ولادت کی تاریخ اور مقام یقینی طور پر محفوظ نہیں۔ کوئی صحیح سال یا متعین عمر شامل نہیں کی جاسکتی۔
عبدالرحمٰن بن حسن مجتبیٰؑ
PER-000073
اہلِ بیت
قوی امکان
مقامِ تدفین نامعلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حضرت عبدالرحمٰن بن حسن مجتبیٰ علیہ السلام، امام حسن بن علی علیہ السلام کے صاحبزادے اور امام علی علیہ السلام و سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پوتے تھے۔ قدیم انسابی اور امامی مآخذ آپ کی والدہ کو صرف ایک غیر نامزد ام ولد کہتے اور بیان کرتے ہیں کہ آپ کی نسل نہیں چلی۔ شیخ مفید کے مطابق آپ اپنے چچا امام حسین علیہ السلام کے ساتھ حج کے سفر میں گئے، مگر ابواء میں حالت احرام کے دوران وفات پاگئے۔ ولادت و وفات کی صحیح تاریخیں، زوجہ اور تدفین کا مقام یقینی طور پر محفوظ نہیں۔
اپنے چچا امام حسین علیہ السلام کے ساتھ حج کے سفر میں حالت احرام کے دوران ابواء میں وفات پائی۔ صحیح سال اور سبب وفات معتبر طور پر محفوظ نہیں۔
قدیم ماخذ ابواء کو مقام وفات بتاتا ہے، مگر الگ قبر کی تعیین نہیں کرتا۔ اس مخصوص شخصیت کا کوئی مستقل مدفن یا مزار تاریخی طور پر ثابت نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
حضرت عبدالرحمٰن بن حسن علیہ السلام اپنے والد امام حسن بن علی علیہ السلام کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ شیخ مفید انہیں امام حسن علیہ السلام کی اولاد میں مستقل طور پر شمار کرتے ہیں، اور مصعب زبیری بھی حسنی نسب میں ان کا نام محفوظ کرتے ہیں۔ دونوں مآخذ آپ کی والدہ کو صرف ام ولد کہتے ہیں اور ذاتی نام محفوظ نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے والدہ کے خالی رشتے کے خانے کو اندازے سے بھرنے کے بجائے خالی رکھا گیا ہے۔
مآخذ آپ کے بچپن، تعلیم، رہائش یا عوامی سرگرمی کے بارے میں بہت کم معلومات دیتے ہیں۔ ولادت کا کوئی معتبر سال یا عددی عمر منقول نہیں۔ نسب قریش کے مطابق آپ کی نسل نہیں چلی، اور ایک بعد کی انسابی تالیف بھی اسی بات کی تائید کرتی ہے۔ کسی معتبر زوجہ، اولاد، منصب، تدریسی کردار یا تصنیف کی نسبت ثابت نہیں۔
آپ کی زندگی کا سب سے واضح واقعہ شیخ مفید نے محفوظ کیا ہے۔ حضرت عبدالرحمٰن علیہ السلام اپنے چچا امام حسین علیہ السلام کے ساتھ حج کے سفر میں روانہ ہوئے۔ ابواء کے مقام پر حالت احرام میں وفات پاگئے۔ روایت سال، طبی سبب یا مفصل حالات نہیں بتاتی، اس لیے پروفائل میں ماخذ سے باہر کوئی زمانی ترتیب شامل نہیں کی گئی۔
یہ روایت ایک اہم تاریخی اشتباہ بھی دور کرتی ہے۔ اسی عبارت میں شیخ مفید پہلے امام حسن علیہ السلام کے ان صاحبزادوں کا ذکر کرتے ہیں جو امام حسین علیہ السلام کے سامنے طف میں شہید ہوئے، پھر حضرت عبدالرحمٰن علیہ السلام کی وفات ابواء میں الگ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے مضبوط اور مخصوص نئی دلیل کے بغیر آپ کو شہدائے کربلا یا اسیران میں شمار نہیں کرنا چاہیے۔
قدیم ماخذ ابواء کو وفات کا مقام بتاتا ہے، مگر الگ قبر کی شناخت نہیں کرتا۔ دستیاب شواہد سے اس مخصوص شخصیت کا کوئی مزار یا صحیح قبر کا نشان ثابت نہیں۔ آپ کی ذمہ دارانہ یاد درست نسب، حج کے سفر میں حالت احرام کے دوران وفات، اور اپنی زندگی کو بھائیوں کی شہادت کی روایتوں سے الگ رکھنے پر قائم ہے۔
مآخذ آپ کے بچپن، تعلیم، رہائش یا عوامی سرگرمی کے بارے میں بہت کم معلومات دیتے ہیں۔ ولادت کا کوئی معتبر سال یا عددی عمر منقول نہیں۔ نسب قریش کے مطابق آپ کی نسل نہیں چلی، اور ایک بعد کی انسابی تالیف بھی اسی بات کی تائید کرتی ہے۔ کسی معتبر زوجہ، اولاد، منصب، تدریسی کردار یا تصنیف کی نسبت ثابت نہیں۔
آپ کی زندگی کا سب سے واضح واقعہ شیخ مفید نے محفوظ کیا ہے۔ حضرت عبدالرحمٰن علیہ السلام اپنے چچا امام حسین علیہ السلام کے ساتھ حج کے سفر میں روانہ ہوئے۔ ابواء کے مقام پر حالت احرام میں وفات پاگئے۔ روایت سال، طبی سبب یا مفصل حالات نہیں بتاتی، اس لیے پروفائل میں ماخذ سے باہر کوئی زمانی ترتیب شامل نہیں کی گئی۔
