مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمۃ اللہ علیہ

PER-000422 نیک شخصیت مصدقہ صرف عمومی علاقہ معلوم مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر، ابو عبد اللہ الحرشی العامری البصری، بصرہ کے نمایاں بزرگ تابعین میں سے تھے۔ ان کے والد عبد اللہ بن الشخیر صحابی تھے، اور مطرف نے اپنے والد کے علاوہ صحابہ کے ایک وسیع علمی حلقے سے روایت کی، جن میں عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عائشہ، عمران بن حصین، عیاض بن حمار اور دوسرے شامل تھے۔ حسن بصری، قتادہ، ثابت بنانی، حمید بن ہلال، غیلان بن جریر اور محمد بن واسع جیسے بڑے بصری راویوں نے ان سے روایت کی۔ کلاسیکی رجال کے ائمہ انہیں ثقہ اور علم، ورع، عقل اور ادب سے ممتاز کہتے ہیں، جبکہ مزی بتاتے ہیں کہ ان کے ذریعے روایت شدہ مواد حدیث کی چھ بڑی کتابوں میں موجود ہے۔ ان کی عوامی شخصیت میں دینی نظم اور معمول کی سماجی زندگی دونوں جمع تھے: روایات انہیں اچھے کپڑے پہننے، سواری کرنے اور حکام سے معاملات رکھنے کے ساتھ ساتھ پرتشدد خانہ جنگی سے قصداً الگ رہنے اور متحارب تحریکوں کی بھرتی مسترد کرنے والا دکھاتی ہیں۔ کلاسیکی مصادر مطرف سے متعلق کئی غیر معمولی واقعات بھی محفوظ کرتے ہیں اور ہر روایت کا درجہ الگ ہے۔ جھوٹا الزام لگانے والے شخص کے بارے میں ان کی مشروط دعا حمید بن ہلال کے طریق سے منقول ہے، اور ابن حجر نے ابن ابی الدنیا کے ایک طریق کو جید کہا؛ اس لیے یہ معنی خیز سندی تائید والی کلاسیکی کرامت کی روایت ہے، نبوی حدیث نہیں۔ ابن سعد کی الگ روایت میں حجاج نے مورق عجلی کو قید کیا، مطرف اور ان کے ساتھیوں نے دعا کی اور اسی شام اس کی رہائی کا حکم ہوا۔ تاریک سفر میں کوڑے کے سرے پر روشنی کا واقعہ بھی متعدد کلاسیکی طرق سے محفوظ ہے، اگرچہ گواہوں اور الفاظ میں اختلاف ہے۔ مطرف کی وفات کے لیے ۸۶، ۸۷ کے وبائی سیاق اور ۹۵ ہجری کی تاریخیں منقول ہیں۔ ایک قدیم خاندانی روایت بتاتی ہے کہ انہوں نے اپنے گھر میں قبر تیار کی، وہاں قرآن پڑھا اور وفات کے بعد وہیں دفن ہوئے۔
ولادت

کلاسیکی سوانحی روایت مطرف بن عبد اللہ کی ولادت کو رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے زمانے میں رکھتی ہے۔ ایک منقول عمر کی روایت کے مطابق حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت مطرف بیس برس کے تھے، جس سے تقریباً ۳ ہجری کی زمانی تعیین سامنے آتی ہے۔ ان کی معروف علمی زندگی بعد کے بصرہ میں ایک بزرگ تابعی، راوی اور صاحبِ ورع کی حیثیت سے نمایاں ہوئی۔

وفات

مطرف بن عبد اللہ کی وفات کے بارے میں کلاسیکی مصادر کئی زمانی روایات محفوظ کرتے ہیں۔ عمرو بن علی اور ترمذی ۹۵ ہجری نقل کرتے ہیں، خلیفہ بن خیاط سے ۸۶ ہجری منقول ہے، جبکہ ایک دوسری روایتی جماعت وفات کو ۸۷ ہجری کے طاعونِ جارف کے بعد یا اس کے سیاق سے وابستہ کرتی ہے۔ ابن حجر ابن سعد کے ایک بیان کو ۹۵ ہجری کے موافق سمجھنے کی توجیہ پیش کرتے ہیں۔ اس طرح مطرف کی وفات کی تاریخ کلاسیکی سوانح میں متعدد منقول صورتوں کے ساتھ محفوظ ہے، جن میں ۹۵ ہجری نمایاں روایت ہے۔

