مدینہ میں پہلی صدی ہجری کے وسط سے پہلے پیدا ہوئے؛ قطعی سالِ ولادت معتبر طور پر محفوظ نہیں۔
حسن مثنیٰ بن حسن مجتبیٰؑ
PER-000069
اہلِ بیت
قوی امکان
مشترک قبرستانی نقطہ
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حسن مثنیٰ بن امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام، خولہ بنت منظور فزاریہ کے صاحبزادے اور اہل بیت کے نمایاں مدنی بزرگ تھے۔ نسبی اور رجالی مآخذ انہیں فاطمہ بنت امام حسین علیہ السلام اور رملہ بنت سعید بن زید کے شوہر، حدیث کے راوی، اپنے والد کے وصی اور صدقاتِ علی کے متولی کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ بعد کی معتبر روایت کے مطابق وہ ۶۱ھ میں کربلا میں زخمی ہوئے مگر زندہ بچ گئے۔ وفات کے لیے ۹۷ھ، مطابق ۷۱۵–۷۱۶ء، سب سے مضبوط اور عام قول ہے اور ابن کثیر مدینہ میں وفات کی صراحت کرتے ہیں، جبکہ ۹۹ھ کا ایک معتبر متبادل قول بھی منقول ہے۔ زہر دینے کا دعویٰ بعد کی متنازع نسبی روایت ہے۔ بخاری کا معلق اثر صرف قبر پر ایک سال خیمہ رہنے کا ذکر کرتا ہے؛ ایک بعد کا کلاسیکی نسبی ماخذ بقیع کی نسبت دیتا ہے، مگر عین قبر کی شناخت ثابت نہیں۔
سب سے مضبوط تاریخی نتیجہ ۹۷ھ، مطابق ۷۱۵–۷۱۶ء، میں مدینہ میں وفات ہے؛ ذہبی ۹۹ھ کا متبادل قول بھی نقل کرتے ہیں۔ زہر دینے کا دعویٰ بہت بعد کی نسبی روایت ہے، جس میں ذمہ دار حکمران کی تعیین بھی زمانی اختلاف کا شکار ہے، اس لیے اسے قطعی وفات یا شہادت نہیں کہا گیا۔
صحیح بخاری کا معلق اثر صرف یہ بتاتا ہے کہ اہلیہ نے قبر پر ایک سال خیمہ رکھا؛ وہ قبرستان کا نام نہیں دیتا۔ بعد کا کلاسیکی نسبی ماخذ الاصیلی بقیع الغرقد، مدینہ کی نسبت صراحت سے دیتا ہے، مگر عین قبر کی مستقل تاریخی شناخت ثابت نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
حسن مثنیٰ رضی اللہ عنہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور خولہ بنت منظور بن زبان فزاریہ کے صاحبزادے تھے۔ ان کی کنیت ابو محمد اور مشہور لقب حسن مثنیٰ یا حسن ثانی تھا، جس سے انہیں اپنے والد امام حسن علیہ السلام اور اپنے بیٹے حسن مثلث سے الگ پہچانا جاتا ہے۔ قطعی سالِ ولادت محفوظ نہیں، لیکن پہلی صدی ہجری میں مدینہ ان کی علمی، خاندانی اور اجتماعی زندگی کا بنیادی مرکز رہا۔
مصعب زبیری کی نسبِ قریش کے مطابق انہوں نے اپنے چچا امام حسین علیہ السلام کی صاحبزادی فاطمہ کو نکاح کے لیے منتخب کیا۔ ان سے عبد اللہ، حسن، ابراہیم، زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئے؛ انہی اولاد کے ذریعے حسنی اور حسینی دونوں نسبتیں ایک خاندان میں جمع ہوئیں۔ اسی ماخذ میں رملہ بنت سعید بن زید سے ان کے بیٹے محمد کا ذکر بھی محفوظ ہے۔
رجالی ماخذ انہیں تابعی راوی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد امام حسن علیہ السلام، عبد اللہ بن جعفر اور دیگر بزرگوں سے روایت کی، جبکہ ان کے بیٹوں ابراہیم، عبد اللہ اور حسن سمیت متعدد راویوں نے ان سے نقل کیا۔ نسائی نے ان کی ایک روایت درج کی، اور ابن ابی حاتم نے ان سے روایت کرنے والوں کا مستقل ذکر محفوظ کیا ہے۔
