عبد اللہ بن زبیر

PER-000182 خاندان کی شخصیت مصدقہ مشترک قبرستانی نقطہ مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
عبداللہ بن زبیر، زبیر بن عوام اور اسماء بنت ابی بکر کے صاحبزادے اور ہجرت کے بعد مہاجرین میں پیدا ہونے والے پہلے بچے تھے۔ وہ فتنۂ ثانیہ کی مرکزی دینی و سیاسی شخصیات میں شامل ہوئے، یزید بن معاویہ کی وفات کے بعد وسیع علاقوں میں خلیفہ تسلیم کیے گئے اور مکہ سے حکومت کرتے رہے، یہاں تک کہ ۷۳ھ / ۶۹۲ء میں حجاج بن یوسف کے محاصرے کے دوران مکہ میں شہید ہوئے۔ ان کی شجاعت، عبادت اور آخری مزاحمت مضبوط طور پر محفوظ ہے، جبکہ سنی، امامی اور جدید تاریخی روایتیں ان کے سیاسی فیصلوں کا مختلف جائزہ لیتی ہیں۔
ولادت

وہ مدینہ کے قریب قبا میں پیدا ہوئے۔ روایات شوال ۱ھ اور ہجرت کے تقریباً بیس ماہ بعد شوال ۲ھ کے درمیان مختلف ہیں، جو تقریباً ۶۲۳ء یا ۶۲۴ء کے مطابق ہیں۔ صحیح مسلم انہیں ہجرت کے بعد مہاجرین میں پیدا ہونے والا پہلا بچہ قرار دیتی ہے۔

وفات

حجاج کے محاصرۂ مکہ کے دوران ۷۳ھ، مطابق ۶۹۲ء، مکہ میں شہید ہوئے۔ درست دن میں اختلاف ہے اور اسے عموماً جمادی الاولیٰ یا جمادی الثانیہ میں رکھا جاتا ہے۔

مدفن یا منسوب مقام

قدیم مکی تاریخی روایات کے مطابق جسد اتار کر خاندان کے حوالے کیے جانے کے بعد حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے کو غسل دیا اور حنوط و کفن کا اہتمام کیا۔ ابن اثیر اور ابن کثیر کی مشہور روایت تدفین حَجون میں بتاتی ہے، جو آج جنت المعلیٰ یا مقبرۃ المعلاة کے نام سے معروف قدیم مکی قبرستان ہے۔ موجودہ قبرستان میں قدیم انفرادی قبروں کی قابل اعتماد الگ نشان دہی محفوظ نہیں، اس لیے درج نقشہ اسی تاریخی تدفینی علاقے کی موجودہ معروف جگہ دکھاتا ہے، کسی الگ جدید نشان سے قبر کی قطعی شناخت کا دعویٰ نہیں کرتا۔

سوانح و تاریخی تعارف

عبداللہ بن زبیر مدینہ کے قریب قبا میں پیدا ہوئے۔ زمانی روایات میں اختلاف ہے: بعض مآخذ ولادت کو شوال ۱ھ میں رکھتے ہیں، جبکہ ایک قدیم روایت ہجرت کے بیس ماہ بعد شوال ۲ھ بتاتی ہے؛ یہ تقریباً ۶۲۳ء یا ۶۲۴ء کے مطابق ہیں۔ ان کے والد زبیر بن عوام، قریش کے ممتاز صحابی، اور والدہ اسماء بنت ابی بکر تھیں۔ صحیح مسلم کے مطابق اسماء نے ہجرت کے بعد انہیں جنم دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں، آپ نے تحنیک کی اور دعا دی۔ وہ ہجرت کے بعد مہاجرین میں پیدا ہونے والے پہلے بچے کے طور پر معروف ہوئے۔

