ابو محمد بہاء الدین زکریا ملتانی سہروردی رحمہ اللہ

نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
ٹی ڈی وی کی علمی سوانح ان کی شناخت ابو محمد بہاء الدین زکریا بن وجیہ الدین بن کمال الدین الملتانی کے طور پر کرتی ہے؛ اس لیے وجیہ الدین کو ان کے والد کے طور پر محفوظ رکھا گیا ہے اور کوئی فرضی مستقل شخصی کوڈ نہیں بنایا گیا۔ بعد کی روایات قریشی/ہاشمی نسب بیان کرتی ہیں، مگر یہاں کسی بنیادی نسبی دستاویز سے اسے آزادانہ طور پر ثابت نہیں کیا گیا، اس لیے یہ ایک منقول نسبی روایت ہی ہے۔ ٹی ڈی وی صدر الدین کو سات بیٹوں میں نمایاں جانشین بتاتی ہے اور فخر الدین عراقی کی زکریا کی ایک بیٹی سے شادی درج کرتی ہے؛ بچوں کی نامکمل معلومات کو غلط طور پر مکمل ساختی فہرست میں تبدیل نہیں کیا گیا۔
PER-000925 صوفی عالم مصدقہ مقامِ تدفین نامعلوم سنی ماخذی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
ابو محمد بہاء الدین زکریا ملتانی سہروردی رحمہ اللہ تیرہویں صدی کے ممتاز صوفی عالم اور سلسلۂ سہروردیہ کے ان اہم شیوخ میں تھے جنہوں نے ملتان کو جنوبی ایشیا میں اس سلسلے کا بڑا علمی و روحانی مرکز بنایا۔ معتبر سوانحی مآخذ ان کی پیدائش کو کوٹ کرور کے ساتھ جوڑتے ہیں اور سالِ پیدائش کے متعدد اقوال محفوظ کرتے ہیں۔ بغداد میں شیخ شہاب الدین عمر سہروردی سے ان کی نسبت، ملتان میں خانقاہی مرکز، شاگردوں اور جانشینوں کا وسیع حلقہ، اور شہر کے قدیم قلعے میں موجود معروف مزار ان کی تاریخی شناخت کے بنیادی اجزا ہیں۔
ولادت

ان کی پیدائش کوٹ کرور، ملتان کے قریب ہوئی۔ سالِ پیدائش قطعی نہیں: معتبر سوانحی روایت 565، 566 اور 578 ہجری کے اقوال محفوظ کرتی ہے، جبکہ پنجاب اوقاف کی موجودہ عوامی معلومات تقریباً 1170 عیسوی بتاتی ہیں۔ اس لیے کسی ایک سال کو بلا اختلاف قطعی نہیں بنایا گیا۔

وفات

وفات کی تاریخ میں بھی اختلاف محفوظ ہے۔ ٹی ڈی وی اسلام انسائیکلوپیڈیسی 7 صفر کو وفات بتاتے ہوئے 661 ہجری/1262 عیسوی اور 666 ہجری/1267 عیسوی کے دونوں اقوال نقل کرتی ہے، پاکستان کے آثارِ قدیمہ کا سرکاری ریکارڈ 1170–1262 عیسوی لکھتا ہے، جبکہ پنجاب اوقاف کی موجودہ عوامی صفحہ 1268 عیسوی دیتا ہے۔ اس اختلاف کو ختم کرنے کے بجائے واضح طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔

مدفن یا منسوب مقام

پاکستان کے محکمۂ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کا سرکاری محفوظ یادگار ریکارڈ ملتان کے قدیم قلعے کے شمال مشرقی حصے میں موجود اس عمارت کو بہاء الدین زکریا کا مقبرہ قرار دیتا ہے اور صراحت کرتا ہے کہ یہاں ان کے جسدِ خاکی مدفون ہیں۔ یہی مزار پنجاب اوقاف کے زیرِ انتظام معروف زیارت گاہ ہے۔ سرکاری نقشہ جاتی مقام donor کے محفوظ مقام سے عین مطابق پایا گیا، اس لیے مقام کو verified_shrine رکھا گیا ہے۔

