حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

PER-000402 صحابی / صحابیہ مصدقہ مخصوص مقام معلوم مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
حضرت عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف القرشی الاموی رضی اللہ عنہ سابقینِ اسلام میں سے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مرتبہ داماد بنے، ذوالنورین کے لقب سے مشہور ہوئے اور تیسرے خلیفۂ راشد تھے۔ وہ قریش کے معزز خاندان بنو امیہ میں غالباً عامِ فیل کے تقریباً چھ برس بعد پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی صحبت، ہجرت، اجتماعی خیرات، حکمرانی اور قرآنِ مجید کے مکتوب متن کی خدمت کو یکجا کرتی ہے۔ ۳۵ھ میں مدینہ منورہ میں شہادت کے بعد قدیم روایات ان کی تدفین حشِ کوکب میں بتاتی ہیں، جو اس وقت بقیع الغرقد کے مشرق میں متصل باغ تھا اور بعد میں قبرستان میں شامل ہوگیا۔ موجودہ وسیع بقیع میں ایک الگ نمایاں قبر مسلسل تاریخی اور زیارتی شناخت کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی قبر کے طور پر معروف ہے، اور درج نقشہ اسی موجودہ معروف مقام کی رہنمائی کرتا ہے۔
ولادت

کلاسیکی سوانح کے مطابق حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ کے معزز بنو امیہ گھرانے میں عام الفیل کے تقریباً چھ برس بعد ہوئی۔ یہ زمانی تعیین تقریبی سوانحی روایت ہے۔

وفات

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مدینہ میں ذوالحجہ 35 ہجری کے ایک جمعہ کو شہید ہوئے۔ زیادہ مشہور روایت مہینے کی اٹھارہ تاریخ بتاتی ہے، اگرچہ چند روایات مختلف ہیں۔ عمر کے بارے میں بھی کلاسیکی مآخذ میں مختلف اقوال ملتے ہیں۔

مدفن یا منسوب مقام

قدیم تدفینی روایات بیان کرتی ہیں کہ چند افراد رات کے وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا جسد مبارک لے گئے اور اس وقت بقیع الغرقد کے معروف حصے میں تدفین کی راہ روکے جانے کے بعد انہیں مشرقی جانب واقع حشِ کوکب میں دفن کیا۔ نمازِ جنازہ پڑھانے والے اور حاضرین کی تعداد کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ سمہودی نے مدینہ کی قدیم روایات نقل کرتے ہوئے حشِ کوکب کو بقیع سے متصل باغ بتایا ہے، اور عہدِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں بنو امیہ نے درمیانی حد ختم کرکے اسے بقیع میں شامل کردیا۔ بعد کی توسیعات کے باعث یہ جگہ قبرستان کے اندر آگئی، جبکہ آج وہاں ایک نسبتاً الگ اور نمایاں قبر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مدفن کے طور پر معروف اور زائرین کے لیے نشان زد ہے۔ درج مختصات اسی موجودہ معروف قبر کی زیارتی و نقشہ جاتی جگہ دکھاتے ہیں؛ یہ شناخت مضبوط تاریخی جغرافیہ اور مسلسل معروف نشان دہی پر قائم ہے، جدید آثارِ قدیمہ کی الگ کھدائی کے دعوے پر نہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف القرشی الاموی رضی اللہ عنہ سابقینِ اسلام میں سے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مرتبہ داماد بنے، ذوالنورین کے لقب سے مشہور ہوئے اور تیسرے خلیفۂ راشد تھے۔ وہ قریش کے معزز خاندان بنو امیہ میں غالباً عامِ فیل کے تقریباً چھ برس بعد پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی صحبت، ہجرت، اجتماعی خیرات، حکمرانی اور قرآنِ مجید کے مکتوب متن کی خدمت کو یکجا کرتی ہے۔ ۳۵ھ میں مدینہ منورہ میں شہادت کے بعد قدیم روایات ان کی تدفین حشِ کوکب میں بتاتی ہیں، جو اس وقت بقیع الغرقد کے مشرق میں متصل باغ تھا اور بعد میں قبرستان میں شامل ہوگیا۔ موجودہ وسیع بقیع میں ایک الگ نمایاں قبر مسلسل تاریخی اور زیارتی شناخت کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی قبر کے طور پر معروف ہے، اور درج نقشہ اسی موجودہ معروف مقام کی رہنمائی کرتا ہے۔