وہ ابتدائی مسلم معاشرے سے گہرا ربط رکھنے والے گھرانے میں پلے بڑھے۔ کم عمری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محدود روایات سنیں، اور بعد میں اپنے والد، والدہ اور خالہ عائشہ سمیت بڑے صحابہ سے حدیث نقل کی۔ کلاسیکی سوانح نگار انہیں نماز، روزے اور تلاوت میں مشغول اور ساتھ ہی بہادر و مضبوط ارادے والا بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے خلافت عثمانی کے زمانے کی فتوحات میں حصہ لیا اور پھر پہلی اسلامی صدی کے سیاسی تنازعات میں نمایاں ہوئے۔

فتنۂ اول میں وہ اپنے والد حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جنگِ جمل میں امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کے مقابل فریق میں شریک ہوئے۔ یہ سیاسی و عسکری اختلاف مضبوط تاریخی حقیقت ہے، مگر اسے داماد اور سسر کے باہمی تنازع کے طور پر پیش کرنا زمانی طور پر درست نہیں۔ قدیم سنی نسبی کتاب «المحبّر» از محمد بن حبیب بغدادی، باب «اصهار علي بن أبي طالب»، ص 56، صاف لکھتی ہے کہ ام الحسن بنت علی پہلے جعدہ بن ہبیرہ، پھر جعفر بن عقیل اور ان کے بعد عبداللہ بن زبیر کے نکاح میں آئیں؛ اسی ترتیب کو ص 437 پر بھی محفوظ کیا گیا ہے۔ چونکہ وہاں جعفر بن عقیل کی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہادت بھی مذکور ہے، اس روایت کی زمانی ترتیب کے مطابق عبداللہ بن زبیرؓ کا ام الحسن بنت علیؓ سے نکاح کربلا 61ھ کے بعد ہوا، یعنی جنگِ جمل 36ھ اور حضرت علیؓ کی شہادت 40ھ کے بہت بعد۔ اس معاملے میں امامی مآخذ کا ایک اہم تکمیلی پہلو بھی ہے: شیخ مفیدؒ «الارشاد»، ج 1، ص 354–355 میں ام الحسن کو حضرت علی علیہ السلام کی صاحبزادیوں میں شمار کرتے اور ان کی والدہ ام سعید بنت عروہ ثقفیہ بتاتے ہیں، اگرچہ وہاں ان کے شوہروں کی تفصیل نہیں دیتے۔ دوسری طرف معروف علوی/امامی نسبی کتاب «المجدی فی انساب الطالبین»، ج 1، ص 20، صراحت کرتی ہے کہ امام حسن علیہ السلام کی صاحبزادی ام الحسن کا نکاح عبداللہ بن زبیر سے ہوا؛ ابن عنبہ بھی «عمدة الطالب»، ج 1، ص 68، صاحبِ «المجدی» سے یہی نسبت نقل کرتے ہیں۔ یوں اگر کوئی ام الحسن بنت علیؓ والی سنی نسبی روایت پر بحث بھی کرے، تب بھی اہم امامی نسبی روایت خود عبداللہ بن زبیرؓ کی امام حسنؑ کی صاحبزادی، یعنی حضرت علیؑ کی پوتی، سے قریبی مصاہرت محفوظ کرتی ہے۔ یہ مصاہرت سیاسی اختلافات کو ختم نہیں کرتی، لیکن اسے ایک مضبوط تاریخی قرینہ ضرور بناتی ہے کہ ان اختلافات کو لازماً مستقل دینی یا خاندانی دشمنی قرار دینا درست نہیں۔ اسی لیے ابن تیمیہ «مجموع الفتاوى»، ج 4، ص 431–434 میں صحابہ کے باہمی نزاعات کے بارے میں جو عمومی سنی اصول بیان کرتے ہیں—غیر ثابت الزامات سے احتیاط، ثابت واقعات میں انصاف، فضائل اور اجتہاد کو ملحوظ رکھنا—وہ یہاں ایک مناسب منہجی احتیاط فراہم کرتا ہے؛ یہ عبداللہ بن زبیرؓ پر کوئی مخصوص فتویٰ نہیں۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی ۶۰ھ میں وفات اور یزید کی تخت نشینی کے بعد ابن زبیر نے بیعت سے انکار کرکے مکہ کو اپنا مرکز بنایا۔ یزید کی ۶۴ھ میں وفات کے بعد حجاز، عراق، مصر، یمن اور مشرقی علاقوں کے حصوں میں ان کی خلافت تسلیم کی گئی، اگرچہ شام کی اموی طاقت مروان اور عبدالملک کے تحت دوبارہ مضبوط ہوگئی۔ اسی دور میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ سے بیعت کے مسئلے پر شدید سیاسی کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔ ذہبی نے خلیفہ بن خیاط سے نقل کیا ہے کہ محمد بن حنفیہ نے بیعت سے انکار کیا تو ابن زبیر نے انہیں شعبِ بنی ہاشم میں محصور کیا اور دباؤ ڈالا؛ ایک دوسری محفوظ روایت میں ابن عباسؓ بھی اسی بحران کے ماحول میں ان کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ اس سخت سیاسی اختلاف کے باوجود ذہبی ہی ابن عباسؓ سے ابن زبیر کے بارے میں یہ تعریف نقل کرتے ہیں کہ وہ «قارئ لکتاب اللہ» اور «عفیف فی الاسلام» تھے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سیاسی نزاع کو لازماً ذاتی یا دینی دشمنی نہیں سمجھنا چاہیے۔ بعض بعد کے تاریخی مآخذ ایک مدت خطبے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام کا ذکر نہ کرنے کی روایت بھی نقل کرتے ہیں؛ یہ دعویٰ صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی روایت نہیں اور صحیح حدیثی سند سے ایک ثابت عمومی عادت کے طور پر قائم نہیں، اس لیے اسے نماز و دعا میں درود ترک کرنے یا اہل بیت سے دینی عداوت کی قطعی دلیل نہیں بنایا گیا۔