مدفن یا منسوب مقام

مقام کی نوعیت: مطرف کے اپنے گھر میں تدفین کی قدیم تاریخی روایت۔ احمد بن حنبل کی کتاب الزہد میں مطرف کے ایک بعد کے فرزند سے منقول ہے کہ مطرف نے اپنے گھر میں اپنے لیے قبر کھودی، زندگی میں وہاں جا کر قرآن پڑھتے تھے اور وفات کے بعد اسی قبر میں دفن ہوئے۔ ابن عساکر الگ طور پر بصرہ سے چند دن کے فاصلے پر بادیہ کے مقام السخیری میں مطرف کی ایک رہائش کا تاریخی ذکر محفوظ کرتے ہیں۔ مطرف کی تدفینی یاد کا سب سے مضبوط قدیم حصہ ان کے اپنے گھر میں قبر تیار کرنے، قرآن پڑھنے اور وہیں دفن ہونے کی یہی خاندانی روایت ہے۔

سوانح و تاریخی تعارف

مطرف بن عبد اللہ بن الشخیر بصرہ کے بزرگ تابعی تھے، عموماً ابو عبد اللہ کی کنیت سے معروف، اور الحرشی یا الحراشی، العامری اور البصری نسبتوں سے وابستہ تھے۔ ان کے والد عبد اللہ بن الشخیر صحابی تھے اور بصرہ کے روایت کے علمی ماحول کا حصہ بنے۔

ان کے خاندان میں والد صحابی عبد اللہ بن شخیر اور بھائی یزید و ہانی بن عبد اللہ بن شخیر نمایاں طور پر محفوظ ہیں۔ یہ گھرانہ بصرہ کے ابتدائی علمی اور روایتی ماحول کا حصہ تھا۔

ابن حبان مطرف کی پیدائش کو رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے زمانے میں رکھتے ہیں۔ ایک دوسری عمر والی روایت کے مطابق حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت مطرف بیس برس کے تھے، جس سے تقریباً ۳ ہجری کی تاریخ نکلتی ہے۔ کلاسیکی رجال کی بنیادی درجہ بندی انہیں بزرگ تابعی ہی قرار دیتی ہے۔

مطرف کی علمی اہمیت سب سے پہلے روایت پر قائم ہے۔ مزی ان کے شیوخ کا ایک وسیع حلقہ محفوظ کرتے ہیں جس میں ان کے والد عبد اللہ، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عائشہ، عمران بن حصین، عیاض بن حمار، عثمان بن ابی العاص، معاویہ بن ابی سفیان اور دوسرے ابتدائی ائمہ شامل ہیں۔

مطرف سے روایت کرنے والوں میں حسن بصری، قتادہ، ثابت بنانی، حمید بن ہلال، غیلان بن جریر، محمد بن واسع اور ابو التیاح شامل تھے۔ مزی کا یہ نوٹ کہ حدیث کی چھ بڑی کتابوں میں مطرف کے ذریعے روایات موجود ہیں، کلاسیکی حدیثی نیٹ ورک میں ان کے مسلم مقام کی اہم علامت ہے۔

اس کی ایک واضح مثال وہ روایت ہے جس میں مطرف اپنے والد سے نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کی آواز کی کیفیت نقل کرتے ہیں۔ ثابت بنانی سے مطرف، پھر عبد اللہ بن الشخیر تک یہ طریق سنن ابی داود، سنن نسائی اور مسند احمد میں محفوظ ہے۔ یہ روایت اپنے صحابی والد کی نبوی یاد کو قابلِ اعتماد طور پر منتقل کرنے میں مطرف کے کردار کو واضح کرتی ہے۔

کلاسیکی ناقدین نے ان کے کردار پر بھی زور دیا۔ ابن سعد نے انہیں ثقہ، صاحبِ فضل، ورع، عقل اور ادب والا کہا، اور عجلی نے بھی انہیں ثقہ بزرگ تابعین میں شمار کیا۔ مطرف سے منقول ایک قول علم کی زیادتی کو عبادت کی زیادتی پر ترجیح دیتا اور دینی زندگی میں ورع کو مرکزی مقام دیتا ہے۔

ان کی زاہدانہ شہرت سماج سے کنارہ کشی کے معنی میں نہیں تھی۔ غیلان بن جریر نقل کرتے ہیں کہ مطرف اچھا بیرونی لباس پہنتے، گھوڑوں پر سوار ہوتے اور اہلِ اقتدار سے ملاقات کرتے تھے۔ اسی روایت میں وہ پرتشدد فتنہ سے گہری احتیاط رکھنے والے شخص کے طور پر بھی سامنے آتے ہیں۔

