ام سلمہ بنت حسن مجتبیٰؑ

PER-000079 اہلِ بیت قوی امکان مقامِ تدفین نامعلوم امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
حضرت امّ سلمہ بنت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اہلِ بیت کی حسنی شاخ سے تعلق رکھنے والی خاتون تھیں، جن کی مستقل سوانح بہت مختصر صورت میں محفوظ ہے۔ دو ابتدائی نسبی مصادر انہیں امام حسن علیہ السلام کی صاحبزادی اور عمرو بن منذر بن زبیر بن عوام کی زوجہ قرار دیتے ہیں، جبکہ ایک بعد کی نسبی روایت یہی نسبت رقیہ بنت حسن کے نام سے نقل کرتی ہے۔ اس لیے یہ ازدواجی نسبت مضبوط اور غالباً درست ہے، مگر اسے بلا اختلاف قطعی نہیں کہنا چاہیے۔ ایک ابتدائی نسبی ماخذ کے مطابق ان کی کوئی اولاد درج نہیں۔ ان کی والدہ، پیدائش و وفات کی تاریخیں، بعد کی زندگی اور مدفن معتبر طور پر معلوم نہیں۔
ولادت

ان کی پیدائش کا قطعی سال اور مقام معتبر طور پر محفوظ نہیں۔ وہ پہلی صدی ہجری میں مدینہ کے حسنی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔

وفات

ان کی وفات کا قطعی سال، مقام اور حالات استعمال شدہ مصادر میں معتبر طور پر محفوظ نہیں۔

مدفن یا منسوب مقام

ان کا مدفن نامعلوم ہے۔ کوئی ثابت شدہ قبر یا معتبر ابتدائی قبرستانی نسبت نہیں ملی۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت امّ سلمہ امام حسن بن علی مجتبیٰ علیہ السلام کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ شیخ مفید انہیں امام حسن علیہ السلام کی صاحبزادیوں میں شمار کرتے ہیں اور چند دوسری بہنوں کے ساتھ ان کی ماؤں کو مجموعی طور پر مختلف خواتین قرار دیتے ہیں۔ دستیاب فہرست امّ سلمہ کی والدہ کا نام الگ سے نہیں بتاتی، اس لیے ان کا مادری نسب قیاس سے متعین کرنے کے بجائے نامعلوم رہنا چاہیے۔

محفوظ مصادر انہیں کنیت امّ سلمہ ہی سے یاد کرتے ہیں اور کوئی الگ ذاتی نام نہیں دیتے۔ ابتدائی اسلامی تاریخ میں یہ کنیت کئی خواتین کے لیے استعمال ہوئی، اس لیے ان کی مکمل شناخت امّ سلمہ بنت حسن بن علی کے طور پر لکھنا ضروری ہے۔ اس سے وہ امّ المؤمنین حضرت امّ سلمہ رضی اللہ عنہا اور بعد کی دوسری حسنی یا حسینی خواتین سے واضح طور پر الگ رہتی ہیں۔

مصعب زبیری کی کتاب نسب قریش اور ابن حبیب کی المحبر دونوں امّ سلمہ بنت حسن کا نکاح عمرو بن منذر بن زبیر بن عوام سے بیان کرتی ہیں۔ جمہرة انساب العرب بھی عمرو کے امام حسن علیہ السلام کی ایک صاحبزادی سے نکاح کی تائید کرتی ہے، اگرچہ وہاں بیٹی کا نام نہیں آیا۔ اس کے مقابلے میں بعد کی نسبی کتاب المجدی یہی نسبت رقیہ بنت حسن کے نام سے محفوظ کرتی ہے۔ اس بنا پر امّ سلمہ اور عمرو کا ازدواجی رشتہ مضبوط ابتدائی شہادت سے غالباً درست ہے، مگر بعد کے نسبی اختلاف کی وجہ سے اسے قطعی اور بلا اختلاف نہیں لکھنا چاہیے۔

نسب قریش یہ بھی لکھتی ہے کہ اس نکاح سے امّ سلمہ کی کوئی اولاد درج نہیں۔ نسب اور نکاح کے علاوہ استعمال شدہ قدیم مصادر ان کی عوامی سرگرمی، کربلا میں شرکت، قطعی رہائش، وفات کی تاریخ، جنازے یا مدفن کو معتبر طور پر ثابت نہیں کرتے۔ اس لیے ان کی سوانح محدود اور شواہد کے مطابق رہنی چاہیے، اور مصادر کی خاموشی سے غیر ثابت عقیدتی یا سیاسی دعوے اخذ نہیں کیے جانے چاہییں۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت امّ سلمہ سے منسوب یہ مضبوط مگر بعد کے اختلاف سے خالی نہ رہنے والا نکاح اہلِ بیت کے حسنی گھرانے اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے خاندان کی ایک شاخ کے درمیان نسبی و معاشرتی ربط دکھاتا ہے۔ اسے راجح خاندانی تعلق کے طور پر پیش کرنا مناسب ہے، لیکن اسے اکیلے کسی سیاسی یا فرقہ وارانہ موقف کی دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔

ان کا تعارف تحقیقی طریقۂ کار کے لحاظ سے اہم ہے، کیونکہ یہ محدود شواہد والی خاتون کی ذمہ دار پیشکش کی مثال ہے: ثابت نسب بیان کیا جاتا ہے، نکاح کو ابتدائی شہادت اور بعد کے اختلاف دونوں کے ساتھ غالب نسبت کے طور پر لکھا جاتا ہے، اولاد نہ ہونے کو ماخذ کی خبر کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے، جبکہ والدہ، تاریخوں اور مدفن جیسی نامعلوم تفصیلات کو نامعلوم ہی رکھا جاتا ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Kitab al-Irshad | Shaykh al-Mufid | p. 282 in the displayed edition | https://ns1.almerja.com/more.php?idm=12114 | Umm Salama listed among the daughters of Imam Hasan; her mother is not individually named
Nasab Quraysh | Mus'ab al-Zubayri | displayed p. 50 / digital location 48 | https://shamela.ws/book/2922/48 | Explicit marriage of Umm Salama bint Hasan to Amr ibn al-Mundhir ibn al-Zubayr and statement that no child is recorded for her
Al-Muhabbar | Muhammad ibn Habib | p. 57 | https://shamela.ws/book/12205/57 | Independent early corroboration of the marriage to Amr ibn al-Mundhir ibn al-Zubayr
Jamharat Ansab al-Arab | Ibn Hazm | displayed p. 123 | https://ftp.shamela.ws/book/9793/123 | Corroborates that Amr ibn al-Mundhir married a daughter of Imam Hasan, without naming the daughter
Al-Majdi fi Ansab al-Talibiyyin | Al-Umari | Hasanid daughters and marriages entry; pagination varies by edition | https://archive.org/stream/olomnasb_ymail_20160830_1552/%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%AC%D8%AF%D9%8A%20%D9%81%D9%8A%20%D8%A3%D9%86%D8%B3%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D9%8A%D9%8A%D9%86_djvu.txt | Preserves the later competing attribution of the marriage to Ruqayya bint Hasan

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