قدیم نسبی مآخذ ان کی متعدد ازواج اور اولاد محفوظ کرتے ہیں، اور مشترک کنیت «ام الحسن» کی وجہ سے دو الگ خواتین کو خلط نہیں کرنا چاہیے۔ سنی «المحبّر» اور «انساب الاشراف» ام الحسن بنت علیؓ کو جعدہ بن ہبیرہ اور جعفر بن عقیل کے بعد عبداللہ بن زبیرؓ کے نکاح میں لاتے ہیں۔ الگ طور پر «المحبّر» ام الحسن بنت الحسنؑ کو بھی ان کی اہلیہ بتاتی ہے۔ اس دوسری نسبت کی خاص اہمیت یہ ہے کہ علوی/امامی نسبی روایت بھی اسے محفوظ کرتی ہے: «المجدی فی انساب الطالبین»، ج 1، ص 20، ام الحسن بنت امام حسنؑ کا عبداللہ بن زبیرؓ سے نکاح صریح طور پر لکھتی ہے، اور «عمدة الطالب»، ج 1، ص 68، صاحبِ «المجدی» سے یہی بات نقل کرتی ہے۔ شیخ مفیدؒ «الارشاد»، ج 1، ص 354–355 میں ام الحسن بنت علیؓ کا نسب واضح کرتے ہیں مگر اس مقام پر شوہروں کی فہرست نہیں دیتے۔ اس لیے دونوں ام الحسن کو الگ شناخت کے ساتھ رکھنا اور ہر نکاح کو اس کے اپنے ماخذی درجے کے مطابق بیان کرنا زیادہ درست ہے۔

