محمد بن جعفر صادقؑ

PER-000114 اہلِ بیت قوی امکان صرف عمومی علاقہ معلوم امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
ابو جعفر محمد الدیباج، امام جعفر صادقؑ کے فرزند، امام محمد باقرؑ کے پوتے، مدینہ کے علوی راوی اور تیسری صدی ہجری کے آغاز کی ایک نمایاں سیاسی شخصیت تھے۔ ان کی والدہ حمیدہ بربریہ اور معروف زوجہ خدیجہ بنت عبداللہ بن حسین تھیں۔ کلاسیکی مصادر انہیں بہادر، عاقل، عبادت گزار اور نہایت سخی بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے ۲۰۰ھ میں مکہ میں مختصر مدت کے لیے خلافت کا دعویٰ قبول کیا، شکست کے بعد دستبردار ہوئے، مامون نے انہیں معاف کیا، اور وہ ۲۰۳ھ میں جرجان میں وفات پا کر وہیں دفن ہوئے۔
ولادت

مدینہ میں پیدائش منقول ہے، لیکن صحیح تاریخِ ولادت معلوم نہیں۔ دستیاب قدیم مصادر کسی قابلِ اعتماد سال یا عمر پر متفق نہیں۔

وفات

وہ ۲۰۳ھ، مطابق تقریباً ۸۱۸ تا ۸۱۹ء، میں جرجان میں وفات پا گئے۔ سببِ وفات قطعی طور پر ثابت نہیں، اس لیے کسی متاخر طبی روایت کو یقینی نہیں بنایا گیا۔

مدفن یا منسوب مقام

جرجان میں تدفین یعقوبی، مسعودی اور تاریخِ جرجان سے مضبوط طور پر منقول ہے۔ موجودہ کسی مخصوص قبر یا مزار کی الگ انتظامی شناخت اس فائل کے محفوظ مزار اور جغرافیائی خانوں میں موجود نہیں، اس لیے وہ خانے جوں کے توں خالی رکھے گئے ہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

ابو جعفر محمد بن جعفر بن محمدؑ، امام جعفر صادقؑ کے فرزند اور امام محمد باقرؑ کے پوتے تھے۔ حسنِ چہرہ کی وجہ سے الدیباج کے لقب سے مشہور ہوئے۔ بعض نسبی کتب میں انہیں محمد الاکبر یا محمد المأمون بھی کہا گیا ہے، مگر یہ آخری لقب عباسی خلیفہ مامون سے خلط نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی والدہ حمیدہ بربریہ تھیں، جو امام موسیٰ کاظمؑ اور اسحاق مؤتمن کی والدہ بھی بیان ہوئی ہیں۔

محمد الدیباج نے اپنے والد امام جعفر صادقؑ اور ہشام بن عروہ سے روایت کی۔ ان سے ابراہیم بن منذر حزامی، یعقوب بن حمید بن کاسب، محمد بن یحییٰ عدنی اور دوسرے محدثین نے روایت نقل کی۔ بغداد اور رجال کے مصادر انہیں مدینہ کے ایک معروف علوی راوی کے طور پر درج کرتے ہیں، اگرچہ ان کی حدیثی میراث ان کے بعض دوسرے اہلِ بیت معاصرین کی نسبت محدود ہے۔

کلاسیکی سوانح میں ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف شجاعت، عقل، فضل، عبادت اور سخاوت ہیں۔ روایت ہے کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور دوسرے دن افطار کرتے تھے۔ ان کی زوجہ خدیجہ بنت عبداللہ بن حسین کے مطابق وہ گھر سے جس لباس میں نکلتے، اکثر واپسی تک کسی ضرورت مند کو دے چکے ہوتے تھے۔ امامی روایت ان کی مہمان نوازی اور روزانہ مہمانوں کے لیے جانور ذبح کرنے کا بھی ذکر کرتی ہے۔

سیاسی اعتبار سے وہ عباسی خلافت کے خلاف مسلح علوی خروج کے امکان سے ہمدردی رکھتے تھے۔ امامی سوانح انہیں زیدی اصولِ خروج بالسيف کی طرف مائل بتاتی ہے۔ ابو السرایا کی تحریک اور حجاز میں عباسی اقتدار کی کمزوری کے دوران ان کے گرد مکہ کے علویوں اور بعض جارودی زیدیوں کا حلقہ جمع ہوا۔ بعض روایات کے مطابق وہ ابتدا میں خلافت قبول کرنے میں متردد تھے، مگر اہلِ خاندان اور حامیوں کے اصرار پر آمادہ ہوئے۔

ربیع الآخر ۲۰۰ھ میں مکہ اور حجاز کے ایک حصے میں ان کے ہاتھ پر امیر المؤمنین اور خلیفہ کی حیثیت سے بیعت ہوئی۔ یہ اقتدار بہت مختصر رہا۔ تاریخی مصادر بیعت کی مدت اور بعض انتظامی واقعات کی جزئیات میں مختلف ہیں، مگر متفق ہیں کہ عباسی لشکر سے مقابلہ ہوا، علوی جماعت شکست کھا گئی اور محمد الدیباج نے اسی سال مکہ میں اپنے دعوے سے علانیہ دستبرداری اختیار کی۔