وہ صرف خاندانی نام نہیں تھے بلکہ عملی ذمہ داری بھی رکھتے تھے۔ ابن حجر کے نقل کردہ سوانحی مواد کے مطابق وہ اپنے والد کے وصی تھے اور اپنے زمانے میں صدقاتِ علی کی نگرانی کرتے تھے۔ یہ ذمہ داری انہیں اہل بیت کی مدنی املاک، خیراتی انتظام اور خاندانی امانت کے تسلسل سے جوڑتی ہے۔
کربلا میں ان کی موجودگی کا ذکر بعد کے معتبر سوانحی اور امامی ماخذ میں ملتا ہے۔ ان روایات کے مطابق انہوں نے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ جنگ کی، سخت زخمی ہوکر گر پڑے، اور ان کے مادری رشتہ دار اسماء بن خارجہ فزاری نے انہیں قتل ہونے سے بچایا۔ بعض متاخر روایات زخموں اور مارے گئے مخالفین کی عین تعداد بھی دیتی ہیں، مگر ان اعداد کو قطعی تاریخی حقیقت نہیں بنایا گیا۔
صحت یاب ہونے کے بعد وہ مدینہ واپس آئے اور حدیث، خاندانی امانت اور اپنی اولاد کی تربیت سے وابستہ رہے۔ ان کے بیٹے عبد اللہ محض، ابراہیم غمر اور حسن مثلث بعد کے حسنی نسب اور سیاسی تاریخ میں نمایاں ہوئے۔ حسن مثنیٰ نے اپنی طرف سے مستقل امامت یا خلافت کی ایسی تحریک قائم نہیں کی جس پر قدیم ماخذ متفق ہوں؛ ان کی شہرت زیادہ تر علم، نسب اور اہل بیت کی خاندانی قیادت سے متعلق ہے۔
وفات کے شواہد میں درجہ بندی ضروری ہے۔ ابن کثیر نے انہیں ۹۷ھ کے وفیات میں شمار کرکے مدینہ میں وفات کی صراحت کی ہے، جبکہ ذہبی نے ۹۹ھ کو ایک قول اور ۹۷ھ کو دوسرا قول نقل کیا۔ خلیفہ یا اس کے عامل کی سیاسی دھمکی والا قدیم تر واقعہ ان کی رہائی پر ختم ہوتا ہے اور اس میں زہر دینے کا ذکر نہیں۔ بہت بعد کے نسب نگار ابن عنبہ زہر دلوانے کی نسبت ایک اموی حکمران کی طرف کرتے ہیں، مگر اسی مطبوعہ متن کا حاشیہ زمانی اشکال کی بنا پر ولید کے بجائے سلیمان کا نام تجویز کرتا ہے؛ اس لیے زہر اور شہادت کو قطعی حقیقت نہیں لکھا گیا۔ بخاری کا معلق اثر صرف یہ بتاتا ہے کہ ان کی اہلیہ نے قبر پر ایک سال خیمہ رکھا، قبرستان کا نام نہیں بتاتا۔ بعد کا کلاسیکی نسبی ماخذ الاصیلی اس واقعے کو مدینہ کے بقیع الغرقد میں قرار دیتا ہے؛ اس سے بقیع کی ایک معتبر بعد کی نسبت ملتی ہے، لیکن عین قبر کی مستقل شناخت ثابت نہیں ہوتی۔
مصعب زبیری کی نسبِ قریش کے مطابق انہوں نے اپنے چچا امام حسین علیہ السلام کی صاحبزادی فاطمہ کو نکاح کے لیے منتخب کیا۔ ان سے عبد اللہ، حسن، ابراہیم، زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئے؛ انہی اولاد کے ذریعے حسنی اور حسینی دونوں نسبتیں ایک خاندان میں جمع ہوئیں۔ اسی ماخذ میں رملہ بنت سعید بن زید سے ان کے بیٹے محمد کا ذکر بھی محفوظ ہے۔
رجالی ماخذ انہیں تابعی راوی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد امام حسن علیہ السلام، عبد اللہ بن جعفر اور دیگر بزرگوں سے روایت کی، جبکہ ان کے بیٹوں ابراہیم، عبد اللہ اور حسن سمیت متعدد راویوں نے ان سے نقل کیا۔ نسائی نے ان کی ایک روایت درج کی، اور ابن ابی حاتم نے ان سے روایت کرنے والوں کا مستقل ذکر محفوظ کیا ہے۔
وہ صرف خاندانی نام نہیں تھے بلکہ عملی ذمہ داری بھی رکھتے تھے۔ ابن حجر کے نقل کردہ سوانحی مواد کے مطابق وہ اپنے والد کے وصی تھے اور اپنے زمانے میں صدقاتِ علی کی نگرانی کرتے تھے۔ یہ ذمہ داری انہیں اہل بیت کی مدنی املاک، خیراتی انتظام اور خاندانی امانت کے تسلسل سے جوڑتی ہے۔