۷۲–۷۳ھ میں عبدالملک نے حجاج بن یوسف کو مکہ کے محاصرے کے لیے بھیجا۔ لڑائی اور سنگ باری سے حرم کو نقصان پہنچا اور بہت سے ساتھی ابن زبیر کو چھوڑ گئے۔ انہوں نے اپنی ضعیف والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مشورہ کیا اور ذلت آمیز شرائط پر ہتھیار ڈالنے کے بجائے مزاحمت جاری رکھی۔ وہ ۷۳ھ، مطابق ۶۹۲ء، میں مکہ میں شہید ہوئے۔ صحیح مسلم کے مطابق حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان کے آویزاں جسد کے پاس رکے، تین مرتبہ «السلام عليك أبا خبيب» کہا اور گواہی دی کہ جہاں تک وہ انہیں جانتے تھے، وہ کثرت سے روزہ رکھنے والے، قیام کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے والے تھے؛ پھر ایسے الفاظ کہے جن کا مفہوم ان کے اخلاقی مقام کی واضح تحسین تھا۔ بعد میں حضرت اسماءؓ و حجاج کی ملاقات بھی صحیح مسلم میں محفوظ ہے۔ قدیم روایات کے مطابق جسد اتار کر خاندان کے حوالے کیے جانے کے بعد حضرت اسماءؓ نے اپنے بیٹے کو غسل دیا، حنوط و کفن کا اہتمام کیا اور تدفین عمل میں آئی؛ ابن اثیر اور ابن کثیر کی مشہور مکی روایت تدفین کو حَجون میں رکھتی ہے۔ حَجون کا یہی قدیم قبرستان آج جنت المعلیٰ یا مقبرۃ المعلاة کے نام سے معروف ہے۔ موجودہ قبرستان میں قدیم انفرادی قبروں کی نشانیاں بڑی حد تک باقی نہیں، اس لیے اس پروفائل کا نقشہ اسی معروف تاریخی تدفینی علاقے کی موجودہ جگہ دکھاتا ہے، کسی جدید طور پر الگ نشان زدہ قبر کا قطعی دعویٰ نہیں کرتا۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

عبداللہ بن زبیر فتنۂ ثانی کے مرکزی رہنماؤں اور اموی موروثی اقتدار کے سب سے بڑے مکی حریف تھے۔ ان کی خلافت نے کچھ عرصے کے لیے سیاسی مرکز حجاز کی طرف منتقل کیا اور اسلامی دنیا کے بڑے حصے میں منظوری حاصل کی؛ ان کی شکست عبدالملک کے تحت سلطنت کے دوبارہ اتحاد کا فیصلہ کن مرحلہ بنی۔

سنی اور امامی نسبی مواد کو ساتھ پڑھنے سے ان کی زیادہ متوازن تصویر سامنے آتی ہے۔ صحیح مسلم میں ابن عمرؓ ان کے روزے، قیام اور صلہ رحمی کی گواہی دیتے ہیں، جبکہ ذہبی ابن عباسؓ سے ان کی قرآن خوانی اور اسلامی عفت کی تعریف نقل کرتے ہیں۔ دوسری طرف جنگِ جمل میں امام علی علیہ السلام کے مقابل فریق میں شرکت اور بعد میں ابن عباسؓ و محمد بن حنفیہؒ سے بیعت کا سخت تنازع بھی محفوظ ہے۔ مگر خاندانی سطح پر صورت صرف نزاع کی نہیں: سنی «المحبّر» (ص 56، 437) ام الحسن بنت علیؓ سے نکاح نقل کرتی ہے، جبکہ اہم امامی نسبی «المجدی» (ج 1، ص 20) اور اس کی نقل «عمدة الطالب» (ج 1، ص 68) امام حسنؑ کی صاحبزادی ام الحسن سے عبداللہ بن زبیرؓ کا نکاح تسلیم کرتے ہیں۔ اس طرح خود مختلف مکتبی ماخذ ایک حقیقی سیاسی نزاع کے ساتھ قریبی علوی/حسنی مصاہرت بھی محفوظ کرتے ہیں۔ یہ بات ہر سیاسی اقدام کو درست ثابت نہیں کرتی، لیکن مستقل دینی یا خاندانی دشمنی کے کلی دعوے کو تاریخی طور پر بہت محتاط بنانے کا تقاضا کرتی ہے۔ ابن تیمیہ کا عمومی سنی منہج بھی غیر ثابت الزامات سے احتیاط اور ثابت اختلافات کو انصاف، فضائل اور اجتہاد کے ساتھ پڑھنے کی تاکید کرتا ہے۔ اسی طرح خطبے میں ایک مدت صلاۃ و سلام کا ذکر نہ کرنے کی بعد کی روایت کو صحیحین کی حدیث یا پوری عبادتی زندگی میں ترکِ درود کی ثابت حقیقت نہیں سمجھا گیا۔