سوانح و تاریخی تعارف

ابو محمد بہاء الدین زکریا ملتانی سہروردی رحمہ اللہ، جو بہاء الحق اور شیخ الاسلام کے القاب سے بھی یاد کیے جاتے ہیں، تیرہویں صدی کے جنوبی ایشیا کے سب سے بااثر صوفی علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی علمی و روحانی زندگی نے ملتان کو سلسلۂ سہروردیہ کا ایک بڑا مرکز بنا دیا جو مشرقی اسلامی دنیا کو برصغیر سے جوڑتا تھا۔ ان کی ولادت کے عین سال میں اختلاف ہے: معتبر سوانحی روایت 565، 566 اور 578 ہجری کے اقوال محفوظ کرتی ہے، جبکہ جدید خلاصے عموماً پیدائش کو بارہویں صدی کے اواخر میں کوٹ کرور، ملتان کے قریب، رکھتے ہیں۔ اس اختلاف کی وجہ سے کسی ایک سال کو قطعی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔

ان کی ابتدائی تعلیم قرآن، فقہ اور منقول دینی علوم پر مشتمل تھی۔ بعد کی سوانح کے مطابق کئی سال تعلیم کے بعد وہ مزید علم کے لیے خراسان اور بخارا گئے اور پھر حجاز میں ایک طویل عرصہ گزارا۔ مدینہ میں ان کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے کمال الدین محمد یمنی سے اجازت حاصل کی۔ ان سفرہائے علم نے انہیں پنجاب، وسطی ایشیا، حجاز اور عراق کو ملانے والی وسیع علمی دنیا کا حصہ بنا دیا۔ فقہی لحاظ سے ان کی شناخت حنفی تھی، اور بعد کے مآخذ ان کے تصوف کو باقاعدہ دینی علم اور فقہی تربیت کے ساتھ مربوط دکھاتے ہیں۔

ان کی روحانی تشکیل کا فیصلہ کن مرحلہ بغداد میں آیا، جہاں وہ عوارف المعارف کے مصنف شہاب الدین ابو حفص عمر سہروردی کی خانقاہ میں داخل ہوئے۔ بعد کی تراجم میں آتا ہے کہ بہاء الدین نے غیر معمولی طور پر مختصر مدت میں سلوک کی منزلیں طے کیں اور سہروردی طریقے کی نمائندگی کی اجازت حاصل کی۔ عوارف المعارف کی ابتدائی ترسیل پر جدید علمی تحقیق بھی اجازت، سماع اور علمی سلسلوں کی باقاعدہ اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اس لیے ان کی مشرق کی طرف واپسی صرف ایک روحانی نسبت کی واپسی نہیں تھی بلکہ سہروردی تصوف کے منظم ادارتی اور علمی نمونے کی منتقلی بھی تھی۔

ملتان واپس آ کر بہاء الدین نے ایک مضبوط خانقاہ اور تدریسی مرکز قائم کیا۔ بعد کی روایت میں ایک مشہور واقعہ ملتا ہے کہ مقامی علماء نے یہ اشارہ دینے کے لیے کہ ملتان پہلے ہی اہلِ علم سے بھرا ہوا ہے، دودھ سے بھرا ہوا پیالہ ان کے پاس بھیجا؛ انہوں نے اس پر ایک پھول رکھ کر واپس کر دیا، گویا یہ بتانا چاہتے ہوں کہ کسی کو ہٹائے بغیر ایک نئی خوشبو شامل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ اس قصے میں ادبی رنگ موجود ہے، لیکن یہ اس تاریخی حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے کہ انہوں نے پہلے سے فعال علمی شہر میں ایک مستقل نیا مرکز قائم کیا۔