کلاسیکی سوانح ابن زبیر سے وابستہ خانہ جنگی سے ان کی کنارہ کشی، ابن اشعث کی بغاوت میں شامل ہونے سے انکار اور حروریہ کی بھرتی مسترد کرنے کی روایات محفوظ کرتی ہیں۔ یہ مواد ان کی زندگی پر جدید سیاسی نظریہ تھوپنے کے بجائے مسلح داخلی نزاع میں دانستہ عدم شرکت کی تصویر پیش کرتا ہے۔

ابن سعد مطرف کی ازدواجی زندگی کا براہِ راست ذکر کرتے ہیں اور مہر کی مقدار کے مختلف منقول اقوال محفوظ کرتے ہیں۔ ابن سعد اور مِزّی ان کے بیٹے عبد اللہ بن مطرف، ابو جُز، کو بھی شناخت کرتے ہیں، جو ابو برزہ اسلمی سے روایت کرتے تھے اور اپنے والد سے پہلے وفات پا گئے۔

دوسرے خاندانی آثار مطرف کی مزید اولاد اور نسل کی موجودگی دکھاتے ہیں۔ احمد بن حنبل کی کتاب الزہد میں ایک بعد کے فرزند کے ذریعے ان کی تدفین کا واقعہ محفوظ ہے، جبکہ ابن حجر ایک بیٹی کی طرف سے ایک نواسی کا ذکر نقل کرتے ہیں۔

بہتر تائید رکھنے والی غیر معمولی روایات میں ایک اس شخص سے متعلق ہے جس نے مطرف پر جھوٹا الزام لگایا یا ان کے بارے میں جھوٹ بولا۔ حمید بن ہلال کے ذریعے ایک کلاسیکی طریق بتاتا ہے کہ مطرف نے مشروط طور پر اس کے خلاف دعا کی اور پھر وہ شخص مر گیا۔ یہ خبر مزی اور ابو نعیم کے ہاں محفوظ ہے، اور ابن حجر کہتے ہیں کہ ابن ابی الدنیا کی کتاب مجابی الدعوۃ میں موجود طریق کی سند حسن ہے۔ اس لیے اسے بامعنی سندی تائید والی کلاسیکی کرامت کہا جانا چاہیے، نبوی حدیث نہیں۔

دوسرا واقعہ مورق عجلی سے متعلق ہے۔ ابن سعد سلیمان بن حرب، حماد بن زید اور غیلان بن جریر کے ذریعے طریق محفوظ کرتے ہیں کہ حجاج نے مورق کو قید کیا؛ مطرف نے معاملہ پوچھا، پھر وہ اور دوسرے لوگوں نے دعا کی، اور اسی شام مورق رہا کر دیا گیا۔ یہ الگ واقعہ ہے اور مطرف کے قید شدہ بھتیجے سے متعلق دوسری روایت میں اسے ضم نہیں کرنا چاہیے۔

تیسرا بڑا غیر معمولی موضوع اندھیرے سفر میں مطرف کے کوڑے کے سرے سے وابستہ روشنی ہے۔ ابو نعیم عبد الرزاق، معمر اور قتادہ کے ذریعے ایک صورت محفوظ کرتے ہیں، جبکہ دوسرے طرق میں بھتیجا، خادم یا بیٹا بطور گواہ آتا ہے۔ متعدد گواہیاں کلاسیکی قبولیت کو مضبوط دکھاتی ہیں، لیکن الفاظ مختلف ہیں اور سب کو ایک ہی حدیثی درجہ نہیں ملا۔ سب سے محفوظ تعبیر یہی ہے کہ یہ متعدد طرق والی کلاسیکی کرامت کی روایت ہے جس کی درجہ بندی یکساں طور پر متعین نہیں۔

مطرف کی وفات کے بارے میں کلاسیکی تاریخیں مختلف ہیں۔ عمرو بن علی اور ترمذی ۹۵ ہجری نقل کرتے ہیں، خلیفہ بن خیاط سے ۸۶ ہجری منقول ہے، جبکہ کچھ روایات وفات کو ۸۷ ہجری کے طاعونِ جارف کے بعد یا اس کے سیاق سے وابستہ کرتی ہیں۔ ابن حجر ابن سعد کے ایک بیان کو ۹۵ ہجری کے موافق سمجھنے کی توجیہ پیش کرتے ہیں۔

مطرف کی تدفین کے بارے میں ایک نہایت شخصی قدیم روایت محفوظ ہے۔ احمد بن حنبل کی کتاب الزہد میں ان کے ایک فرزند سے منقول ہے کہ مطرف نے اپنے گھر میں اپنے لیے قبر کھودی، زندگی میں وہاں جا کر قرآن پڑھتے تھے اور وفات کے بعد اسی قبر میں دفن ہوئے۔ ابن عساکر الگ طور پر بصرہ سے چند دن کے فاصلے پر بادیہ کے مقام السخیری میں ان کی ایک رہائش کا ذکر بھی کرتے ہیں۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

