کتابوں نے «عمر بن علی» نامی ایک شہید کا ذکر کیا، لیکن نسبی مآخذ عمر الاطرف کو واقعۂ کربلا کے بعد زندہ بتاتے ہیں۔ «سر السلسلۃ العلویۃ»، جلد ۱، صفحات ۹۶–۹۷، اور «عمدۃ الطالب»، جلد ۱، صفحہ ۳۶۲، واضح طور پر لکھتے ہیں کہ وہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ عراق نہیں گئے اور بعد کے سیاسی ادوار تک زندہ رہے۔ اس لیے کربلا کے شہید «عمر» کو اس تعارف کے عمر الاطرف کے ساتھ قطعی طور پر یکساں قرار دینا تاریخی طور پر محفوظ نہیں۔
بعد کی زندگی میں ان کا نام عبد اللہ بن زبیر، حجاج بن یوسف اور امام زین العابدین علیہ السلام کے زمانے سے متعلق روایات میں آتا ہے۔ «سر السلسلۃ العلویۃ»، صفحہ ۹۷، اور «عمدۃ الطالب»، صفحہ ۳۶۲، صدقاتِ علویہ کی تولیت اور سیاسی بیعتوں سے متعلق خبریں نقل کرتے ہیں۔ چونکہ یہ مواد بعد کے نسبی و سوانحی ذخیرے سے ہے، اس لیے اسے قطعی سیاسی کردار کے بجائے منقول تاریخی روایت کے طور پر سمجھنا مناسب ہے۔
ان کی اولاد میں محمد، ام موسیٰ اور ام حبیب کے نام ابن سعد کے حوالے سے محفوظ ہیں اور ان کی والدہ اسماء بنت عقیل بن ابی طالب بیان ہوئی ہیں۔ «سر السلسلۃ العلویۃ»، صفحہ ۹۷، لکھتی ہے کہ عمر الاطرف کی باقی نسل بنیادی طور پر ان کے بیٹے محمد سے چلی۔ ابن عنبہ بھی انہیں امام علی علیہ السلام کے ان پانچ بیٹوں میں شمار کرتے ہیں جن سے نسل جاری ہوئی، اس لیے علوی نسب کی تاریخ میں ان کا مقام مستقل اور قابل شناخت ہے۔
وفات کے بارے میں مآخذ یکساں نہیں۔ مزی نے «تہذیب الکمال» میں ابن حبان اور خلیفہ بن خیاط سے ۶۷ھ میں مصعب بن زبیر کے ساتھ قتل ہونے کی روایت نقل کی، جبکہ «عمدۃ الطالب»، صفحہ ۳۶۲، انہیں ۷۵ یا ۷۷ برس کی عمر میں ینبع میں وفات پانے والا بتاتی ہے اور «سر السلسلۃ العلویۃ» میں ۸۵ برس عمر کی روایت بھی موجود ہے۔ ان اختلافات کی وجہ سے کسی ایک سال کو قطعی نہیں بنایا گیا۔ مدفن کے بارے میں بھی ینبع کی روایت زیادہ نمایاں ہے، مگر کسی الگ، مسلسل طور پر ثابت شدہ قبر کی شناخت دستیاب نہیں۔ ان اختلافات کے باوجود، ایک نمایاں نسبی روایت کے مطابق حضرت عمر بن علی علیہ السلام واقعۂ کربلا میں شہید نہیں ہوئے، بلکہ اس کے بعد طویل عرصہ زندہ رہے، مدینہ منورہ کے قریب ساحلی شہر ینبع منتقل ہوئے، وہیں زندگی کے آخری ایام گزارے، تقریباً ۷۵ سے ۸۵ برس کی عمر میں وہیں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
عمر الاطرف کی تاریخی اہمیت امام علی علیہ السلام کی غیر فاطمی علوی اولاد کی ایک نمایاں شاخ سے تعلق میں ہے۔ «عمدۃ الطالب» انہیں ان بیٹوں میں شمار کرتی ہے جن سے امام علی علیہ السلام کی نسل آگے چلی، اور «سر السلسلۃ العلویۃ» ان کے بیٹے محمد کے ذریعے پھیلی ہوئی عمری شاخ کی وضاحت کرتی ہے۔
حدیثی مآخذ میں ان کا ذکر ایک تابعی راوی کے طور پر ہے جس نے امام علی علیہ السلام سے روایت کی اور جس سے ان کے بیٹوں اور دوسرے راویوں نے نقل کیا۔ یہ پہلو انہیں صرف خاندانی شجرے کا نام نہیں رہنے دیتا بلکہ پہلی صدی ہجری کی علمی روایت سے بھی جوڑتا ہے۔
