ولادت کا قطعی سال اور مقام محفوظ نہیں؛ وہ پہلی صدی ہجری کے ابتدائی اسلامی معاشرے میں بنو فزارہ کے گھرانے میں پیدا ہوئیں۔
خولہ بنت منظور
PER-000064
خاندان کی شخصیت
قوی امکان
مقامِ تدفین نامعلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
خولہ بنت منظور فزاریہ ابتدائی اسلامی دور کی ایک نسبی و خاندانی شخصیت تھیں۔ وہ منظور بن زبان فزاری اور ملیکہ بنت خارجہ مریہ کی بیٹی تھیں۔ پہلے محمد بن طلحہ بن عبید اللہ کے نکاح میں رہیں اور ان سے ابراہیم، داؤد اور ام القاسم پیدا ہوئے۔ محمد کے ۳۶ھ، مطابق ۶۵۶ء، میں جنگ جمل میں مارے جانے کے بعد انہوں نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے نکاح کیا اور حسن مثنیٰ کی والدہ بنیں۔ ان کی اپنی ولادت، وفات اور تدفین کی قطعی تفصیل محفوظ نہیں۔
وفات کا قطعی سال اور مقام محفوظ نہیں؛ ادبی روایت کے مطابق وہ امام حسن علیہ السلام کی وفات کے بعد زندہ تھیں اور ان پر گہرا غم کیا۔
ان کی تدفین کا معتبر مقام معلوم نہیں؛ کوئی منسوب قبر تاریخی طور پر ثابت شدہ مدفن کے طور پر پیش نہیں کی جانی چاہیے۔
سوانح و تاریخی تعارف
خولہ رضی اللہ عنہا بنو فزارہ سے تعلق رکھتی تھیں، جو بڑے غطفانی قبائلی مجموعے کی ایک شاخ تھا۔ نسبی کتابیں ان کے والد کا نام منظور بن زبان بن سیار فزاری اور والدہ کا نام ملیکہ بنت خارجہ بن سنان مریہ بتاتی ہیں۔ انہی ماخذ میں ان کا طویل فزاری نسب محفوظ ہے، جس سے ابتدائی اسلامی ادب میں خولہ نام کی دوسری خواتین سے ان کی شناخت الگ رہتی ہے۔
ان کا پہلا ثابت شدہ نکاح بنو تیم کے محمد بن طلحہ بن عبید اللہ سے ہوا۔ ابو الفرج اصفہانی نے زبیری خاندان کی نسبی روایت کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان سے ابراہیم، داؤد اور ام القاسم پیدا ہوئے۔ محمد ۳۶ھ، مطابق ۶۵۶ء، میں جنگ جمل میں مارے گئے، اور خولہ اپنے بچوں کے ساتھ قریش کی طلحی شاخ سے وابستہ بیوہ رہ گئیں۔
اس کے بعد انہوں نے امام حسن بن علی علیہ السلام سے نکاح کیا۔ روایتی تفصیلات میں فرق ہے: ایک خبر میں عبد اللہ بن زبیر کو نکاح کا انتظام کرنے والا بتایا گیا، جبکہ دوسری میں ہے کہ والد کی غیر موجودگی میں خولہ نے اپنا معاملہ امام حسن علیہ السلام کے سپرد کیا اور منظور نے ابتدا میں خود کو نظر انداز کیے جانے پر اعتراض کیا۔ یہ خاندانی روایات ہیں؛ اصل نکاح نسبی ماخذ میں مسلسل محفوظ ہے۔
اس نکاح سے حسن بن حسن، جو بعد میں حسن مثنیٰ کے نام سے مشہور ہوئے، پیدا ہوئے۔ خلیفہ بن خیاط اور علوی نسب نگار سہل بخاری دونوں خولہ کو ان کی والدہ لکھتے ہیں۔ حسن مثنیٰ کے ذریعے وہ حسنی سادات کی ایک اہم مادری جدہ بنیں، جبکہ محمد بن طلحہ سے ان کی اولاد نے انہیں بنو تیم کے ایک نمایاں گھرانے سے بھی جوڑا۔