مطرف بن عبد اللہ تاریخی طور پر اس لیے اہم ہیں کہ وہ صحابہ کے دور کی روایت کو ابھرتی ہوئی بصری علمی ثقافت سے جوڑنے والے بڑے بزرگ تابعی تھے۔ ان کے والد صحابی تھے، ان کے اساتذہ میں کئی دوسرے صحابہ شامل تھے، اور بڑے بصری راویوں کے وسیع حلقے نے ان سے علم لیا۔ حدیث کی چھ بڑی کتابوں میں ان کے ذریعے روایت کا موجود ہونا بتاتا ہے کہ ان کی اہمیت صرف بعد کی عقیدت مندانہ شہرت نہیں بلکہ مضبوط روایتی ذخیرے پر قائم ہے۔

ان کی اخلاقی شخصیت ابتدائی بصری دینداری کی ایک ایسی صورت بھی محفوظ کرتی ہے جس میں علم، ورع، عبادت اور معمول کی سماجی شرکت ایک دوسرے سے جڑے تھے۔ اچھے کپڑے پہننے، سواری کرنے اور حکام سے ملنے کی روایات کے ساتھ ان کے مسلح فتنوں میں شامل ہونے سے انکار کی مضبوط شہادت بھی موجود ہے۔ یہ مجموعہ ابتدائی زہد کو صرف سماجی کنارہ کشی سمجھنے سے روکتا ہے۔

مطرف کے خاندانی آثار بھی تاریخی طور پر اہم ہیں۔ ابن سعد ان کی ازدواجی زندگی محفوظ کرتے ہیں، عبد اللہ بن مطرف ایک نامزد بیٹے کے طور پر ثابت ہیں، اور بعد کے فرزند اور بیٹی کی طرف سے نواسی کی روایات خاندان کے وسیع سلسلے کو نمایاں کرتی ہیں۔

تین غیر معمولی روایتیں درجہ بندی کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت کو بھی واضح کرتی ہیں۔ جھوٹا الزام لگانے والے کے خلاف دعا کو بامعنی کلاسیکی تائید اور بعد کی حسن سند کی رائے حاصل ہے؛ مورق کی رہائی کا واقعہ اپنی الگ ابتدائی سند رکھتا ہے؛ اور کوڑے کی روشنی کا موضوع متعدد طرق سے آیا ہے جن کے الفاظ اور درجات مختلف ہیں۔ انہیں الگ رکھنے سے مطرف کی عقیدت مندانہ قبولیت اور اصل شواہد کی درجہ بندی دونوں محفوظ رہتی ہیں۔

ان کی تدفین کی روایت مطرف کی ذاتی عبادت اور گھر کی مذہبی فضا کا ایک غیر معمولی قدیم منظر محفوظ کرتی ہے۔ اپنے گھر میں قبر تیار کرنا، زندگی میں وہاں قرآن پڑھنا اور وفات کے بعد اسی جگہ دفن ہونا ان کی سوانح میں موت کی یاد اور قرآن سے تعلق کا نہایت نمایاں پہلو ہے۔ ابن عساکر السخیری میں ان کی ایک رہائش کا الگ تاریخی ذکر بھی محفوظ کرتے ہیں۔

