ان کی پیدائش کی صحیح تاریخ محفوظ نہیں؛ وہ مکہ کے ابتدائی اسلامی دور میں بالغ خاتون کے طور پر معروف تھیں۔
اسماء بنت عمیس
PER-000038
خاندان کی شخصیت
قوی امکان
منسوب مقام
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ابتدائی مسلمان صحابیہ، حبشہ کی مہاجرہ، راویۂ حدیث اور اہلِ بیت کے قریبی خاندانی حلقے کی ممتاز خاتون تھیں۔ وہ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ گئیں، بعد میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور پھر امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے نکاح میں آئیں۔ ان کی زندگی ہجرت، صبر، خاندانی خدمت اور نبوی روایات کی حفاظت کے سبب اہم ہے۔
وفات کی قطعی تاریخ غیر معلوم ہے؛ ۴۰ھ کے قریب اور اس کے بعد کے اقوال ملتے ہیں، اس لیے کسی ایک سال کو یقینی نہیں کہا جا سکتا۔
دمشق کے قبرستان باب الصغیر میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے منسوب ایک معروف مزار موجود ہے۔ اس مزار کے جغرافیائی نقاط اور نقشۂ گوگل کا رابطہ اسی صفحے پر دستیاب ہے۔ موجودہ مزار کے وجود میں کوئی شبہ نہیں؛ تاریخی احتیاط صرف اس بات میں ہے کہ اسے ان کی قطعی اور مستقل طور پر ثابت شدہ تدفین قرار نہ دیا جائے۔
سوانح و تاریخی تعارف
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا تعلق قبیلۂ خثعم سے تھا اور ان کا شمار ان خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں ایمان قبول کیا۔ سوانحی مصادر ان کے والد کا نام عمیس بن معد اور والدہ کا نام ہند بنت عوف بتاتے ہیں۔ والدہ کی طرف سے وہ ابتدائی مسلم خواتین کے ایک نمایاں خاندانی حلقے سے وابستہ تھیں، جس میں امّ المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں، جبکہ ان کی اپنی زندگی حضرت جعفر بن ابی طالب، حضرت ابو بکر صدیق اور امام علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہم کے گھرانوں سے گہرا تعلق رکھتی تھی۔
انہوں نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ وہاں ان کے ہاں عبداللہ، محمد اور عون پیدا ہوئے۔ جب وہ دوسرے مہاجرین کے ساتھ واپس آئیں تو صحیح مسلم کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ کشتی کو دو ہجرتوں کی فضیلت عطا فرمائی: ایک حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ کی طرف۔
وہ ۷ھ میں خیبر کے زمانے کے قریب مدینہ پہنچیں۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ ۸ھ میں غزوۂ موتہ میں شہید ہوئے۔ اس کے بعد اسماء رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ہوا، اور ۱۰ھ کے حج کے سفر میں ان کے ہاں محمد بن ابی بکر پیدا ہوئے۔ صحیح مسلم میں ان کے احرام، غسل اور حج سے متعلق سوال کا واقعہ محفوظ ہے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ۱۳ھ کے بعد اسماء رضی اللہ عنہا امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے نکاح میں آئیں۔ ان کا بیٹا محمد بن ابی بکر بھی امام علی علیہ السلام کے گھر میں پرورش پایا۔ قدیم اور معتبر سوانحی مصادر ان کے حضرت جعفر بن ابی طالب، حضرت ابو بکر صدیق اور امام علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہم کے ساتھ تین معروف نکاح محفوظ کرتے ہیں، جس سے وہ ابتدائی مسلم نسل کے ان نمایاں گھرانوں کے درمیان ایک اہم خاندانی رابطہ بنیں۔
اسماء رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات نقل کیں۔ ان سے منقول روایات میں حبشہ کے مہاجرین کا مقام، عبادات کے مسائل، بیماری اور مصیبت کے وقت دعا، اور اہلِ خانہ سے متعلق واقعات شامل ہیں۔ ان کی روایتیں اس بات کی اہم مثال ہیں کہ ابتدائی مسلمان خواتین نے نبوی علم اور اجتماعی یادداشت کی حفاظت میں فعال کردار ادا کیا۔
ان کی وفات کی قطعی تاریخ ثابت نہیں۔ بعض متاخر مراجع ۴۰ھ کے قریب کا قول نقل کرتے ہیں، جبکہ بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد بھی زندہ تھیں۔ دمشق کے باب الصغیر میں ان سے منسوب قبر موجود ہے، مگر اسے قطعی تاریخی تدفین کے بجائے منسوب مقام کہنا زیادہ محتاط ہے۔
انہوں نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ وہاں ان کے ہاں عبداللہ، محمد اور عون پیدا ہوئے۔ جب وہ دوسرے مہاجرین کے ساتھ واپس آئیں تو صحیح مسلم کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ کشتی کو دو ہجرتوں کی فضیلت عطا فرمائی: ایک حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ کی طرف۔