ان کا روحانی منہج اپنے زمانے کی چشتی روایت سے بعض نمایاں پہلوؤں میں مختلف تھا۔ بعد کی سوانح کے مطابق وہ انتہائی فقر و ریاضت کو ضروری نہیں سمجھتے تھے، مالی وسائل اور ادارتی طاقت کو قبول کرتے تھے اور سماع کے بارے میں محتاط تھے۔ ان کی خانقاہ کے ذخائر اور معاشی قوت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس طرز پر بعض زاہد معاصرین نے تنقید کی، لیکن بہاء الدین کے قطب الدین بختیار کاکی اور بابا فرید جیسے بڑے چشتی مشائخ سے دوستانہ تعلقات بھی تھے۔ اس لیے فرق کو دو سلسلوں کی دشمنی کے بجائے صوفی ادارے، دولت اور سیاسی اقتدار سے تعلق کے مختلف نمونوں کے طور پر سمجھنا چاہیے۔

حکمرانوں کے ساتھ بہاء الدین کا تعلق تاریخی طور پر بہت اہم ثابت ہوا۔ انہوں نے دہلی سلطنت کی اس کوشش میں التمش کی حمایت کی جس کا مقصد ناصر الدین قباجہ سے ملتان و سندھ کو سلطنت میں شامل کرنا تھا۔ بعد کی تحقیق میں ایک روایت محفوظ ہے کہ بہاء الدین کا التمش کے نام خط قباجہ کے ہاتھ لگا، لیکن وہ انہیں سزا دینے کی ہمت نہ کر سکا۔ 1228 میں التمش کے ملتان پر قبضے کے بعد بہاء الدین کی حیثیت مزید مضبوط ہوئی اور بعد کی روایت انہیں شیخ الاسلام کے منصب سے جوڑتی ہے۔ یہ سیاسی تعامل ان صوفی نمونوں سے نمایاں فرق رکھتا ہے جو حکمرانوں سے زیادہ دوری کو ترجیح دیتے تھے۔

ان کا سیاسی اثر صرف اعزازی نہیں تھا۔ ٹی ڈی وی کے علمی خلاصے میں ایک روایت محفوظ ہے کہ 1247 میں منگولوں کے ملتان کے محاصرے کے دوران بہاء الدین نے منگول لشکر میں موجود ملک شمس الدین کے ذریعے مداخلت کی اور محاصرہ اٹھوانے میں کردار ادا کیا۔ اگرچہ واقعے کی ہر جزئیات کو آج الگ سے دوبارہ بنانا آسان نہیں، لیکن یہ روایت اس سیاسی وزن کی عکاسی کرتی ہے جو ملتان کی سہروردی خانقاہ سے وابستہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کی شخصیت روحانی، تعلیمی، تجارتی اور سیاسی حلقوں میں بیک وقت اثر رکھتی تھی۔

ان کا تدریسی و روحانی سلسلہ ملتان سے بہت آگے پھیلا۔ ان کے بیٹے صدر الدین ان کے بنیادی جانشین بنے اور سہروردی روایت کو آگے بڑھایا۔ ان سے وابستہ مشہور ترین مریدوں میں فارسی شاعر و عارف فخر الدین عراقی اور میر سید عثمان، جو بعد میں لال شہباز قلندر کے نام سے مشہور ہوئے، شامل ہیں۔ ٹی ڈی وی کے مطابق بہاء الدین نے عراقی کے وجدانی شاعرانہ مزاج کے ساتھ اپنے عمومی تحفظ سے زیادہ وسعت کا معاملہ کیا اور انہیں اپنی بیٹی سے نکاح بھی دیا۔ جلال الدین سرخ پوش بخاری بھی ملتان کے اسی سہروردی سلسلے سے وابستہ ہوئے اور اسے اُچ اور سندھ تک لے گئے۔