ان کے والد عفان بن ابی العاص اور والدہ ارویٰ بنت کریز تھیں۔ ارویٰ کی والدہ ام حکیم البیضاء بنت عبدالمطلب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں، اس لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نانی کی طرف سے وسیع ہاشمی قرابت سے بھی منسلک تھے۔ ابن حجر نے الاصابہ میں ان کا نسب، مشہور کنیتیں ابو عبداللہ اور ابو عمرو، اور ابتدائی مسلمانوں میں مقام بیان کیا ہے۔ کتبِ تراجم انہیں خوش حال تاجر، قریش میں معزز، خوش اخلاق اور انساب سے واقف بتاتی ہیں۔ ابن اسحاق کی روایت انہیں ان لوگوں میں شمار کرتی ہے جنہیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلام کی دعوت دی؛ انہوں نے مکی دور کے آغاز میں خاندانی اور معاشرتی دباؤ کے باوجود اسلام قبول کیا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ ظلم بڑھا تو دونوں حبشہ ہجرت کرگئے، اور قدیم کتب انہیں دو ہجرتیں کرنے والوں میں شمار کرتی ہیں: پہلے حبشہ، پھر مدینہ منورہ۔ ان کے بیٹے عبداللہ بچپن میں وفات پاگئے۔ حضرت رقیہ کے ساتھ سفر نے ان کے گھرانے کو ابتدائی مسلم جلاوطنی اور حبشہ کے عیسائی بادشاہ کی پناہ کے تجربے سے جوڑا۔ بدر کے وقت حضرت رقیہ شدید بیمار تھیں؛ صحیح بخاری کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کو تیمارداری کے لیے رہنے کا حکم دیا اور بدر کے شریک کا اجر و حصہ عطا کیا۔ ان کی وفات کے بعد آپ نے حضرت ام کلثوم سے نکاح کرایا، جس سے لقب ذوالنورین مشہور ہوا۔

صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی تین واقعات سے متعلق وضاحت محفوظ ہے جنہیں بعد میں سیاسی بحث میں استعمال کیا گیا۔ احد کے اضطراب میں پیچھے ہٹنا ان لوگوں کے قرآنی عفو میں شامل تھا جنہیں اس دن معاف کیا گیا۔ بدر سے غیر حاضری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کی خدمت اور آپ کے حکم کی تعمیل تھی۔ بیعتِ رضوان کی مجلس میں جسمانی عدم موجودگی اس لیے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مکہ کا سفیر بنایا تھا؛ قتل کی افواہ کے بعد بیعت ہوئی تو آپ نے ایک ہاتھ دوسرے پر رکھ کر ان کی طرف سے بیعت فرمائی۔ سورۂ فتح کی آیت 18 اہلِ بیعت کی مدح کرتی ہے اور حدیث بتاتی ہے کہ حضرت عثمان اس میں کس طرح نمائندگی پاتے تھے۔

ان کی مشہور مالی خدمات پوری جماعت کی مشترک ضروریات کے لیے تھیں۔ مسند احمد اور جامع ترمذی کی روایات بئرِ رومہ کو مسلمانوں کے لیے عام کرنے، مسجدِ نبوی کی توسیع کے لیے زمین خریدنے اور تبوک کے جیش العسرہ کو سازوسامان دینے کو ان سے جوڑتی ہیں۔ بعد کی روایات میں رقمیں مختلف ہیں، اس لیے مضبوط حقیقت خود عمل ہے: پانی، عبادت کی جگہ اور لشکری تیاری ان کی ذاتی ملکیت سے مہیا ہوئی۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے آنے پر لباس درست کیا اور فرمایا کہ فرشتے بھی ان سے حیا کرتے ہیں۔ صحیح بخاری میں جنت کی بشارت کے ساتھ آنے والی سخت آزمائش بھی محفوظ ہے.

