ابو مسلم خولانی کی کوئی صحیح طور پر ثابت شدہ قطعی تاریخِ پیدائش یا سالِ پیدائش معلوم نہیں۔ کلاسیکی مآخذ انہیں خولان کا یمنی قرار دیتے ہیں اور عموماً یہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں اسلام قبول کیا مگر آپ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ حنین کے سال میں ان کی پیدائش رکھنے والی ایک روایت اختلافی ہے اور ممکن ہے دراصل ابو ادریس خولانی سے متعلق ہو۔ اسے قطعی زمانی ترتیب کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
ابو مسلم خولانی
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
ابو مسلم خولانی کی وفات کا صحیح سال اور مقام دونوں اختلافی ہیں۔ ذہبی ایسے شواہد نقل کرتے ہیں جن سے وفات معاویہ بن ابی سفیان کے عہد کے اختتام سے پہلے یا قریب سمجھی جا سکتی ہے، جبکہ ایک دوسری روایت ۶۲ ہجری بتاتی ہے۔ ابن سعد کے حوالے سے وفات یزید بن معاویہ کے دور میں بھی منقول ہے۔ بعض سوانحی روایات کے مطابق ابو مسلم بازنطینی علاقے میں فوجی مہم کے دوران فوت ہوئے۔ چونکہ مآخذ ایک تاریخ یا ایک مقامِ وفات پر متفق نہیں، اس لیے کسی ایک زمانی ترتیب کو یقینی نہیں کہنا چاہیے۔
مقام کی نوعیت: منسوب مقامِ تدفین۔ ایک دیرینہ روایت ابو مسلم خولانی کی قبر کو موجودہ ریف دمشق گورنریٹ، سوریہ کے شہر داریا میں قرار دیتی ہے۔ ذہبی داریا میں ایک زیارت کی جانے والی قبر کا ذکر کرتے ہیں جسے ابو مسلم سے منسوب کیا جاتا تھا اور اس نسبت کو ممکن قرار دیتے ہیں۔ بعد میں ابن جبیر صراحت کے ساتھ داریا میں ابو مسلم کی ایک قبر کا ذکر کرتے ہیں جس پر گنبد تھا، اور ابن بطوطہ بھی داریا کی قبر والی روایت دہراتے ہیں۔ جدید مقامی ورثہ بھی ان کے نام والی مسجد کے ساتھ ان کے مقام کی نسبت برقرار رکھتا ہے۔ یہ نسبت اس لیے مشروط رہتی ہے کہ بعض ابتدائی سوانحی مآخذ ابو مسلم کی وفات بازنطینی علاقے میں فوجی مہم کے دوران بتاتے ہیں۔ اس لیے داریا کو قطعی طور پر ثابت شدہ قبر نہیں بلکہ ایک قدیم اور مسلسل منسوب تدفینی روایت کے طور پر بیان کرنا چاہیے۔ انفرادی قبر کے لیے کوئی آزادانہ طور پر قابلِ اعتماد قطعی عرض البلد، طول البلد یا گوگل نقشہ مقام ثابت نہیں ہو سکا، اس لیے کوئی دقیق مقام اخذ نہیں کرنا چاہیے۔
سوانح و تاریخی تعارف
ان کا ذاتی نام ایک ہی بالکل یکساں صورت میں منقول نہیں۔ مزی اور دیگر مصنفینِ رجال عبد اللہ بن ثواب، ابن اثواب اور چند کم معروف نسبی صورتیں بھی محفوظ کرتے ہیں۔ اس لیے سب سے محتاط شناخت ابو مسلم خولانی، عموماً عبد اللہ بن ثوب، ہے اور کسی اختلافی نسبی صورت کو یقینی پدری شجرہ نہیں بنانا چاہیے۔
ابو مسلم کی شخصیت صحیح حدیثی روایت میں مضبوطی سے ثابت ہے۔ صحیح مسلم ۱۰۴۳ میں ابو ادریس خولانی، ابو مسلم سے اور وہ عوف بن مالک سے رسول اللہ ﷺ کا وہ عہد روایت کرتے ہیں جس میں اللہ کی عبادت، پانچ نمازیں، اطاعت اور لوگوں سے چیزیں نہ مانگنے کا ذکر ہے۔ اس متصل سند میں ان کی موجودگی انہیں ابتدائی دور کے ایک معروف راوی کے طور پر ثابت کرتی ہے۔
