مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ کی دعا اور مورق عجلی کی رہائی

ولی یا صالح کی کرامتدعا کی قبولیتتاریخی نتیجہقدیم تاریخ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

ابن ابی الدنیا نے ایک روایت محفوظ کی ہے کہ حجاج نے مورق عجلی کو قید کر دیا تھا اور ان کی رہائی کی کوششیں کامیاب نہیں ہو رہی تھیں۔ اس کے بعد مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ نے موجود لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کی دعوت دی؛ مطرف رحمہ اللہ دعا کرتے رہے اور ساتھ والے آمین کہتے رہے۔ روایت کے مطابق اسی شام مورق کے والد حجاج کی مجلس میں پہنچے، جس پر حجاج نے ایک محافظ کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ جیل جائے اور ان کے بیٹے کو ان کے حوالے کر دے۔ لالکائی اور ابو نعیم نے بھی بعد کی کتابوں میں اسی واقعے کی صورتیں محفوظ کی ہیں۔

ابن ابی الدنیا نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ سے متعلق ایک روایت محفوظ کی ہے جس کا آغاز مورق عجلی کی قید سے ہوتا ہے۔ بیان کے مطابق حجاج نے مورق کو جیل میں ڈال دیا تھا۔ ان کے خیر خواہوں نے رہائی کے لیے کوشش کی، لیکن وہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔

جب انسانی کوششوں سے راستہ نہ نکلا تو مطرف رحمہ اللہ نے مجلس کو دعا کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے ساتھ موجود لوگوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ روایت بتاتی ہے کہ مطرف رحمہ اللہ دعا کرتے رہے اور باقی لوگ آمین کہتے رہے۔ زیرِ نظر ماخذ میں دعا کے عین الفاظ محفوظ نہیں، اس لیے عوامی قصے میں کوئی مخصوص دعائیہ عبارت گھڑ کر شامل نہیں کی گئی۔

پھر روایت براہِ راست اسی شام کے اگلے منظر کی طرف آتی ہے۔ مورق کے والد حجاج کی مجلس میں داخل ہوئے۔ بیان کے مطابق حجاج نے ایک محافظ کو حکم دیا کہ وہ والد کے ساتھ جیل جائے اور مورق کو ان کے حوالے کر دے۔ یوں روایت کی اپنی ترتیب میں اجتماعی دعا اور رہائی کا حکم ایک ہی شام یکے بعد دیگرے سامنے آتے ہیں۔

ابو نعیم نے اسی واقعے کی ایک نسبتاً مفصل صورت محفوظ کی ہے۔ اس میں ایک نمایاں تفصیل یہ آتی ہے کہ رہائی کا حکم ہونے سے پہلے کسی شخص نے حجاج سے مورق کے حق میں بات نہیں کی تھی۔ یہ اضافہ واقعے کے اچانک پلٹنے کو مزید نمایاں کرتا ہے، لیکن بنیادی قصہ وہی رہتا ہے: قید، رہائی کی ناکام کوششیں، دعا اور پھر آزادی۔

لالکائی نے بھی اسی مرکزی واقعے کو نقل کیا، جبکہ ابن عساکر نے بعد میں مطرف رحمہ اللہ کی سوانح میں متعلقہ مواد محفوظ کیا۔ ان کلاسیکی نقلوں میں توجہ اس بات پر رہتی ہے کہ مطرف رحمہ اللہ نے دعا کی اور اسی شام رہائی کا حکم سامنے آیا؛ فیصلے کی تبدیلی کی کوئی طویل یا فرضی وضاحت شامل نہیں کی گئی۔

عوامی بیان میں قصے کی سب سے صاف صورت یہی ہے۔ مورق عجلی قید تھے، معمول کی کوششوں سے رہائی نہ ہوئی، مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ نے دعا کی اور حاضرین آمین کہتے رہے، پھر اسی شام مورق کو ان کے والد کے حوالے کرنے کا حکم صادر ہوا۔ کلاسیکی مصادر میں محفوظ اس کرامت کی روایت کا مرکزی واقعہ یہی ترتیب ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

روایت کا اختتام اس پر ہوتا ہے کہ جس شام مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ نے اجتماعی دعا کی، اسی شام مورق عجلی کو ان کے والد کے حوالے کرنے کا حکم جاری ہوا۔

مآخذ

Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 75 in HadithPortal numbering
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa: تعال ندع الله ... فدعا مطرف وأمنا
al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna, Karamat al-Awliya, report 174
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 75
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya, Mutarrif ibn Abd Allah, wonders from his karamat
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya: من غير أن يكلمه فيه أحد من الناس
al-Lalaka'i route: Sulayman ibn Harb -> Hammad ibn Zayd -> Ghaylan ibn Jarir
Abu Nu'aym route: Khalid ibn Khidash -> Hammad ibn Zayd -> Ghaylan ibn Jarir
Ibn Asakir, Tarikh Dimashq, biography of Mutarrif ibn Abd Allah; preserves Ibn Abi al-Dunya and Abu Nu'aym routes side by side