خاندانی روابط

ماخذ

Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Yusuf al-Mizzi | vol. 28, Mutarrif ibn Abd Allah entry 6001, displayed pp. 67-70 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/7246/ | عین شناخت، کنیت، بصری نسبت، شیوخ، تلامذہ، ثقاہت، فتنہ سے متعلق خبر، اقوال، وفات کے اختلافات اور چھ کتابوں میں روایت
Tahdhib al-Tahdhib | Ibn Hajar al-Asqalani | vol. 10, entry on Mutarrif ibn Abd Allah | https://ar.wikisource.org/wiki/تهذيب_التهذيب/بقية_حرف_الميم | ثقاہت، روایتی حلقہ، جھوٹے الزام والے واقعے کی روایت، کوڑے کی روشنی، 95ھ بمقابلہ 87ھ وفات اور ابن حبان کی پیدائش والی خبر
Ikmal Tahdhib al-Kamal | Mughlatay ibn Qilij | Mutarrif ibn Abd Allah entry 4595 | https://sunna.alifta.gov.sa/BookToc/ViewServicePage?bookId=52%20&mainId=540709 | طویل نسب، فتنہ سے اجتناب، نکاح کی خبر، طاعون جارف کے بعد وفات اور عمر سے پیدائش کے حساب پر بحث
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Yusuf al-Mizzi | vol. 15, p. 81, entry 3329 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/3610/ | والد عبد اللہ بن الشخیر، صحابی حیثیت، بیٹے مطرف، یزید اور ہانی، اور بصری تعلق
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Yusuf al-Mizzi | vol. 16, pp. 150-151, entry 3576 | https://islamweb.net/ar/library/content/1001/3874/ | نام زد بیٹا عبد اللہ بن مطرف، کنیت ابو جُز، بصری شناخت اور والد سے پہلے وفات
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | vol. 7, displayed p. 105 | https://www.masaha.org/book/view/2060/page/105 | براہِ راست ثابت غیر نام زد زوجہ، مہر کی مختلف روایت اور بیماری میں بیٹے کو بلانے کی خبر
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | vol. 7, displayed p. 180, entry 3184 | https://www.masaha.org/book/view/2060/page/180 | نام زد بیٹا عبد اللہ بن مطرف اور والد سے پہلے وفات؛ اسی حصے میں غیلان بن جریر کے ذریعے مورق کی قید و رہائی کی روایت
Kitab al-Zuhd | Ahmad ibn Hanbal | report 1359, Mutarrif section | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1013/1358/index.php | نسل سے متعلق گواہ، گھر میں کھودی قبر، وہاں قرآن پڑھنا اور اسی قبر میں تدفین
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | vol. 4, Mutarrif ibn Abd Allah entry | https://islamweb.net/ar/library/content/60/520/ | فتنہ سے اجتناب، حروریہ کا سیاق، کوڑے کی روشنی کی مختلف صورتیں اور وسیع کلاسیکی قبولیت
Hilyat al-Awliya wa Tabaqat al-Asfiya | Abu Nu'aym al-Isfahani | vol. 2, Mutarrif, extraordinary reports | https://www.islamweb.net/ar/library/content/131/593/ | جھوٹے الزام والے دعا کی سند اور کوڑے یا روشنی سے متعلق متعدد غیر معمولی روایات
Al-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba | Ibn Hajar al-Asqalani | vol. 6, Mutarrif entry | https://ar.wikisource.org/wiki/صفحة:الإصابة_في_تمييز_الصحابة6.pdf/158 | تابعی درجہ، ابن حبان کی پیدائش والی خبر، ثقاہت، نواسی کی روایت اور مجابی الدعوۃ والے طریق پر حسن سند کی رائے
Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna wa al-Jama'a | Hibat Allah al-Lalaka'i | vol. 9, pp. 237-240, reports 171 onward | https://www.islamweb.net/ar/library/content/110/260/ | کرامات کے کلاسیکی باب میں جھوٹے الزام اور متعلقہ مطرف روایات مع اسانید
Sunan Abi Dawud / Sunan al-Nasa'i / Musnad Ahmad | Abu Dawud 904; al-Nasa'i 1214; Ahmad 16312/16326 variants | https://dorar.net/h/4FTyfcUF?osoul=1 | direct hadith-chain evidence Thabit al-Bunani -> Mutarrif -> his father Abd Allah describing the Prophet's weeping in prayer | ثابت بنانی سے مطرف پھر ان کے والد عبد اللہ تک براہِ راست حدیثی طریق؛ نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کی خبر
Tarikh Madinat Dimashq | Ibn Asakir | Mutarrif biography, displayed pp. 27171-27172 | https://kitab.habibur.com/dameshk/page/27141-27187/ | بادیہ کے السخیری میں بصرہ سے چند دن کی دوری پر رہائش؛ خادم، بیٹے یا رشتہ دار والے کوڑے کی روشنی کے مختلف طرق
Al-Bidaya wa al-Nihaya | Ibn Kathir | vol. 9, Mutarrif ibn Abd Allah biography | https://ar.wikisource.org/wiki/البداية_والنهاية/الجزء_التاسع/مطرف_بن_عبد_الله_بن_الشخير | بزرگ تابعی حیثیت، اقوال اور قبولِ دعا کی شہرت کی بعد کی کلاسیکی ترکیب
Project Central Registry Snapshot | current PERSON / miracle-candidate database | checked 2026-09-09 | internal Library corpus | محفوظ مرکزی شناخت؛ والد یا نام زد بیٹے کے لیے محفوظ مرکزی کوڈ نہیں؛ پرانی غلط معجزاتی ربط مسترد

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