ادبی اور اخباری روایات خولہ کو حسن، فصاحت اور گہرے جذبات کے ساتھ یاد کرتی ہیں۔ عمر بن شبہ سے منقول ایک خبر میں نکاح کے پہلے سال ان کی احتیاط اور بیٹے کی ولادت کے بعد اظہارِ مسرت کا ذکر ہے، اور امام حسن علیہ السلام کی وفات پر ان کے والد سے منسوب تعزیتی اشعار بھی محفوظ ہیں۔ ایسی خبریں ادبی یادداشت کے لیے اہم ہیں، مگر انہیں قطعی تاریخ شدہ ذاتی سوانح نہیں بنانا چاہیے۔
ماخذ ان کی وفات کا معتبر سال یا مقام اور کوئی متعین قبر محفوظ نہیں رکھتے۔ اس لیے ان کی سوانح مضبوط نسب، دونوں ثابت شدہ نکاحوں اور اولاد پر قائم رہنی چاہیے، جبکہ بعد کے ادبی واقعات کو واضح نسبت کے ساتھ بیان کیا جائے۔ محمد بن طلحہ سے پہلے نکاح اور امام حسن علیہ السلام سے بعد کا نکاح دونوں نسبی و ادبی مصادر میں مستقل طور پر محفوظ ہیں، لیکن وفات و تدفین کے بارے میں یقین سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
ان کا پہلا ثابت شدہ نکاح بنو تیم کے محمد بن طلحہ بن عبید اللہ سے ہوا۔ ابو الفرج اصفہانی نے زبیری خاندان کی نسبی روایت کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان سے ابراہیم، داؤد اور ام القاسم پیدا ہوئے۔ محمد ۳۶ھ، مطابق ۶۵۶ء، میں جنگ جمل میں مارے گئے، اور خولہ اپنے بچوں کے ساتھ قریش کی طلحی شاخ سے وابستہ بیوہ رہ گئیں۔
اس کے بعد انہوں نے امام حسن بن علی علیہ السلام سے نکاح کیا۔ روایتی تفصیلات میں فرق ہے: ایک خبر میں عبد اللہ بن زبیر کو نکاح کا انتظام کرنے والا بتایا گیا، جبکہ دوسری میں ہے کہ والد کی غیر موجودگی میں خولہ نے اپنا معاملہ امام حسن علیہ السلام کے سپرد کیا اور منظور نے ابتدا میں خود کو نظر انداز کیے جانے پر اعتراض کیا۔ یہ خاندانی روایات ہیں؛ اصل نکاح نسبی ماخذ میں مسلسل محفوظ ہے۔
اس نکاح سے حسن بن حسن، جو بعد میں حسن مثنیٰ کے نام سے مشہور ہوئے، پیدا ہوئے۔ خلیفہ بن خیاط اور علوی نسب نگار سہل بخاری دونوں خولہ کو ان کی والدہ لکھتے ہیں۔ حسن مثنیٰ کے ذریعے وہ حسنی سادات کی ایک اہم مادری جدہ بنیں، جبکہ محمد بن طلحہ سے ان کی اولاد نے انہیں بنو تیم کے ایک نمایاں گھرانے سے بھی جوڑا۔
ادبی اور اخباری روایات خولہ کو حسن، فصاحت اور گہرے جذبات کے ساتھ یاد کرتی ہیں۔ عمر بن شبہ سے منقول ایک خبر میں نکاح کے پہلے سال ان کی احتیاط اور بیٹے کی ولادت کے بعد اظہارِ مسرت کا ذکر ہے، اور امام حسن علیہ السلام کی وفات پر ان کے والد سے منسوب تعزیتی اشعار بھی محفوظ ہیں۔ ایسی خبریں ادبی یادداشت کے لیے اہم ہیں، مگر انہیں قطعی تاریخ شدہ ذاتی سوانح نہیں بنانا چاہیے۔
ماخذ ان کی وفات کا معتبر سال یا مقام اور کوئی متعین قبر محفوظ نہیں رکھتے۔ اس لیے ان کی سوانح مضبوط نسب، دونوں ثابت شدہ نکاحوں اور اولاد پر قائم رہنی چاہیے، جبکہ بعد کے ادبی واقعات کو واضح نسبت کے ساتھ بیان کیا جائے۔ محمد بن طلحہ سے پہلے نکاح اور امام حسن علیہ السلام سے بعد کا نکاح دونوں نسبی و ادبی مصادر میں مستقل طور پر محفوظ ہیں، لیکن وفات و تدفین کے بارے میں یقین سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
