ابو داؤد کی کتاب الزہد میں ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ سے متعلق ایک روایت محفوظ ہے کہ ایک عورت نے ان کے اور ان کی اہلیہ کے تعلق میں مداخلت یا خرابی پیدا کی۔ روایت کے مطابق ابو مسلم رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں دعا کی اور اس کی بینائی چلی گئی۔ بعد میں وہ عورت ان کے پاس آئی، اپنے کیے کا اعتراف کیا اور وعدہ کیا کہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گی۔ اس پر ابو مسلم رحمہ اللہ نے دعا کی: «اللهم إن كانت صادقة فاردد عليها بصرها» یعنی: “اے اللہ، اگر یہ سچی ہے تو اس کی بینائی واپس لوٹا دے۔” روایت کا اختتام اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ دیکھنے لگی۔
ابو داؤد کی کتاب الزہد میں ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ سے متعلق ایک مختصر مگر نمایاں واقعہ محفوظ ہے۔ روایت کے مطابق ایک عورت نے ابو مسلم رحمہ اللہ اور ان کی اہلیہ کے تعلق میں مداخلت کی یا ایسی خرابی پیدا کی جس سے گھر کے معاملات متاثر ہوئے۔ اصل روایت اس عورت کے عمل کی طویل تفصیل بیان نہیں کرتی۔
اس واقعے کے بعد ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں دعا کی۔ روایت کہتی ہے کہ اس کے بعد عورت کی بینائی چلی گئی۔ ابتدائی روایت پہلی دعا کے مفصل الفاظ محفوظ نہیں کرتی، اس لیے اس مرحلے کو اسی سادہ انداز میں رکھنا بہتر ہے جس طرح ماخذ بیان کرتا ہے: ابو مسلم رحمہ اللہ نے دعا کی اور عورت نابینا ہوگئی۔
اس کے بعد کہانی کا رخ بدل جاتا ہے۔ وہ عورت ابو مسلم رحمہ اللہ کے پاس واپس آئی، اپنے کیے کا اعتراف کیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گی۔ یہی اعتراف اور وعدہ واقعے کا اہم موڑ ہے، کیونکہ اس مرتبہ ابو مسلم رحمہ اللہ اس کے خلاف نہیں بلکہ اس کے حق میں دعا کرتے ہیں۔
اس دوسری دعا کے الفاظ روایت میں واضح طور پر محفوظ ہیں: «اللهم إن كانت صادقة فاردد عليها بصرها»۔ یعنی: “اے اللہ، اگر یہ سچی ہے تو اس کی بینائی اسے واپس لوٹا دے۔” دعا میں شرط بھی واضح ہے؛ بینائی کی واپسی اس کے اعتراف اور وعدے کے سچا ہونے کے ساتھ وابستہ کی گئی ہے۔
روایت اس کے بعد نہایت مختصر الفاظ میں بتاتی ہے کہ عورت دوبارہ دیکھنے لگی۔ اس کے بعد کسی طویل انجام یا مزید سزا کا ذکر نہیں آتا۔ یوں واقعے کی ترتیب صاف رہتی ہے: گھر کے تعلق میں خرابی، ابو مسلم رحمہ اللہ کی دعا، بینائی کا چلے جانا، عورت کا اعتراف اور وعدہ، پھر مشروط دعا اور بینائی کی واپسی۔
لالکائی اور ابو نعیم نے بھی اسی بنیادی واقعے کو محفوظ کیا ہے، جبکہ ایک دوسرے طریق میں پہلی دعا کے کچھ مفصل الفاظ ملتے ہیں۔ وہ الگ نقل ہے، اس لیے اسے یہاں ابتدائی روایت میں ملا کر نئی مشترک عبارت نہیں بنائی گئی۔ عوامی کہانی کا مرکز وہی واضح واقعہ ہے جو ابتدائی ماخذ میں محفوظ ہے۔