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے حدیث روایت کی۔ ان سے ان کے بیٹوں ابان، سعید اور عمرو، آزاد کردہ غلام حمران، اور متعدد صحابہ و تابعین نے روایت کی۔ قدیم سوانح نگار انہیں قرآن کی محتاط تلاوت، حیا، سخاوت اور نرمی سے وابستہ کرتے ہیں، اگرچہ ہر انفرادی زاہدانہ حکایت یکساں مضبوط نہیں۔ ان کے معروف نکاح حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم، فاختہ بنت غزوان، ام عمرو بنت جندب، فاطمہ بنت ولید، ام البنین بنت عیینہ، رملہ بنت شیبہ اور نائلہ بنت فرافصہ سے تھے۔ نسبی مصادر حضرت رقیہ سے عبداللہ اکبر، فاختہ سے عبداللہ اصغر، ام عمرو بنت جندب سے عمرو، خالد، ابان، عمر اور مریم، فاطمہ بنت ولید سے ولید، سعید اور ام سعید، ام البنین سے عبدالملک، اور رملہ سے عائشہ، ام ابان اور ام عمرو کا ذکر کرتے ہیں؛ نائلہ کی اولاد میں مریم یا عنبسہ اور بعض دوسری نسبتوں میں اختلاف ہے، اس لیے کل تعداد کو قطعی متفقہ عدد نہ بنایا جائے.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ادوار میں خدمت کی۔ حضرت عمر کے شدید زخمی ہونے پر چھ بزرگ صحابہ کی شوریٰ مقرر ہوئی۔ ابتدائی تاریخیں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وسیع مشاورت اور پھر حضرت عثمان کے ہاتھ پر بیعت پیش کرنے کا ذکر کرتی ہیں۔ عمومی بیعت 23 ہجری کے آخر یا 24 ہجری کے آغاز میں ہوئی۔ انہیں ایک تیزی سے پھیلتی ریاست ملی جس کے لشکروں، صوبوں، محاصل اور نئی آبادیوں نے ابتدائی مدنی دور سے کہیں بڑے فیصلے طلب کیے۔ اس لیے ان کی تقریباً بارہ سالہ خلافت کو محض شخصی تقرریوں نہیں بلکہ بڑے ادارہ جاتی انتقال کے زمانے کے طور پر پڑھنا چاہیے۔

ان کی خلافت میں ایران، آرمینیہ، آذربائیجان اور سرحدی علاقوں میں مہمات جاری رہیں، جبکہ مغرب میں شمالی افریقہ تک مسلم اقتدار بڑھا۔ مرکزی اجازت سے احتیاط کے ساتھ شروع ہونے والی بحری کارروائیاں قبرص پہنچیں اور بازنطینی بیڑے کے ساتھ بڑے تصادم تک گئیں جسے عموماً جنگِ ذات الصواری سے جوڑا جاتا ہے۔ بلاذری، طبری اور بعد کے مؤرخین بعض تاریخوں اور اسناد میں مختلف ہیں، مگر مجموعی تبدیلی واضح ہے: خلافت فوجی شہروں، گورنروں، مالی نظاموں اور بحری راستوں سے جڑی کثیر علاقائی ریاست بن گئی۔ فتوحات دولت، تحفظ اور نئی جماعتیں لائیں، مگر انتظامی فاصلہ، عہدوں کی رقابت اور محاصل کے تنازعات بھی بڑھے؛ یہی دباؤ بعد کے بحران کے ماحول کا حصہ تھے۔