دستبرداری کے بعد وہ عباسی حکام کی امان میں آئے اور بالآخر خلیفہ مامون کے پاس خراسان پہنچے۔ مامون نے ان کے سابق خروج کے باوجود انہیں معاف کیا، عزت دی اور طالبی سادات کے ساتھ ان کی سماجی حیثیت برقرار رہنے دی۔ اس مرحلے کی روایات میں مامون کے دربار میں ان کی خودداری اور اپنے خادموں کے حق میں سخت موقف کے واقعات بھی محفوظ ہیں، مگر انہیں غیر ضروری افسانوی رنگ نہیں دیا گیا۔

یعقوبی، مسعودی اور جرجان کی مقامی تاریخ کے مطابق وہ مامون کے سفر کے دوران جرجان پہنچے اور ۲۰۳ھ، مطابق تقریباً ۸۱۸ تا ۸۱۹ء، میں وہیں وفات پائی۔ ان کی تدفین جرجان میں مضبوط تاریخی روایت سے منقول ہے۔ سببِ وفات کے بارے میں ایک متاخر جسمانی عارضے کی روایت ملتی ہے، لیکن اسے یقینی سبب قرار نہیں دیا گیا۔

نسبی مصادر ان کی نسل کو بالخصوص علی، قاسم اور حسین نامی فرزندوں سے جاری بتاتے ہیں، جبکہ تاریخِ جرجان یحییٰ کا بھی ذکر کرتی ہے۔ خدیجہ بنت عبداللہ کو یحییٰ کی والدہ کہا گیا ہے۔ محمد الدیباج کی اہمیت علم، علوی سماجی وقار اور ۲۰۰ھ کے مختصر مکی سیاسی تجربے کے اجتماع میں ہے؛ ان کی سوانح کو نہ صرف ایک ناکام خروج میں محدود کرنا درست ہے اور نہ اسے غیر منقح مناقب سے بھرنا۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

محمد الدیباج کی شخصیت اہلِ بیت کے ایک ایسے فرد کی مثال ہے جس میں حدیثی روایت، شخصی زہد و سخاوت، علوی نسبی قیادت اور عملی سیاست جمع ہوئے۔ سنی اور امامی دونوں سوانحی ذخائر ان کی شجاعت، فضل اور فیاضی کے بنیادی اوصاف محفوظ کرتے ہیں۔

۲۰۰ھ کی مکی بیعت عباسی دور کی علوی سیاست میں اہم ہے، کیونکہ اس نے حجاز میں ایک مختصر علوی خلافتی دعوے کو جنم دیا۔ شکست، علانیہ دستبرداری اور مامون کی معافی یہ دکھاتی ہے کہ اس دور کی علوی عباسی کشمکش صرف مستقل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات، امان اور سیاسی بازگشت کے مراحل بھی رکھتی تھی۔

اس پروفائل میں مضبوط حقائق اور اختلافی جزئیات الگ رکھی گئی ہیں: والدہ اور زوجہ کی نسبت کلاسیکی شواہد سے مکمل کی گئی، پیدائش کی تاریخ نامعلوم رکھی گئی، وفات ۲۰۳ھ اور جرجان میں تدفین کو مضبوط روایت کے مطابق بیان کیا گیا، اور موجودہ الگ مزار یا جغرافیائی شناخت محفوظ انتظامی خانوں میں ایجاد نہیں کی گئی۔

خاندانی روابط

ماخذ

Tarikh Baghdad | al-Khatib al-Baghdadi | Vol. 2, pp. 475-477 in the Bashshar edition | https://lib.eshia.ir/40310/2/475 | Hadith transmission, Meccan caliphal claim in 200 AH, wife Khadija, courage, alternate-day fasting and generosity
Maqatil al-Talibiyyin | Abu al-Faraj al-Isfahani | Vol. 1, p. 358 | https://lib.eshia.ir/22033/1/358 | Devotion, merit, alternate-day fasting and the Jarudi supporters around Muhammad in Mecca
al-Aqd al-Thamin fi Tarikh al-Balad al-Amin | Taqi al-Din al-Fasi | Vol. 1, p. 324 | https://lib.eshia.ir/86539/1/324 | Rule in Mecca, allegiance in 200 AH, military defeat, safe conduct, abdication and al-Ma'mun's pardon
Tarikh al-Ya'qubi | Ahmad ibn Abi Ya'qub al-Ya'qubi | Vol. 2, p. 448 | https://lib.eshia.ir/10382/2/448 | Transfer toward al-Ma'mun, death at Gurgan and the end of the political episode
Muruj al-Dhahab wa Ma'adin al-Jawhar | al-Mas'udi | Vol. 3, p. 440 | https://ito.lib.eshia.ir/81454/3/440 | Al-Ma'mun's amnesty, travel to Gurgan, death and burial there
Musnad al-Imam al-Sadiq | Aziz Allah al-Attaridi | Vol. 1, pp. 404 and 438 | https://ar.lib.eshia.ir/86867/1/404 | Mother Hamida al-Barbariyya and compiled genealogical and historical notices concerning Muhammad al-Dibaj
al-Fakhri fi Ansab al-Talibiyyin | Isma'il al-Marwazi | Vol. 1, p. 27 | https://lib.eshia.ir/86545/1/27 | Genealogical continuation through Ali, al-Qasim and al-Husayn
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 10, biographical entry, p. 105 in a common edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/1680/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A8%D9%86-%D8%AC%D8%B9%D9%81%D8%B1 | Identity, al-Dibaj epithet, Medinan status, teachers, students, courage and standing

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