ان کا خاندانی ریکارڈ درست نسبی شناخت کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے۔ ام الحسن بنت علی اور ام الحسن بنت حسن دو الگ خواتین تھیں اور کلاسیکی مآخذ دونوں سے ان کے نکاح کی الگ الگ تائید کرتے ہیں۔ مکمل پدری نسبت محفوظ رکھنے سے مشترک کنیت کے سبب غلط ادغام یا کسی درست رشتے کی غیر ضروری تنسیخ سے بچا جا سکتا ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 2146b | https://sunnah.com/muslim:2146b | Asma's pregnancy and birth of Abd Allah ibn al-Zubayr, tahnik, and first Muhajir child after Hijra
al-Tabaqat al-Kubra | Ibn Sa'd | Abd Allah ibn al-Zubayr entry, vol. 6, p. 473 in the linked edition | https://ftp.shamela.ws/book/146/2651 | Parentage, children, Umm al-Hasan bint al-Hasan, and the report of birth twenty months after Hijra
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Abd Allah ibn al-Zubayr entry; pagination varies by edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/349/ | Birth-year variants, companionship, worship, chronology, and death in 73 AH
al-Muhabbar | Muhammad ibn Habib | p. 56 in the displayed edition | https://shamela.ws/book/12205/56 | Marriage sequence of Umm al-Hasan bint Ali: Ja'da ibn Hubayra, Ja'far ibn Aqil, then Abd Allah ibn al-Zubayr
Ansab al-Ashraf | Ahmad ibn Yahya al-Baladhuri | Ja'da ibn Hubayra descendants entry | https://shamela.ws/book/9773/4115 | Confirms that Umm al-Hasan bint Ali later married Abd Allah ibn al-Zubayr
al-Muhabbar | Muhammad ibn Habib | p. 57 in the displayed edition | https://shamela.ws/book/12205/57 | Explicit marriage of Abd Allah ibn al-Zubayr to Umm al-Hasan bint al-Hasan
Ansab al-Ashraf | Ahmad ibn Yahya al-Baladhuri | vol. 7, p. 141 in the linked edition | https://shamela.ws/book/9773/2723 | Explicit marriage to Umm al-Hasan bint al-Hasan and family details
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 2545 | https://sunnah.com/muslim:2545 | Display of the body, Ibn Umar's testimony, and the later Asma-al-Hajjaj encounter
al-Bidaya wa al-Nihaya | Ibn Kathir | Events of 73 AH, final siege, martyrdom and burial of Abd Allah ibn al-Zubayr | https://www.al-eman.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%8A%D8%A9%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%86%D9%87%D8%A7%D9%8A%D8%A9%20%2A%2A/%20%D9%85%D9%82%D8%AA%D9%84%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87%20%D8%A8%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A8%D9%8A%D8%B1%20%D8%B1%D8%B6%D9%8A%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87%20%D8%B9%D9%86%D9%87/i111%26d74911%26c%26p1 | Final siege, martyrdom, body display, and burial at al-Hajun in the well-known Meccan report
al-Kamil fi al-Tarikh | Ibn al-Athir | Events of 73 AH, Abd Allah ibn al-Zubayr | https://www.islamweb.net/ar/library/content/126/685/ | Body taken down and delivered to Asma; she washed him; burial at al-Hajun in the Meccan report
Saudipedia | Al-Ma'alah Cemetery | https://saudipedia.com/en/al-ma%E2%80%99alah-cemetery | Official Saudi overview identifying al-Ma'alah as the ancient Makkah cemetery at Hajjun and noting that old inscribed grave stones were dispersed and reused over time
