مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ کے کوڑے پر روشنی کا منقول واقعہ

ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

کلاسیکی مصادر میں مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ کے بارے میں متعدد متعلقہ روایات محفوظ ہیں کہ اندھیرے میں سفر کے دوران ان کے کوڑے پر غیر معمولی روشنی ظاہر ہوئی۔ ابن سعد نقل کرتے ہیں کہ فجر سے پہلے جمعہ کی نماز کے لیے جاتے ہوئے، جبکہ ان کے بیٹے عبداللہ پیچھے تھے، کوڑے کے سرے سے دو شاخوں والی روشنی نکلی۔ احمد بن حنبل کی ایک دوسری روایت میں تاریک رات کو کوڑے کی نوک پر چراغ جیسی روشنی ظاہر ہوئی۔ بیہقی اور لالکائی نے بھی ایک روایت محفوظ کی ہے جس میں دو مسافروں میں سے ایک کے کوڑے کی نوک روشن تھی۔

کلاسیکی مصادر میں مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ سے متعلق ایک یادگار کرامت محفوظ ہے جو اندھیرے میں سفر کے دوران پیش آئی۔ یہاں جانچی گئی روایات میں سب سے تفصیلی ابتدائی صورت ابن سعد کے ہاں ملتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ مطرف رحمہ اللہ فجر سے پہلے جمعہ کی نماز کے لیے جا رہے تھے اور ان کے بیٹے عبداللہ ان کے پیچھے سفر کر رہے تھے۔

اسی روایت میں آتا ہے کہ مطرف رحمہ اللہ کے کوڑے کے سرے سے اچانک روشنی چمکی۔ ابن سعد اس روشنی کو دو شاخوں والی بیان کرتے ہیں۔ منظر نہایت مختصر اور واضح ہے: فجر سے پہلے کا اندھیرا، جمعہ کی نماز کی طرف سفر، بیٹا پیچھے، اور مطرف رحمہ اللہ کے ہاتھ میں موجود کوڑے کے سرے سے غیر معمولی روشنی ظاہر ہونا۔

احمد بن حنبل کی کتاب الزہد اسی واقعے کی ایک دوسری صورت محفوظ کرتی ہے۔ اس میں مطرف رحمہ اللہ ایک خادم کے ساتھ بہت تاریک رات میں سفر کر رہے ہیں۔ اندھیرا اس قدر ہے کہ راستہ صاف دکھائی نہیں دیتا، پھر ان کے کوڑے کی نوک پر چراغ جیسی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ مرکزی واقعہ وہی رہتا ہے، مگر روشنی کی ظاہری کیفیت مختلف الفاظ میں بیان ہوتی ہے۔

تیسری صورت بیہقی اور لالکائی نے قتادہ کے ذریعے نقل کی ہے۔ اس میں مطرف رحمہ اللہ اور ایک ساتھی تاریک رات میں سفر کر رہے ہیں اور ان دونوں میں سے ایک کے کوڑے کی نوک پر روشنی ہے۔ بیہقی اس روایت کو اولیاء کی کرامات کے ذکر میں لاتے ہیں اور مطرف رحمہ اللہ کو بزرگ تابعین میں شمار کرتے ہیں۔

یوں کلاسیکی روایات ایک واضح بنیادی واقعے پر جمع ہیں، لیکن بصری تفصیل کو ایک ہی شکل میں محفوظ نہیں کرتیں۔ ابن سعد دو شاخوں والی روشنی بیان کرتے ہیں، احمد کی روایت میں چراغ جیسی روشنی ہے، اور قتادہ والی روایت صرف کوڑے کی نوک پر روشنی کا ذکر کرتی ہے۔ ان صورتوں کو الگ رکھنا زیادہ صاف اور دیانت دار بیان ہے۔

کوڑے کی نوک سے تسبیح جیسی آواز سننے کی ایک الگ روایت بھی منقول ہے، مگر وہ دوسرا واقعہ ہے اور اسے اس روشنی کی حکایت میں شامل نہیں کیا گیا۔ عوامی کہانی کا مرکز یہی ہے کہ اندھیرے کے سفر میں مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ کے کوڑے کے ساتھ غیر معمولی روشنی ظاہر ہوئی، جسے مختلف کلاسیکی مصادر نے قدرے مختلف انداز میں محفوظ کیا۔

خلاصۂ نتیجہ

روایت مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ کے اندھیرے میں سفر کے دوران کوڑے پر ظاہر ہونے والی غیر معمولی روشنی کو محفوظ کرتی ہے، جس کی مختلف کلاسیکی صورتیں قدرے مختلف الفاظ میں نقل ہوئی ہیں۔

مآخذ

Ibn Sa'd, al-Tabaqat al-Kubra, biography of Mutarrif ibn Abd Allah
Ahmad ibn Hanbal, al-Zuhd, report 1364 in HadithPortal numbering
al-Bayhaqi, al-I'tiqad, Bab al-qawl fi karamat al-awliya
al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna, report 176
al-Bayhaqi, al-I'tiqad: ومطرف بن عبد الله كان من كبار التابعين ... شبيها بما أكرموا به
al-Bayhaqi chain: Ahmad ibn Mansur -> Abd al-Razzaq -> Ma'mar -> Qatada
al-Lalaka'i chain: Ahmad ibn Mansur -> Abd al-Razzaq -> Ma'mar -> Qatada
Ibn Sa'd version: سطع من رأس سوطه نور له شعبتان
Ahmad ibn Hanbal version: فأضاء له مثل السراج على طرف سوطه
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya: Ghaylan ibn Jarir report of hearing something like tasbih at the whip tip
Ibn Asakir, Tarikh Dimashq, biography of Mutarrif, p. 321: light routes and separate tasbih route
Ibn Asakir, Tarikh Dimashq, Mutarrif biography: unnamed-servant light route, Ibn Abi Khaythama route, Qatada/Bayhaqi route