بہاء الدین کی علمی میراث ان کے مرشد کی کتاب عوارف المعارف سے گہرا تعلق رکھتی تھی۔ بعد کی روایت کے مطابق وہ اپنے مریدوں کو اسی کتاب کی تعلیم دیتے تھے اور انہوں نے خود ایک بہت بڑا مستقل نظریاتی ذخیرہ مرتب نہیں کیا۔ ان کی طرف ایک حدیثی مجموعہ منسوب ہے جو اب محفوظ نہیں، عبد الحق دہلوی کے اخبار الاخیار میں وصایا کا ذکر ملتا ہے، اور مناجاتِ پیر دستگیر نامی ایک دعائیہ تصنیف بھی منسوب کی جاتی ہے۔ ان سب نسبتوں کی متنی بقا اور یقین ایک جیسا نہیں، اس لیے ثابت شدہ تدریسی کردار اور محدود یا مفقود تصانیف میں فرق رکھا گیا ہے۔

ان کا صوفیانہ نمونہ عبادتی نظم، منظم تعلیم اور معاشرتی زندگی کے ساتھ سرگرم تعلق کو یکجا کرتا تھا۔ بعد کی سوانح انہیں نماز اور ذکر پر زور دینے والا دکھاتی ہے، جبکہ وہ تقدس کے لیے انتہائی مادی محرومی کو ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ ان کی دولت اور سیاسی روابط اسی لیے متنازع رہے کہ وہ صوفی زندگی کا ایک مختلف تصور پیش کرتے تھے: وسائل خانقاہ، تعلیم، مہمان نوازی اور عوامی اثر کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ یہی ادارتی نمونہ تاریخی طور پر دیرپا ثابت ہوا اور ملتان سے سندھ، اُچ، گجرات، بنگال اور دوسرے علاقوں تک سہروردی حلقے پھیلے۔

ان کی وفات کے بارے میں بھی روایت یکساں نہیں۔ ٹی ڈی وی کے علمی اندراج میں 7 صفر کی تاریخ کے ساتھ 661 ہجری / 1262 عیسوی اور 666 ہجری / 1267 عیسوی دونوں اقوال محفوظ ہیں، جبکہ پنجاب اوقاف کا موجودہ عوامی صفحہ 1268 عیسوی لکھتا ہے۔ اس اختلاف کو ظاہر رکھا جاتا ہے اور کسی ایک عیسوی سال کو غیر متنازع نہیں بنایا جاتا۔ ملتان کے قدیم قلعہ کے ٹیلے پر ان کا معروف مقبرہ آج بھی اہم زیارت گاہ ہے۔ سرکاری آثارِ قدیمہ کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ 1848 کے برطانوی محاصرے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور بعد میں اصل بنیادوں پر اس کی بحالی کی گئی۔

موجودہ مزار ایک انفرادی طور پر شناخت شدہ مرکزی مدفن و زیارت گاہ ہے، مشترک قبرستان یا شہر کے عمومی نقطے کا نشان نہیں۔ پاکستان کے محکمۂ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کا سرکاری نقشہ جاتی ریکارڈ اسی محفوظ تاریخی یادگار کی جگہ کی تصدیق کرتا ہے، جو موجودہ مزار کی شناخت سے عین مطابقت رکھتی ہے۔ اس لیے نقشہ معروف مقبرہ و مزار کے احاطے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ان کی پائیدار تاریخی اہمیت ملتان میں ایک طاقتور سہروردی مرکز قائم کرنے، عمر سہروردی کی تعلیم منتقل کرنے، دہلی سلطنت کے دور میں صوفی و ریاستی تعلق کو شکل دینے، بااثر شاگرد و جانشین تیار کرنے اور ایک ایسے مزار کی میراث چھوڑنے میں ہے جو آج بھی ملتان کے مذہبی منظرنامے کا اہم حصہ ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

بہاء الدین زکریا کی تاریخی اہمیت اس لیے بنیادی ہے کہ انہوں نے ملتان کو قرونِ وسطیٰ کے جنوبی ایشیا کے بڑے سہروردی مراکز میں تبدیل کیا۔ عمر سہروردی سے ان کی براہِ راست نسبت نے مقامی مذہبی زندگی کو بغداد کے علمی و ادارتی ماحول سے جوڑا، جبکہ ان کی خانقاہ نے تعلیم، مہمان نوازی، بیعت اور جانشینوں کی تربیت کے لیے ایک دیرپا مرکز فراہم کیا۔