خولہ بنت منظور کی تاریخی اہمیت اس بات میں ہے کہ ان کی سوانح بنو فزارہ، بنو تیم اور حسنی اہل بیت کے درمیان خاندانی روابط کو واضح کرتی ہے۔ محمد بن طلحہ سے ان کی اولاد اور امام حسن علیہ السلام سے حسن مثنیٰ کی ولادت نے انہیں پہلی صدی ہجری کے دو نمایاں نسبی سلسلوں سے جوڑا۔
ان کا پروفائل یہ بھی دکھاتا ہے کہ ابتدائی دور کی خواتین کی خبریں اکثر نسب، نکاح اور ادبی حکایات میں محفوظ ہوئی ہیں۔ مستند خاندانی معلومات کو بعد کی حسن و فصاحت کی روایات سے الگ رکھنا اور نامعلوم وفات و تدفین کو قطعی مقام میں تبدیل نہ کرنا ایک ذمہ دار تاریخی طریقہ ہے۔
ان کا پروفائل یہ بھی دکھاتا ہے کہ ابتدائی دور کی خواتین کی خبریں اکثر نسب، نکاح اور ادبی حکایات میں محفوظ ہوئی ہیں۔ مستند خاندانی معلومات کو بعد کی حسن و فصاحت کی روایات سے الگ رکھنا اور نامعلوم وفات و تدفین کو قطعی مقام میں تبدیل نہ کرنا ایک ذمہ دار تاریخی طریقہ ہے۔
خاندانی روابط
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
امام حسن مجتبیٰؑ
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
Sirr al-Silsila al-Alawiyya | Sahl ibn Abd Allah al-Bukhari | p. 5 | https://ar.lib.eshia.ir/10871/1/5 | Paternal and maternal lineage, prior marriage to Muhammad ibn Talha, and identification as the mother of Hasan ibn HasanAl-Tabaqat | Khalifa ibn Khayyat | Vol. 1, p. 417, entry 2045 | https://lib.eshia.ir/40244/1/417 | Khawla bint Manzur ibn Zabban al-Fazariyya as the mother of Hasan ibn Hasan
Al-Aghani | Abu al-Faraj al-Isfahani | Vol. 12, p. 408 | https://ablibrary.net/book_content/401/148 | Marriage to Muhammad ibn Talha, children Ibrahim, Dawud and Umm al-Qasim, his death at the Battle of the Camel, subsequent marriage to Hasan ibn Ali, and birth of Hasan ibn Hasan
Al-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba | Ibn Hajar al-Asqalani | Entry 8252 on Manzur ibn Zabban; pagination varies by edition | https://mail.shamela.ws/book/9767/3139 | Father identity, Malika bint Kharija, and Khawla among their children
Akhbar Abi al-Qasim al-Zajjaji | Abu al-Qasim al-Zajjaji | p. 13 | https://shamela.ws/book/666/13 | Later literary report about her first year of marriage, birth of a son, and mourning after Hasan's death
Al-Aghani | Abu al-Faraj al-Isfahani | Vol. 12, pp. 409-410 | https://ar.lib.eshia.ir/71656/12/409 | Later literary memory of Khawla, retained only with explicit attribution
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