کربلا میں ان کی موجودگی کا ذکر بعد کے معتبر سوانحی اور امامی ماخذ میں ملتا ہے۔ ان روایات کے مطابق انہوں نے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ جنگ کی، سخت زخمی ہوکر گر پڑے، اور ان کے مادری رشتہ دار اسماء بن خارجہ فزاری نے انہیں قتل ہونے سے بچایا۔ بعض متاخر روایات زخموں اور مارے گئے مخالفین کی عین تعداد بھی دیتی ہیں، مگر ان اعداد کو قطعی تاریخی حقیقت نہیں بنایا گیا۔
صحت یاب ہونے کے بعد وہ مدینہ واپس آئے اور حدیث، خاندانی امانت اور اپنی اولاد کی تربیت سے وابستہ رہے۔ ان کے بیٹے عبد اللہ محض، ابراہیم غمر اور حسن مثلث بعد کے حسنی نسب اور سیاسی تاریخ میں نمایاں ہوئے۔ حسن مثنیٰ نے اپنی طرف سے مستقل امامت یا خلافت کی ایسی تحریک قائم نہیں کی جس پر قدیم ماخذ متفق ہوں؛ ان کی شہرت زیادہ تر علم، نسب اور اہل بیت کی خاندانی قیادت سے متعلق ہے۔
وفات کے شواہد میں درجہ بندی ضروری ہے۔ ابن کثیر نے انہیں ۹۷ھ کے وفیات میں شمار کرکے مدینہ میں وفات کی صراحت کی ہے، جبکہ ذہبی نے ۹۹ھ کو ایک قول اور ۹۷ھ کو دوسرا قول نقل کیا۔ خلیفہ یا اس کے عامل کی سیاسی دھمکی والا قدیم تر واقعہ ان کی رہائی پر ختم ہوتا ہے اور اس میں زہر دینے کا ذکر نہیں۔ بہت بعد کے نسب نگار ابن عنبہ زہر دلوانے کی نسبت ایک اموی حکمران کی طرف کرتے ہیں، مگر اسی مطبوعہ متن کا حاشیہ زمانی اشکال کی بنا پر ولید کے بجائے سلیمان کا نام تجویز کرتا ہے؛ اس لیے زہر اور شہادت کو قطعی حقیقت نہیں لکھا گیا۔ بخاری کا معلق اثر صرف یہ بتاتا ہے کہ ان کی اہلیہ نے قبر پر ایک سال خیمہ رکھا، قبرستان کا نام نہیں بتاتا۔ بعد کا کلاسیکی نسبی ماخذ الاصیلی اس واقعے کو مدینہ کے بقیع الغرقد میں قرار دیتا ہے؛ اس سے بقیع کی ایک معتبر بعد کی نسبت ملتی ہے، لیکن عین قبر کی مستقل شناخت ثابت نہیں ہوتی۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
حسن مثنیٰ رضی اللہ عنہ حسنی اور حسینی خاندانوں کے باہمی اتصال کی مرکزی شخصیت ہیں۔ فاطمہ بنت امام حسین علیہ السلام سے ان کی اولاد نے دونوں سبطوں کی نسبت کو جمع کیا، اور عبد اللہ محض، ابراہیم غمر اور حسن مثلث کے ذریعے بعد کی حسنی شاخوں، علمی خاندانوں اور سیاسی تحریکوں پر گہرا اثر پڑا۔
حدیث، وصایت اور صدقاتِ علی کی نگرانی ان کی اہمیت کو صرف نسب تک محدود نہیں رہنے دیتی۔ وہ مدینہ میں اہل بیت کی علمی روایت اور خیراتی و خاندانی اداروں کے تسلسل کا حصہ تھے، جبکہ کربلا سے زندہ بچنے کی روایت انہیں سانحۂ طف اور بعد کی علوی نسل کے درمیان ایک تاریخی رابطہ بناتی ہے۔
ان کی وفات اور تدفین کا معاملہ ماخذی درجہ بندی کی عملی مثال ہے: ۹۷ھ اور مدینہ سب سے مضبوط نتیجہ ہیں، ۹۹ھ ایک معتبر متبادل قول ہے، اور زہر کا دعویٰ متاخر و داخلی طور پر مختلف روایت ہے۔ بخاری قبر پر خیمے کا واقعہ محفوظ کرتے ہیں مگر قبرستان نہیں بتاتے، جبکہ ایک بعد کا کلاسیکی نسبی ماخذ بقیع کی نسبت دیتا ہے۔ اسی لیے بقیع کو بعد کی معتبر نسبت اور عین قبر کو غیر متعین کہا گیا ہے، اور غیر ثابت مقامی قبروں کو پروفائل کا تاریخی مدفن نہیں بنایا گیا۔