ان کی زندگی یہ بھی دکھاتی ہے کہ قرونِ وسطیٰ کی صوفی اختیار سیاسی اقتدار کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے ہوئے بھی اپنی مذہبی شناخت قائم رکھ سکتی تھی۔ التمش کی حمایت، شیخ الاسلام کے منصب سے بعد کی نسبت اور منگول محاصرے میں مداخلت کی روایت ایک ایسے نمونے کو ظاہر کرتی ہے جس میں روحانی وقار، عوامی قیادت اور سرحدی سیاست براہِ راست باہم مربوط تھے۔

ان کی خانقاہ سے وابستہ مریدوں اور اولاد نے سہروردی تعلیم کو ملتان سے بہت دور تک پہنچایا۔ صدر الدین، فخر الدین عراقی، لال شہباز قلندر اور جلال الدین سرخ پوش بخاری اس انتقال کی مختلف صورتیں دکھاتے ہیں: خاندانی جانشینی، فارسی صوفی شاعری اور سندھ و اُچ میں روحانی تبلیغ۔ اسی علمی سلسلہ نے خطۂ سندھ و پنجاب میں سہروردی روایت کو ایک بڑی تاریخی قوت بنانے میں مدد دی۔

ان کا مزار اس علمی و ادارتی ورثے کو آج بھی ایک جسمانی مرکز فراہم کرتا ہے۔ قدیم قلعہ کے ٹیلے پر واقع مقبرہ 1848 کے محاصرے سے وابستہ تباہی اور بعد کی بحالی جیسے بڑے تاریخی مراحل سے گزرا اور اب بھی سرکاری طور پر تسلیم شدہ زیارت گاہ ہے۔ مستند سہروردی نسبت، سیاسی اثر، علاقائی شاگرد اور مسلسل آباد مرکزی مزار مل کر ملتان کی تاریخ میں ان کی پائیدار حیثیت واضح کرتے ہیں۔

خاندانی روابط

ماخذ

بہاء الدین زکریا | حامد الگار، ٹی ڈی وی اسلام انسائیکلوپیڈیسی | جلد 4، 1991، ص 462–463 | https://islamansiklopedisi.org.tr/bahaeddin-zekeriyya | شناخت، ولادت کے اقوال، والد، سفر، عمر سہروردی سے اجازت، ملتان، التمش، 1247 کا واقعہ، شاگرد، اولاد اور وفات کے اختلافات
مزار حضرت بہاء الدین زکریا | محکمۂ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر، حکومت پاکستان | محفوظ یادگار ریکارڈ | https://doam.gov.pk/public/sites/10273 | اصل مقبرہ، 1848 کی تباہی و بحالی، پنجاب/ملتان اور عین GPS
حضرت بہاء الدین زکریا، ملتان | پنجاب اوقاف و مذہبی امور | موجودہ عوامی سوانح | https://auqaf.punjab.gov.pk/shrine_bahauddin_zakariya | معروف مزار، سہروردی نسبت، کوٹ کرور اور موجودہ 1268 عیسوی وفات روایت
عوارف المعارف کی ابتدائی ترسیل | ایدوگان کارس | جرنل آف ریلیجن 102(1)، 2022، ص 47–92 | https://www.journals.uchicago.edu/doi/10.1086/717119 | اجازت، سماع اور علمی ترسیلی نیٹ ورکس کا تحقیقی پس منظر
اوچ میں سہروردی سلسلہ | حسن علی خان | Constructing Islam on the Indus، 2015، ص 96–122 | https://www.cambridge.org/core/books/constructing-islam-on-the-indus/suhrawardi-order-in-uch/02B6875F759125FE41AF43B9EF76873B | جلال الدین سرخ پوش بخاری کی زکریا سے بیعت و خلافت اور علاقائی نیٹ ورک

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