وہ ۷ھ میں خیبر کے زمانے کے قریب مدینہ پہنچیں۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ ۸ھ میں غزوۂ موتہ میں شہید ہوئے۔ اس کے بعد اسماء رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ہوا، اور ۱۰ھ کے حج کے سفر میں ان کے ہاں محمد بن ابی بکر پیدا ہوئے۔ صحیح مسلم میں ان کے احرام، غسل اور حج سے متعلق سوال کا واقعہ محفوظ ہے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ۱۳ھ کے بعد اسماء رضی اللہ عنہا امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے نکاح میں آئیں۔ ان کا بیٹا محمد بن ابی بکر بھی امام علی علیہ السلام کے گھر میں پرورش پایا۔ قدیم اور معتبر سوانحی مصادر ان کے حضرت جعفر بن ابی طالب، حضرت ابو بکر صدیق اور امام علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہم کے ساتھ تین معروف نکاح محفوظ کرتے ہیں، جس سے وہ ابتدائی مسلم نسل کے ان نمایاں گھرانوں کے درمیان ایک اہم خاندانی رابطہ بنیں۔
اسماء رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات نقل کیں۔ ان سے منقول روایات میں حبشہ کے مہاجرین کا مقام، عبادات کے مسائل، بیماری اور مصیبت کے وقت دعا، اور اہلِ خانہ سے متعلق واقعات شامل ہیں۔ ان کی روایتیں اس بات کی اہم مثال ہیں کہ ابتدائی مسلمان خواتین نے نبوی علم اور اجتماعی یادداشت کی حفاظت میں فعال کردار ادا کیا۔
ان کی وفات کی قطعی تاریخ ثابت نہیں۔ بعض متاخر مراجع ۴۰ھ کے قریب کا قول نقل کرتے ہیں، جبکہ بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد بھی زندہ تھیں۔ دمشق کے باب الصغیر میں ان سے منسوب قبر موجود ہے، مگر اسے قطعی تاریخی تدفین کے بجائے منسوب مقام کہنا زیادہ محتاط ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی تاریخی اہمیت دو ہجرتوں، اہلِ کشتی کی نبوی فضیلت اور اسلام کے ابتدائی بین الاقوامی مرحلے کی زندہ گواہی سے وابستہ ہے۔ ان کی روایت حبشہ کے مہاجرین کی قربانی اور ابتدائی اسلامی جماعت کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے بنیادی ماخذ ہے۔
وہ حضرت جعفر، حضرت ابوبکر اور امام علی کے خاندانوں کے درمیان ایک نمایاں خاندانی رابطہ بھی ہیں۔ ان کی روایت، خاندانی ذمہ داری اور اہلِ بیت سے قربت نے انہیں صحابیات اور خواتین راویات کی تاریخ میں مستقل مقام دیا۔
وہ حضرت جعفر، حضرت ابوبکر اور امام علی کے خاندانوں کے درمیان ایک نمایاں خاندانی رابطہ بھی ہیں۔ ان کی روایت، خاندانی ذمہ داری اور اہلِ بیت سے قربت نے انہیں صحابیات اور خواتین راویات کی تاریخ میں مستقل مقام دیا۔
خاندانی روابط
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
امام علی ابن ابی طالبؑ
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Ismail al-Bukhari | Hadith 4230 | https://sunnah.com/bukhari:4230 | Abyssinian migration, return at Khaybar and the distinction of the people of the shipSahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadiths 2502-2503 | https://sunnah.com/muslim/44/241 | Asma's Abyssinian migration and the merit of two migrations
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 1210 | https://sunnah.com/muslim:1210 | Birth of Muhammad ibn Abi Bakr near Dhu al-Hulayfa and pilgrimage guidance after childbirth
Ma'rifat al-Sahaba | Abu Nu'aym al-Isfahani | Vol. 6, p. 3256 in the displayed edition | https://shamela.ws/book/10490/10947 | Marriages to Ja'far, Abu Bakr and Ali; children and the two migrations
Sifat al-Safwa | Ibn al-Jawzi | Vol. 1, biographical entry 144 | https://shamela.ws/book/12031/437 | Early conversion, Abyssinian migration, three marriages and death after Ali
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Jamal al-Din al-Mizzi | Biographical entry 7784 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/11191/ | Khath'am lineage, mother Hind bint Awf, marriages, children and hadith transmission
Al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Ibn Abd al-Barr | Women's biographies, Bab al-Alif; pagination varies by edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/3270/ | Three marriages and children; rejection of a confused alternative marriage attribution
Al-Muwatta | Malik ibn Anas | Book 16, Hadith 2 | https://sunnah.com/malik/16/2 | Asma washing Abu Bakr after his death
Bab al-Saghir Cemetery attribution | Contemporary heritage documentation | Modern attributed grave; not historical burial proof | https://islamicheritage.co.za/bab-as-saghir-cemetery/ | Existence of a present-day attribution and the need for caution
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