جامع ترمذی ۲۳۹۰ ایک دوسرا اہم حوالہ فراہم کرتی ہے۔ ابو مسلم، معاذ بن جبل سے وہ حدیثِ قدسی روایت کرتے ہیں جس میں اللہ کی عظمت کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے لیے نور کے منبروں کا ذکر ہے۔ امام ترمذی نے روایت کو حسن صحیح قرار دیا اور صراحت کی کہ ابو مسلم خولانی کا نام عبد اللہ بن ثوب تھا۔
کلاسیکی اہلِ رجال انہیں ثقہ اور تابعین کے بڑے عبادت گزاروں میں شمار کرتے ہیں۔ سوانحی روایت عام طور پر انہیں ایسا شخص قرار دیتی ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اسلام قبول کیا مگر آپ سے بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی۔ ان کی پیدائش کے لیے کوئی معین سال بتانے والی روایات، جن میں حنین کے سال کے قریب پیدائش کا ذکر بھی ہے، خود بڑے مصنفین کے نزدیک محلِ اشکال ہیں اور ممکن ہے کہ ابو ادریس خولانی کے ساتھ خلط کا نتیجہ ہوں۔
ابو مسلم سے منسوب سب سے مشہور واقعہ یمن میں اسود عنسی سے متعلق ہے۔ کلاسیکی بیان کے مطابق اسود نے ابو مسلم سے اپنے دعوے کی تصدیق چاہی، ایک بڑی آگ تیار کرائی اور انکار پر ابو مسلم کو اس میں ڈلوایا۔ روایت میں بیان ہے کہ آگ نے انہیں نقصان نہیں پہنچایا۔
اس واقعے کے بعد ابو مسلم کے مدینہ جانے کا ذکر ملتا ہے۔ کلاسیکی روایات کے مطابق عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا وہی شخص ہیں جسے جھوٹے مدعی نے جلانے کی کوشش کی تھی، اور ابو مسلم کے اقرار پر انہیں گلے لگایا۔ بعد کی روایت میں یہ واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش سے مشہور تشبیہ بن گیا۔
آگ والا واقعہ قدیم ہے اور سنی سوانحی ادب میں وسیع طور پر منقول ہوا ہے، اور لالکائی، ابن عبد البر، ابن عساکر، ابو نعیم اور ذہبی سے وابستہ کتب میں آتا ہے۔ اس کی شہرت اس کی سندی کمزوری کو ختم نہیں کرتی۔ ذہبی صراحت کرتے ہیں کہ شرحبیل بن مسلم کے ذریعے آنے والی بنیادی روایت مرسل ہے۔ اس لیے اس واقعے کو منقطع سند کی احتیاط کے ساتھ ایک مشہور کلاسیکی کرامت کے طور پر پیش کرنا چاہیے، نہ کہ متصل صحیح حدیث کے طور پر۔
ابو مسلم کی بعد کی زندگی کا مضبوط تعلق شام سے ہے۔ مزی لکھتے ہیں کہ وہ دمشق کے قریب داریا میں رہتے تھے، اور ذہبی انہیں الدارانی بھی کہتے ہیں۔ ان کے روایتی حلقے میں عمر بن خطاب، معاذ بن جبل، ابو عبیدہ بن الجراح، ابو ذر، عبادہ بن صامت اور عوف بن مالک جیسے بڑے صحابہ شامل تھے۔
زہد کے ادب میں انہیں نماز، روزے، ذکرِ الٰہی اور موت کی تیاری میں نہایت منہمک دکھایا گیا ہے۔ ابو نعیم انہیں شام کے ابتدائی نمایاں زاہدوں میں شامل کرتے ہیں اور ایسے اقوال نقل کرتے ہیں جن میں ضبطِ نفس، دنیاوی مشاغل سے بے رغبتی اور اخلاقی سنجیدگی پر زور ہے۔ انہی روایات نے شام کی دینی ثقافت میں ان کی زاہدانہ شہرت کو تشکیل دیا۔