Sahih Muslim with Sharh al-Nawawi | Hadith 2545, Bab Dhikr Kadhdhab Thaqif wa Mubiriha | https://www.islamweb.net/ar/library/content/53/7494/ | Ibn Umar greets Abd Allah ibn al-Zubayr three times and testifies to his fasting, night prayer and maintenance of family ties
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Abd Allah ibn al-Zubayr entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/349/ | Ibn Abbas praises Ibn al-Zubayr as a reciter of the Book of Allah and chaste in Islam; broader Sunni biographical context
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Muhammad ibn al-Hanafiyya entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/479/ | Transmits from Khalifa ibn Khayyat the refusal of allegiance, confinement in Shi'b Bani Hashim and pressure; another report places Ibn Abbas in the same crisis
al-Bidaya wa al-Nihaya | Ibn Kathir | Events of 36 AH, beginning of the Battle of the Camel | https://www.islamweb.net/ar/library/content/59/844/ | Sunni historical framing for the First Fitna and the opposing camps at the Battle of the Camel
Muruj al-Dhahab wa Ma'adin al-Jawhar | al-Mas'udi | Vol. 3, later historical report concerning Ibn al-Zubayr's sermon | https://ketabonline.com/ar/books/16498/read?index=4727588%2F4727652%2F4727655&page=952&part=3 | Later historical report about omission of salawat in the sermon; not treated here as a Sahihayn hadith or proof of abandonment of salawat in his full devotional life
al-Muhabbar | Muhammad ibn Habib al-Baghdadi | Bab Ashar Ali ibn Abi Talib, p. 56 | https://shamela.ws/book/12205/56 | Explicit sequence: Umm al-Hasan bint Ali was married to Ja'da ibn Hubayra, then Jafar ibn Aqil, then Abd Allah ibn al-Zubayr
al-Muhabbar | Muhammad ibn Habib al-Baghdadi | Women who married three or more husbands, p. 437 | https://shamela.ws/book/12205/437 | Repeats the same sequence and states that Jafar ibn Aqil was martyred with Imam Husayn, supporting the post-Karbala chronology of Ibn al-Zubayr's marriage
Majmu al-Fatawa | Ibn Taymiyya | Vol. 4, pp. 431-434, discussion of what occurred among the Companions | https://www.islamweb.net/ar/library/content/22/454/ | General Sunni methodological principle: many accusations may be false; established conflicts are assessed with justice, virtues, and ijtihad; not a specific ruling on Ibn al-Zubayr
al-Irshad | Shaykh al-Mufid | Vol. 1, pp. 354-355, children of Imam Ali | https://almojib.com/ar/search?tags=7287 | Lists Umm al-Hasan and Ramla among Imam Ali's daughters and identifies their mother as Umm Sa'id bint Urwa al-Thaqafiyya; this passage does not list Umm al-Hasan's husbands
al-Majdi fi Ansab al-Talibiyyin | Ali ibn Muhammad al-Umari | Vol. 1, p. 20 | https://lib.eshia.ir/15100/1/20/ | Explicitly states that Umm al-Hasan bint al-Hasan married Abd Allah ibn al-Zubayr
Umdat al-Talib fi Ansab Al Abi Talib | Ibn Inaba | Vol. 1, p. 68 | https://lib.eshia.ir/10392/1/68 | Transmits from al-Umari/al-Majdi that Umm al-Hasan bint al-Hasan married Abd Allah ibn al-Zubayr
al-Majdi fi Ansab al-Talibiyyin | Ali ibn Muhammad al-Umari | Vol. 1, p. 18 | https://lib.eshia.ir/15100/1/18/ | Records Umm al-Hasan bint Ali as married to Ja'da ibn Hubayra; useful for distinguishing her from Umm al-Hasan bint al-Hasan

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