ان کا سب سے پائیدار ادارہ جاتی کارنامہ قرآنِ مجید کے معیاری مصاحف کی تیاری اور ترسیل ہے۔ صحیح بخاری کے مطابق آرمینیہ اور آذربائیجان کی مہمات میں شام و عراق کے لشکروں کے قراءتی اختلاف سے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ پریشان ہوئے اور خلیفہ سے اقدام چاہا۔ حضرت عثمان نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ سابقہ صحیفے منگوائے اور حضرت زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث کو مستند نسخے تیار کرنے پر مامور کیا۔ اختلافِ کتابت میں قریش کی زبان اختیار کرنے کی ہدایت دی، صحیفے واپس کیے، بڑے علاقوں میں مصاحف بھیجے اور عوامی نزاع قائم رکھنے والے مقابل نجی مواد کو ہٹایا۔ یہ مکتوب عوامی نمونے کی توحید تھی، نیا قرآن بنانا نہیں۔

خلافت کے آخری برس گورنروں، اقتدار تک رسائی، وسائل کی تقسیم اور رشتہ داروں و صوبائی اشراف کے اثر سے متعلق شکایات سے بھر گئے۔ منقول الزامات اور دفاع یکساں نہیں: بعض قدیم مگر فریقانہ، بعض کمزور اسناد والے، اور بعد کی سنی و امامی تاریخوں میں مختلف ترتیب کے ہیں۔ محتاط تاریخ ثابت پالیسیوں کو خانہ جنگی کے نعروں سے الگ کرتی ہے۔ مصر، کوفہ اور بصرہ سے وفود آئے؛ مذاکرات بدگمانی سے ٹوٹتے رہے؛ اور بحران مدینہ میں حضرت عثمان کے گھر کے محاصرے میں بدل گیا۔ متعدد تاریخی روایات کے مطابق انہوں نے شہر کو میدانِ جنگ بنانے والی تجاویز قبول نہ کیں اور حامیوں کو اپنی خاطر لڑنے سے روکا؛ یہ فیصلہ اخلاقی تحمل اور بغاوت پر قابو پانے کی دردناک عملی حد دونوں کے طور پر یاد کیا جاتا ہے.

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں ۳۵ھ کے ذی الحجہ کے ایک جمعہ کو شہید ہوئے؛ مشہور تاریخ ۱۸ ذی الحجہ ہے، اگرچہ چند روایات مختلف ہیں۔ ان کی عمر کے بیشتر اقوال اسی سے زائد برس بتاتے ہیں، لیکن مآخذ میں اعداد یکساں نہیں۔ مشہور روایت کے مطابق محاصرہ کرنے والے حملہ آور گھر میں داخل ہوئے اور قرآنِ مجید کی تلاوت کے دوران انہیں شہید کردیا؛ ان کی زوجہ نائلہ رضی اللہ عنہا دفاع کرتے ہوئے زخمی ہوئیں۔ اصل حملہ آوروں کی تعیین میں شدید اختلاف ہے، اس لیے متنازع ناموں کو قطعی نہیں کہا گیا۔ ان کی شہادت نسبتاً مستحکم فتوحات و توسیع کے دور اور فتنے کے بڑے سیاسی بحران کے درمیان فیصلہ کن موڑ بن گئی۔

قدیم تدفینی روایات بیان کرتی ہیں کہ چند افراد رات کے وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا جسد مبارک لے گئے اور اس وقت بقیع الغرقد کے معروف حصے میں تدفین کی راہ روکے جانے کے بعد انہیں مشرقی جانب واقع حشِ کوکب میں دفن کیا۔ نمازِ جنازہ پڑھانے والے اور حاضرین کی تعداد کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ سمہودی نے مدینہ کی قدیم روایات نقل کرتے ہوئے حشِ کوکب کو بقیع سے متصل باغ بتایا ہے، اور عہدِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں بنو امیہ نے درمیانی حد ختم کرکے اسے بقیع میں شامل کردیا۔ بعد کی توسیعات کے باعث یہ جگہ قبرستان کے اندر آگئی، جبکہ آج وہاں ایک نسبتاً الگ اور نمایاں قبر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مدفن کے طور پر معروف اور زائرین کے لیے نشان زد ہے۔ درج مختصات اسی موجودہ معروف قبر کی زیارتی و نقشہ جاتی جگہ دکھاتے ہیں؛ یہ شناخت مضبوط تاریخی جغرافیہ اور مسلسل معروف نشان دہی پر قائم ہے، جدید آثارِ قدیمہ کی الگ کھدائی کے دعوے پر نہیں۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