سوانحی مآخذ انہیں بازنطینی سرحدوں پر فوجی سرگرمی سے بھی جوڑتے ہیں۔ بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ لشکری امرا ان کی موجودگی کو اہم سمجھتے تھے، اور بعد کی بعض اطلاعات انہیں صفین میں معاویہ کے ساتھ رکھتی ہیں۔ یہ نبوی احادیث نہیں بلکہ تاریخی و سوانحی روایات ہیں اور انہیں اسی درجۂ ثبوت میں رکھنا چاہیے۔
ابو مسلم کو حکمرانوں کے سامنے اخلاقی بات کہنے کے لیے بھی یاد کیا گیا۔ کلاسیکی روایات میں وہ معاویہ سے براہِ راست گفتگو کرتے اور درباری خوشامد کے بجائے عدل پر زور دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ یادداشت انہیں صرف نجی زاہد ہی نہیں بلکہ ابتدائی شامی معاشرے میں ایک علانیہ دینی آواز کے طور پر بھی پیش کرتی ہے۔
ان کی زوجہ ام مسلم الخولانی کی کنیت سے براہِ راست ثابت ہیں۔ تاریخ دمشق انہیں صراحت کے ساتھ ابو مسلم کی زوجہ قرار دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ ابو مسلم کی وفات کے بعد انہوں نے زاہد عمرو بن عبد الخولانی سے نکاح کیا۔ ان کا ذاتی نام محفوظ مآخذ میں قابلِ اعتماد طور پر ثابت نہیں، اور زیرِ نظر ذرائع ابو مسلم کی اولاد کی کوئی مکمل قابلِ اعتماد فہرست فراہم نہیں کرتے۔
ان کی وفات کی زمانی ترتیب یکساں نہیں۔ ذہبی ایسے شواہد محفوظ کرتے ہیں جن سے وفات معاویہ کے عہد کے اختتام سے پہلے یا اس کے قریب سمجھی جا سکتی ہے، جبکہ ایک دوسری روایت ۶۲ ہجری بتاتی ہے، اور ابن سعد کے حوالے سے وفات یزید بن معاویہ کے زمانے میں بھی منقول ہے۔ بعض سوانحی اطلاعات کے مطابق ابو مسلم بازنطینی علاقے میں مہم کے دوران فوت ہوئے۔
ان مختلف وفاتی روایات کے ساتھ داریا میں تدفین کی ایک طویل اور مسلسل روایت بھی موجود ہے۔ ذہبی وہاں ایک زیارت کی جانے والی قبر کا ذکر کرتے ہیں جسے ابو مسلم سے منسوب کیا جاتا تھا اور اس نسبت کو ممکن سمجھتے ہیں۔ بعد میں ابن جبیر نے داریا میں ان کی قبر پر گنبد کا ذکر کیا، اور ابن بطوطہ نے بھی داریا کی نسبت نقل کی۔ جدید مقامی ورثہ بھی ان کے نام والی مسجد میں ان سے منسوب مقام کی شناخت جاری رکھتا ہے۔ چونکہ مقامِ وفات کی روایات پوری طرح متفق نہیں، اس لیے داریا کے مقام کو قطعی ثابت شدہ تدفین کے بجائے ایک قدیم اور اہم منسوب قبر کی روایت سمجھنا زیادہ درست ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
وہ اسلامی تصورِ کرامت کی تاریخ میں بھی اہم ہیں۔ آگ والا واقعہ ابتدائی سنی سوانحی روایت میں اولیائی حفاظتِ الٰہی کی سب سے مشہور حکایات میں شامل ہوا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش سے اس کا واضح تقابل کیا گیا۔ ساتھ ہی ذہبی نے فنی احتیاط محفوظ رکھی کہ بنیادی طریق مرسل ہے۔ مناقبی اہمیت اور سندی تنقید کا یہ امتزاج دکھاتا ہے کہ کلاسیکی علما کسی مؤثر کرامت کو نقل کرتے ہوئے بھی اس کی سند کو مقید کر سکتے تھے۔