اس واقعے کے بعد ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں دعا کی۔ روایت کہتی ہے کہ اس کے بعد عورت کی بینائی چلی گئی۔ ابتدائی روایت پہلی دعا کے مفصل الفاظ محفوظ نہیں کرتی، اس لیے اس مرحلے کو اسی سادہ انداز میں رکھنا بہتر ہے جس طرح ماخذ بیان کرتا ہے: ابو مسلم رحمہ اللہ نے دعا کی اور عورت نابینا ہوگئی۔
اس کے بعد کہانی کا رخ بدل جاتا ہے۔ وہ عورت ابو مسلم رحمہ اللہ کے پاس واپس آئی، اپنے کیے کا اعتراف کیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گی۔ یہی اعتراف اور وعدہ واقعے کا اہم موڑ ہے، کیونکہ اس مرتبہ ابو مسلم رحمہ اللہ اس کے خلاف نہیں بلکہ اس کے حق میں دعا کرتے ہیں۔
اس دوسری دعا کے الفاظ روایت میں واضح طور پر محفوظ ہیں: «اللهم إن كانت صادقة فاردد عليها بصرها»۔ یعنی: “اے اللہ، اگر یہ سچی ہے تو اس کی بینائی اسے واپس لوٹا دے۔” دعا میں شرط بھی واضح ہے؛ بینائی کی واپسی اس کے اعتراف اور وعدے کے سچا ہونے کے ساتھ وابستہ کی گئی ہے۔
روایت اس کے بعد نہایت مختصر الفاظ میں بتاتی ہے کہ عورت دوبارہ دیکھنے لگی۔ اس کے بعد کسی طویل انجام یا مزید سزا کا ذکر نہیں آتا۔ یوں واقعے کی ترتیب صاف رہتی ہے: گھر کے تعلق میں خرابی، ابو مسلم رحمہ اللہ کی دعا، بینائی کا چلے جانا، عورت کا اعتراف اور وعدہ، پھر مشروط دعا اور بینائی کی واپسی۔
لالکائی اور ابو نعیم نے بھی اسی بنیادی واقعے کو محفوظ کیا ہے، جبکہ ایک دوسرے طریق میں پہلی دعا کے کچھ مفصل الفاظ ملتے ہیں۔ وہ الگ نقل ہے، اس لیے اسے یہاں ابتدائی روایت میں ملا کر نئی مشترک عبارت نہیں بنائی گئی۔ عوامی کہانی کا مرکز وہی واضح واقعہ ہے جو ابتدائی ماخذ میں محفوظ ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
روایت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ کی ایک ایسی دعا کو یاد رکھتی ہے جس کے بعد عورت کی بینائی چلی گئی، پھر اس کے اعتراف اور وعدے کے بعد ابو مسلم رحمہ اللہ نے مشروط دعا کی اور روایت کے مطابق اس کی بینائی واپس آگئی۔
مآخذ
Abu Dawud, al-Zuhd, report 480: woman interfered with Abu Muslim's wife
Abu Dawud, al-Zuhd, report 480: prayer followed by loss of sight
Abu Dawud, al-Zuhd, report 480: confession and promise not to repeat
Abu Dawud, al-Zuhd, report 480: اللهم إن كانت صادقة فاردد عليها بصرها
Abu Dawud, al-Zuhd, report 480: فأبصرت
al-Lalaka'i, report 145: same Baqiyya -> Muhammad ibn Ziyad -> Abu Muslim core route
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya: same Baqiyya -> Muhammad ibn Ziyad -> Abu Muslim account
Hadith criticism examples identify Baqiyya ibn al-Walid as a mudallis whose 'an'anah is a material chain issue
Ibn Kathir preserves from Ibn Abi al-Dunya the fuller household route and exact first prayer wording
al-Mizzi: Yahya ibn Ma'in and other critics describe Uthman ibn Ata al-Khurasani as weak
CAND-0177 Task 1 V2.0 evidence synthesis from verified source layers