عہدِ نبوی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہمیت ایسی خصوصیات کے اجتماع سے بنتی ہے جو ایک شخص میں کم ملتی ہیں: ابتدائی اسلام، دو ہجرتیں، گھرانۂ نبوت سے نکاح، حدیبیہ میں سفارتی اعتماد اور بڑے پیمانے کی اجتماعی خیرات۔ بدر اور بیعتِ رضوان کی بخاری روایات دکھاتی ہیں کہ کسی مشہور موقع پر ظاہری عدم موجودگی کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی براہِ راست اطاعت ہوسکتی ہے۔ ان کی زندگی خبردار کرتی ہے کہ تاریخی خدمت کو محض حاضری کی فہرست سے نہ جانچا جائے بلکہ سبب، تفویضِ کار اور محفوظ شہادت دیکھی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے ان کی پے در پے شادیوں نے غم، اعتماد اور اجتماعی ذمہ داری کے مختلف ادوار میں انہیں گھرانۂ نبوت کے اندر بھی ایک منفرد مقام دیا۔

ان کی سب سے بڑی علمی و تمدنی میراث مصاحفِ عثمانی کا منصوبہ ہے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے محفوظ سابقہ مجموعے، حضرت زید بن ثابت سمیت مجلس کی تقرری اور بڑے علاقوں میں عوامی نسخوں کی ترسیل کے ذریعے انہوں نے فتوحات اور قراءتی عادات کے فرق سے پیدا ہونے والے حقیقی خطرے کا حل پیش کیا۔ اس عمل نے بڑے علاقوں کے لیے قرآنِ مجید کے مکتوب متن کا مشترک عوامی مرجع قائم کیا۔ مسلم مخطوطاتی ثقافت، تعلیمِ قرآن اور عربی رسم الخط کی بصری تاریخ اس فیصلے سے گہرا تعلق رکھتی ہے، اس لیے ان کی خلافت تاریخِ قرآن میں مستقل اہمیت رکھتی ہے۔ کمیٹی کا مستند ذخیرہ منگوانا، اہل کاتبوں سے اجتماعی کام لینا، لسانی صورت کے اختلاف کا اصول مقرر کرنا اور مرجعی نسخے بھیجنا ابتدائی اجتماعی علمی عمل کی نمایاں مثال ہے.

بحیثیت خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے محدود فتوحات والی ریاست سے وسیع اور متنوع سلطنت تک انتقال کی قیادت کی۔ آرمینیہ، آذربائیجان، ایران، شمالی افریقہ اور بحیرۂ روم کی مہمات اور مسلم بحری قوت کے آغاز نے خطے کی تزویراتی جغرافیہ بدل دی۔ کامیابیوں کے ساتھ دولت، امن اور نئی جماعتیں آئیں، مگر انتظامی فاصلے، عہدوں کی رقابت اور محاصل کے اختلاف بھی بڑھے۔ ان کا عہد تیز ادارہ جاتی نمو کی قوت اور اس کے دباؤ دونوں کو نمایاں کرتا ہے۔ بحری قوت کی طرف پیش رفت خاص طور پر دور رس تھی، کیونکہ اس نے مسلم حکمتِ عملی کو بری سرحدوں سے آگے بڑھایا اور نئی قیادت، رسد اور صوبائی تعاون کا تقاضا پیدا کیا۔