ابو مسلم کی زندگی ابتدائی شامی دینی ثقافت کی تشکیل کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ خولان کے ایک یمنی شخص کی حیثیت سے وہ مدینہ سے گزر کر داریا میں مقیم ہوئے، بڑے صحابہ سے روایت کی، زہد اور اخلاقی نصیحت کے لیے معروف ہوئے اور سرحدی فوجی ماحول میں بھی یاد کیے گئے۔ اس طرح ان کی شہرت حدیث، زہد، علانیہ خیرخواہی اور شام کی دینی شناخت کو ایک جگہ جمع کرتی ہے۔
آخر میں داریا کے مقام کی دیرپا روایت یہ دکھاتی ہے کہ سوانحی یادداشت کس طرح مقدس جغرافیہ سے وابستہ ہوئی۔ ذہبی کے زمانے میں بھی وہاں قبر کی نسبت معروف تھی، اور بعد میں ابن جبیر اور ابن بطوطہ نے اسے درج کیا۔ چونکہ وفات کی روایات مختلف ہیں، داریا کی تاریخی اہمیت ایک طویل عرصے سے قائم منسوب یادگار اور تدفینی روایت کے طور پر ہے، نہ کہ بلااختلاف ثابت شدہ قطعی قبر کے طور پر۔
خاندانی روابط
ماخذ
صحیح مسلم | مسلم بن الحجاج | حدیث ۱۰۴۳، کتاب الزکوٰۃ | https://sunnah.com/muslim:1043 | ابو مسلم کے ذریعے عوف بن مالک تک متصل حدیثی سند؛ ابتدائی راوی کی مضبوط تاریخی بنیادجامع ترمذی | محمد بن عیسیٰ الترمذی | حدیث ۲۳۹۰، ابواب الزہد | https://sunnah.com/tirmidhi:2390 | ابو مسلم معاذ بن جبل سے روایت کرتے ہیں؛ ترمذی روایت کو حسن صحیح کہتے اور ابو مسلم کا نام صراحت سے عبد اللہ بن ثوب بتاتے ہیں
مجموعۂ رواۃِ حدیث و رجال | سنن ڈاٹ کام کا سوانحی اشاریہ، تہذیب الکمال اور اہلِ رجال پر مبنی | راوی ۴۷۵۳ | https://sunnah.com/narrator/4753 | نام کی مختلف صورتیں، ثقاہت کے احکام، اساتذہ و تلامذہ، داریا/یمن/شام میں قیام، اور صحیح مسلم میں روایت
تہذیب الکمال فی اسماء الرجال | یوسف المزی | جلد ۳۴، صفحہ ۲۹۱، ترجمہ ۷۶۲۷ | https://islamweb.net/ar/library/content/1001/9592/ | رجال کی بنیادی سوانح: نام کی مختلف صورتیں، دمشق کے قریب داریا میں سکونت، اساتذہ اور تلامذہ
سیر اعلام النبلاء | شمس الدین الذہبی | جلد ۴، صفحہ ۸ سے آگے | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/444/ | بنیادی سوانح، یمنی اصل، مدینہ آمد، زاہدانہ مقام، آگ کی روایت پر صریح مرسل سند کی احتیاط، وفات کے اختلافات اور داریا کی قبر کی نسبت
آگ والی روایت کی حدیثی درجہ بندی | الذہبی، الدرر السنیۃ کے اشاریے میں | سیر ۴/۸ | https://dorar.net/h/PDlEglPq | صراحت کہ شرحبیل کے بنیادی طریق کی روایت مرسل ہے؛ روایت کو لالکائی، ابن عبد البر اور ابن عساکر تک نسبت دی گئی ہے
حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء | ابو نعیم الاصفہانی | جلد ۵، صفحہ ۱۲۰، ترجمۂ ابو مسلم | https://www.islamweb.net/ar/library/content/131/1147/ | ابتدائی زاہدانہ سوانح، عبد اللہ بن ثوب کے طور پر شناخت، شام کی طرف ہجرت، مشہور آگ کی روایت
حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء | ابو نعیم الاصفہانی | ابو مسلم کے کرامات کا حصہ | https://www.islamweb.net/ar/library/content/131/543/ | آگ کے واقعے اور عمر کی ملاقات کی مفصل کلاسیکی روایت؛ مناقبی و سوانحی درجۂ ماخذ
حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء | ابو نعیم الاصفہانی | جلد ۲، صفحات ۱۲۳–۱۲۴، اقوال و زہد | https://www.islamweb.net/ar/library/content/131/539/ | عبادت، زہد، اخلاقی اقوال اور شام کے ابتدائی زاہدوں میں شہرت
تاریخ دمشق | ابن عساکر | جلد ۲۷، سوانحِ ابو مسلم خولانی، مذکورہ نسخے میں تقریباً صفحات ۱۹۱–۲۰۴ | https://scribetools.com/en/library/sira-history/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%8A%D8%AE-%D8%AF%D9%85%D8%B4%D9%82/27-264b8ba7/text/0011 | ابو مسلم پر دمشق کے ماخذ کا وسیع مجموعہ، شامی یادداشت اور منقول روایات
تاریخ دمشق | ابن عساکر | ام مسلم الخولانی کا ترجمہ، دکھایا گیا صفحہ ۲۶۵ | https://books.rafed.net/view/2571/page/265 | ام مسلم کو صراحت سے ابو مسلم کی زوجہ بتاتا اور بعد میں عمرو بن عبد الخولانی سے ان کے نکاح کا ذکر کرتا ہے
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ | ابن الاثیر | ابو مسلم خولانی کا ترجمہ، راوی کے اشاریے میں منقول | https://sunnah.com/narrator/4753 | انہیں بڑے تابعی، داریا کے باشندے اور سرحدی مہم میں شریک کے طور پر شناخت کرتا اور بازنطینی علاقے میں وفات کی روایت محفوظ کرتا ہے
رحلۃ ابن جبیر / تذکرۃ بالاخبار عن اتفاقات الاسفار | ابن جبیر | مذکورہ نسخے میں صفحہ ۲۲۰ | https://ablibrary.net/book_content/b/9840/220 | قرونِ وسطیٰ کے سفری جغرافیے میں داریا میں ابو مسلم کی قبر اور اس پر گنبد کا ذکر
رحلۃ ابن بطوطہ | ابن بطوطہ | دمشق کی زیارات کا حصہ؛ صفحات نسخوں کے لحاظ سے مختلف | https://arabic-keyboard.info/books/ar/read-book/%D8%B1%D8%AD%D9%84%D8%A9-%D8%A7%D8%A8%D9%86-%D8%A8%D8%B7%D9%88%D8%B7%D8%A9-%D8%B7-%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%B4%D8%B1%D9%82-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B1%D8%A8%D9%8A | بعد کی آزاد سفری روایت جس میں دمشق کے مغرب میں داریا کو ابو مسلم کی قبر کا مقام بتایا گیا ہے
داریا کے ورثے کے آثار | داریا کا مقامی ورثہ ماخذ | موجودہ آثار کا صفحہ | https://daraya-sy.com/monuments/ | ابو مسلم خولانی کے نام والی مسجد میں ان کے مقام کی موجودہ مقامی شناخت
داریا کی عبادت گاہیں اور مزارات | داریا کا مقامی ورثہ حوالہ | موجودہ صفحہ | https://darayya.info/%D8%AF%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%A9-%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A3%D8%B6%D8%B1%D8%AD%D8%A9/ | موجودہ مقام کی جگہ اور یہ صریح نوٹ کہ مختلف روایاتِ وفات کی وجہ سے نسبت محلِ بحث ہے
تصویری گیلری
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