ان کا تعارف تاریخی طریقۂ تحقیق کی ایک اہم مثال بھی ہے: کربلا میں شرکت، وفات کے سال اور مدفن کے بارے میں بعد کے مآخذ متفق نہیں۔ اس لیے ان کی یاد کو احترام کے ساتھ محفوظ کرتے ہوئے عمر الاطرف، عمر الاشرف اور مقتل میں مذکور دوسرے ہم نام افراد کو الگ رکھنا ضروری ہے۔
حدیثی مآخذ میں ان کا ذکر ایک تابعی راوی کے طور پر ہے جس نے امام علی علیہ السلام سے روایت کی اور جس سے ان کے بیٹوں اور دوسرے راویوں نے نقل کیا۔ یہ پہلو انہیں صرف خاندانی شجرے کا نام نہیں رہنے دیتا بلکہ پہلی صدی ہجری کی علمی روایت سے بھی جوڑتا ہے۔
ان کا تعارف تاریخی طریقۂ تحقیق کی ایک اہم مثال بھی ہے: کربلا میں شرکت، وفات کے سال اور مدفن کے بارے میں بعد کے مآخذ متفق نہیں۔ اس لیے ان کی یاد کو احترام کے ساتھ محفوظ کرتے ہوئے عمر الاطرف، عمر الاشرف اور مقتل میں مذکور دوسرے ہم نام افراد کو الگ رکھنا ضروری ہے۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام علی ابن ابی طالبؑ
قوی امکان
والدہ
ام حبیب بنت ربیعہ
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Jamal al-Din al-Mizzi | Volume 21, biography 4289, displayed pages 469-470 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/5361/ | identity, mother, twin sister, hadith transmission, trustworthiness, and the disputed 67 AH death reportMaqtal Ali ibn Abi Talib | Ibn Abi al-Dunya | Reports 127-128 in the displayed text; pagination varies by edition | https://arabic-keyboard.info/books/ar/read-book/%D9%85%D9%82%D8%AA%D9%84-%D8%B9%D9%84%D9%8A-%D9%84%D8%A7%D8%A8%D9%86-%D8%A3%D8%A8%D9%8A-%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%86%D9%8A%D8%A7 | Umar alive after Karbala, inheritance context, and Ubayd Allah named as the brother killed with Mus'ab ibn al-Zubayr
Sirr al-Silsila al-Alawiyya | Sahl ibn Abd Allah al-Bukhari | Volume 1, page 97 | https://lib.eshia.ir/10871/1/97 | explicit rejection of Umar al-Atraf's attendance at Karbala, later political notices, and descendants through Muhammad
Umdat al-Talib fi Ansab Aal Abi Talib | Ibn Inaba | Chapter on descendants of Umar al-Atraf, displayed page 337 | https://www.masaha.org/book/view/2302/page/337 | non-participation at Karbala, death at Yanbu aged 75 or 77, and continuing descendants
Al-Tabaqat al-Kubra | Ibn Sa'd | Volume 5, Umar al-Akbar ibn Ali entry in the displayed edition | https://read.shamela.ws/book/9351/2003 | mother, children Muhammad, Umm Musa and Umm Habib, their mother Asma bint Aqil, and hadith transmission
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