حدیث، وصایت اور صدقاتِ علی کی نگرانی ان کی اہمیت کو صرف نسب تک محدود نہیں رہنے دیتی۔ وہ مدینہ میں اہل بیت کی علمی روایت اور خیراتی و خاندانی اداروں کے تسلسل کا حصہ تھے، جبکہ کربلا سے زندہ بچنے کی روایت انہیں سانحۂ طف اور بعد کی علوی نسل کے درمیان ایک تاریخی رابطہ بناتی ہے۔
ان کی وفات اور تدفین کا معاملہ ماخذی درجہ بندی کی عملی مثال ہے: ۹۷ھ اور مدینہ سب سے مضبوط نتیجہ ہیں، ۹۹ھ ایک معتبر متبادل قول ہے، اور زہر کا دعویٰ متاخر و داخلی طور پر مختلف روایت ہے۔ بخاری قبر پر خیمے کا واقعہ محفوظ کرتے ہیں مگر قبرستان نہیں بتاتے، جبکہ ایک بعد کا کلاسیکی نسبی ماخذ بقیع کی نسبت دیتا ہے۔ اسی لیے بقیع کو بعد کی معتبر نسبت اور عین قبر کو غیر متعین کہا گیا ہے، اور غیر ثابت مقامی قبروں کو پروفائل کا تاریخی مدفن نہیں بنایا گیا۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام حسن مجتبیٰؑ
قوی امکان
والدہ
خولہ بنت منظور
قوی امکان
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
فاطمہ بنت حسینؑ
مصدقہ
رملہ بنت سعید بن زید
مصدقہ
🌱 اولاد
ماخذ
نسب قریش | مصعب بن عبد اللہ زبیری | صفحات ۵۱–۵۲، اولادِ حسن بن حسن | https://shamela.ws/book/2922/49 | فاطمہ بنت حسین اور رملہ بنت سعید سے نکاح، اولاد اور نسبتہذیب الکمال فی اسماء الرجال | جمال الدین مِزّی | جلد ۶، صفحات ۹۱–۹۵، ترجمۂ حسن بن حسن | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/1286/ | والدین، رواۃ، وصایت، صدقات، سیاسی دھمکی کی مختلف روایات، رہائی اور قبر پر خیمے کا اثر
الجرح والتعدیل | ابن ابی حاتم رازی | جلد ۳، صفحہ ۵، اندراج ۱۷ | https://shamela.ws/book/2170/963 | ابتدائی رجالی اندراج اور حسن بن حسن سے روایت کرنے والے
اللہوف علی قتلی الطفوف | سید ابن طاؤس | جلد ۱، صفحہ ۱۹۱ | https://lib.eshia.ir/27196/1/191 | کربلا کے زخم، بچاؤ، صحت یابی اور مدینہ واپسی کی بعد کی امامی روایت
البدایہ والنہایہ | ابن کثیر | جلد ۱۲، صفحات ۶۲۳–۶۲۴، وفیاتِ ۹۷ھ | https://www.islamweb.net/ar/library/content/59/1040/ | ۹۷ھ کی مضبوط تاریخی جگہ، مدینہ میں وفات کی صراحت اور رہائی پر ختم ہونے والی دھمکی کی روایت
سیر اعلام النبلاء | شمس الدین ذہبی | جلد ۴، صفحہ ۴۸۷، ترجمۂ حسن بن حسن | https://islamweb.net/ar/library/content/60/635/ | وفات کے دو اقوال: ۹۹ھ اور ۹۷ھ
صحیح بخاری، کتاب الجنائز | محمد بن اسماعیل بخاری | باب میں درج معلق اثر، عدد ۱۳۳۰ | https://en.tohed.com/hadith/bukhari/1330/ | اہلیہ کا قبر پر ایک سال خیمہ رکھنا؛ قبرستان کا نام مذکور نہیں
عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب | ابن عنبہ | صفحہ ۱۰۰، برقی نسخہ صفحہ ۱۰۴ | https://h-najaf.iq/upload/pdf/%D8%B9%D9%85%D8%AF%D8%A9%20%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8.pdf | بہت بعد کا زہر دینے کا دعویٰ اور ولید یا سلیمان کی تعیین پر مطبوعہ حاشیے کا زمانی اختلاف
الاصیلی فی انساب الطالبیین | ابن طقطقی | ترجمۂ حسن مثنیٰ؛ صفحات طباعت کے لحاظ سے مختلف | https://archive.org/details/olomnasb_ymail_20160902_1932 | مدینہ کے بقیع الغرقد میں خیمے اور تدفین کی صریح بعد کی کلاسیکی نسبت
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