یہ روایت ایک اہم تاریخی اشتباہ بھی دور کرتی ہے۔ اسی عبارت میں شیخ مفید پہلے امام حسن علیہ السلام کے ان صاحبزادوں کا ذکر کرتے ہیں جو امام حسین علیہ السلام کے سامنے طف میں شہید ہوئے، پھر حضرت عبدالرحمٰن علیہ السلام کی وفات ابواء میں الگ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے مضبوط اور مخصوص نئی دلیل کے بغیر آپ کو شہدائے کربلا یا اسیران میں شمار نہیں کرنا چاہیے۔
قدیم ماخذ ابواء کو وفات کا مقام بتاتا ہے، مگر الگ قبر کی شناخت نہیں کرتا۔ دستیاب شواہد سے اس مخصوص شخصیت کا کوئی مزار یا صحیح قبر کا نشان ثابت نہیں۔ آپ کی ذمہ دارانہ یاد درست نسب، حج کے سفر میں حالت احرام کے دوران وفات، اور اپنی زندگی کو بھائیوں کی شہادت کی روایتوں سے الگ رکھنے پر قائم ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
حضرت عبدالرحمٰن علیہ السلام کی تاریخی اہمیت اس لیے ہے کہ ان کا نام امام حسن علیہ السلام کے ایک کم معروف صاحبزادے کی حیثیت سے اہل بیت کے قریبی خاندان میں محفوظ ہے۔ ان کا مختصر ریکارڈ یاد دلاتا ہے کہ بعض شخصیات کی شناخت مضبوط ہوتی ہے، اگرچہ تفصیلی سوانح باقی نہیں رہتی۔
یہ پروفائل کربلا کی غلط نسبت درست کرنے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ قدیم امامی سوانحی بیان طف میں شہید ہونے والے صاحبزادوں کو حضرت عبدالرحمٰن علیہ السلام سے الگ کرتا ہے، جن کی وفات ابواء میں حالت احرام کے دوران ہوئی۔ اس فرق کا احترام امام حسن علیہ السلام کے ہر صاحبزادے کو خودکار طور پر شہدائے عاشورا میں شامل کرنے سے روکتا ہے۔
نسل نہ چلنے اور الگ قبر ثابت نہ ہونے کا مطلب ہے کہ آپ کی میراث کسی بعد کی نسلی شاخ یا مزار پر قائم نہیں۔ یہ میراث محتاط علم الانساب، محدود شواہد کے دیانت دارانہ اعتراف اور مقدس سفر کے دوران وفات پانے والے اہل بیت کے ایک فرد کی یاد سے قائم ہے۔
یہ پروفائل کربلا کی غلط نسبت درست کرنے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ قدیم امامی سوانحی بیان طف میں شہید ہونے والے صاحبزادوں کو حضرت عبدالرحمٰن علیہ السلام سے الگ کرتا ہے، جن کی وفات ابواء میں حالت احرام کے دوران ہوئی۔ اس فرق کا احترام امام حسن علیہ السلام کے ہر صاحبزادے کو خودکار طور پر شہدائے عاشورا میں شامل کرنے سے روکتا ہے۔
نسل نہ چلنے اور الگ قبر ثابت نہ ہونے کا مطلب ہے کہ آپ کی میراث کسی بعد کی نسلی شاخ یا مزار پر قائم نہیں۔ یہ میراث محتاط علم الانساب، محدود شواہد کے دیانت دارانہ اعتراف اور مقدس سفر کے دوران وفات پانے والے اہل بیت کے ایک فرد کی یاد سے قائم ہے۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام حسن مجتبیٰؑ
قوی امکان
ماخذ
Kitab al-Irshad | Shaykh al-Mufid | Volume 2, page 20 | https://lib.eshia.ir/27035/2/20 | identity among Imam Hasan's children and mother described only as an unnamed umm waladKitab al-Irshad | Shaykh al-Mufid | Volume 2, page 26 | https://lib.eshia.ir/27035/2/26 | pilgrimage journey with Imam Husayn, death at al-Abwa while in ihram, and distinction from sons martyred at al-Taff
Nasab Quraysh | Mus'ab al-Zubayri | Page 50 in the displayed edition | https://shamela.ws/book/2922/48 | Hasanid genealogy, mother as umm walad, and no descendants
Fada'il al-Thaqalayn min Tawdih al-Dala'il | Al-Iji al-Shafi'i | Volume 1, page 498 | https://lib.eshia.ir/86815/1/498 | later corroboration that Abd al-Rahman's mother was an umm walad and that he left no descendants
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