ان کی حکومت ختم کرنے والے تنازع نے مشروع حکومت، بغاوت، اجتماعی نظم اور سیاسی اختلاف کی اخلاقیات پر بعد کی مسلم بحثوں کو گہرا متاثر کیا۔ منابع کو زمانی اور مسلکی احتیاط سے پڑھنا لازم ہے، کیونکہ بعد کے فریقوں نے اپنے مؤقف کے لیے روایات منتخب کیں۔ مضبوط حقیقت یہ ہے کہ شکایات منظم بغاوت بنیں، مدینہ کا محاصرہ ہوا اور عمر رسیدہ خلیفہ کے قتل نے پہلی خانہ جنگی کا دروازہ کھولا۔ شہرِ نبوی میں وسیع جنگ نہ چھیڑنے کا ان کا فیصلہ شدید دباؤ میں تحمل کی مرکزی، اگرچہ محلِ بحث، مثال ہے۔ یہ واقعہ مؤرخین کے لیے مستقل آزمائش بھی بن گیا: اخلاقی فیصلہ تنقیدِ ماخذ کی جگہ نہیں لے سکتا، اور تنقیدِ ماخذ سیاسی تشدد کی انسانی و دینی سنگینی کو مٹا نہیں سکتی۔

تدفین کی روایت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی یاد کو ایک واضح جغرافیہ دیتی ہے۔ حشِ کوکب قدیم بقیع الغَرقد کے مشرق میں متصل تھا اور عہدِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں قبرستان میں شامل ہوا؛ اس لیے آج بقیع کے اندر دکھائی جانے والی الگ نمایاں قبر مضبوط تاریخی تدفینی روایت اور مسلسل مقامی شناخت سے ہم آہنگ ہے۔ موجودہ نقاط اسی معروف قبر تک زائرین کی رہنمائی کرتے ہیں، جبکہ علمی احتیاط یہ فرق برقرار رکھتی ہے کہ موجودہ نشان دہی تاریخی جغرافیہ اور مسلسل زیارتی شناخت ہے، جدید آثارِ قدیمہ کی علیحدہ کھدائی نہیں۔ ان کی میراث حیا، فیاض وقف، قرآن کے تحفظ، وسیع ریاستی نظم اور داخلی اختلاف کے المیے کو جوڑتی ہے؛ ذمہ دارانہ یاد مضبوط شہادت محفوظ رکھتی، اختلاف دیانت سے واضح کرتی اور کامیابی و بحران دونوں سے سبق لیتی ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Ismail al-Bukhari | Hadiths 3130, 3695, 3698 and 4987
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 2401
Musnad Ahmad ibn Hanbal | Ahmad ibn Hanbal | Musnad Uthman, hadiths 420 and 555
Jami al-Tirmidhi | Muhammad ibn Isa al-Tirmidhi | Hadiths 3700–3703
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Sections on the killing and burial of Uthman; onli
Al-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba | Ahmad ibn Ali Ibn Hajar al-Asqalani | Biographical entry of Uthman ibn Affan; pagination
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Biographical entry of Dhu al-Nurayn; pagination va
Tarikh al-Madina | Umar ibn Shabba al-Numayri | Reports on the night burial at Hush Kawkab; pagina
Wafa al-Wafa bi Akhbar Dar al-Mustafa | Nur al-Din al-Samhudi | Vol. 3, section 'Grave of the Commander of the Bel
Ma'rifat al-Sahaba | Abu Nu'aym al-Isfahani | Biography, death, burial and children sections; on
Futuh al-Buldan | Ahmad ibn Yahya al-Baladhuri | Relevant conquest chapters for Armenia, North Afri
Tarikh al-Tabari | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Events of 23–35 AH and the crisis of Uthman's cali
Additional donor web reference (unpaired) | https://sunnah.com/bukhari/66/9
Additional donor web reference (unpaired) | https://visitmadinahsa.com/sa-ar/destinations/%D8%A8%D9%82%D9%8A%D8%B9-%D8%A7%D9%84%D8%BA%D8%B1%D9%82%D8%AF

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