ابو نعیم اور لالکائی نے ایک ہراتی شخص کی روایت محفوظ کی ہے جو سحر سے پہلے زمزم کے پاس ایک بزرگ سے بار بار ملا۔ تین صبحوں میں اس گواہ نے باقی مشروب کا ذائقہ بالترتیب عمدہ بادام کے ستو، شہد ملے پانی اور شکر ملے دودھ جیسا بتایا۔ جب اس نے بزرگ کی شناخت پوچھی اور وفات تک نام ظاہر نہ کرنے کا وعدہ کیا تو روایت کے مطابق انہوں نے اپنا نام سفیان بن سعید ثوری رحمہ اللہ بتایا۔
ابو نعیم اور لالکائی ایک ہراتی شخص کا واقعہ محفوظ کرتے ہیں جو سحر سے پہلے زمزم کے مقام پر آیا کرتا تھا۔ وہاں اس کی ملاقات ایک بزرگ سے ہوئی جو خاموشی سے آتے، زمزم سے پانی نکالتے، پیتے اور کچھ مشروب باقی چھوڑ دیتے۔ ابتدا میں ہراتی شخص ان بزرگ کو نہیں پہچانتا تھا، مگر مسلسل صبحوں میں اسی وقت ان سے ملاقات نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی اور وہ ان کے باقی چھوڑے ہوئے مشروب کو دیکھنے لگا۔
پہلی صبح ہراتی شخص نے وہ باقی مشروب پیا تو اس کے بیان کے مطابق اس کا ذائقہ نہایت عمدہ بادام کے ستو جیسا تھا۔ اگلی صبح وہ دوبارہ زمزم پر آیا اور اسی بزرگ کو دیکھا۔ اس مرتبہ جب اس نے باقی مشروب چکھا تو اسے شہد ملے پانی جیسا ذائقہ محسوس ہوا۔ ایک ہی شخص کے ساتھ سحر کے وقت بار بار ہونے والی یہ ملاقات اب اس کے لیے ایک خاص اور یادگار تجربہ بن چکی تھی۔
تیسری صبح بھی ملاقات ہوئی۔ اس بار گواہ نے باقی مشروب کا ذائقہ شکر ملے دودھ جیسا بیان کیا۔ ابو نعیم کی روایت میں ایک اضافی تفصیل یہ بھی ہے کہ وہ مشروب اگلے مقررہ وقت تک اس کے لیے کافی رہا اور اس دوران اسے بھوک اور پیاس محسوس نہ ہوئی۔ یہ اضافہ ابو نعیم کی نقل سے مخصوص ہے، جبکہ تین مختلف صبحوں میں تین الگ ذائقوں کا ذکر واقعے کا مرکزی سلسلہ ہے۔
ان ملاقاتوں کے بعد ہراتی شخص نے بزرگ سے ان کی شناخت پوچھی۔ روایت میں ہے کہ بزرگ نے اپنا نام بتانے سے پہلے اس سے وعدہ لیا کہ وہ ان کی وفات تک یہ بات کسی کو نہیں بتائے گا۔ جب اس نے یہ وعدہ کرلیا تو بزرگ نے اپنا تعارف سفیان بن سعید کے نام سے کرایا۔ یوں روایت اس پراسرار زائر کو سفیان ثوری رحمہ اللہ کے طور پر شناخت کرتی ہے۔
حکایت اسی انکشاف پر ختم ہوتی ہے۔ اس کا یادگار سلسلہ سیدھا ہے: سحر سے پہلے زمزم پر بار بار ملاقات، تین صبحوں میں باقی مشروب کے تین مختلف ذائقے، اور آخر میں بزرگ کی شناخت کا ظاہر ہونا۔ ابو نعیم نے یہ واقعہ حلیۃ الاولیاء میں محفوظ کیا اور لالکائی نے بھی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے متعلق کرامات کے ضمن میں اسی بنیادی حکایت کو نقل کیا ہے۔
پہلی صبح ہراتی شخص نے وہ باقی مشروب پیا تو اس کے بیان کے مطابق اس کا ذائقہ نہایت عمدہ بادام کے ستو جیسا تھا۔ اگلی صبح وہ دوبارہ زمزم پر آیا اور اسی بزرگ کو دیکھا۔ اس مرتبہ جب اس نے باقی مشروب چکھا تو اسے شہد ملے پانی جیسا ذائقہ محسوس ہوا۔ ایک ہی شخص کے ساتھ سحر کے وقت بار بار ہونے والی یہ ملاقات اب اس کے لیے ایک خاص اور یادگار تجربہ بن چکی تھی۔
تیسری صبح بھی ملاقات ہوئی۔ اس بار گواہ نے باقی مشروب کا ذائقہ شکر ملے دودھ جیسا بیان کیا۔ ابو نعیم کی روایت میں ایک اضافی تفصیل یہ بھی ہے کہ وہ مشروب اگلے مقررہ وقت تک اس کے لیے کافی رہا اور اس دوران اسے بھوک اور پیاس محسوس نہ ہوئی۔ یہ اضافہ ابو نعیم کی نقل سے مخصوص ہے، جبکہ تین مختلف صبحوں میں تین الگ ذائقوں کا ذکر واقعے کا مرکزی سلسلہ ہے۔
ان ملاقاتوں کے بعد ہراتی شخص نے بزرگ سے ان کی شناخت پوچھی۔ روایت میں ہے کہ بزرگ نے اپنا نام بتانے سے پہلے اس سے وعدہ لیا کہ وہ ان کی وفات تک یہ بات کسی کو نہیں بتائے گا۔ جب اس نے یہ وعدہ کرلیا تو بزرگ نے اپنا تعارف سفیان بن سعید کے نام سے کرایا۔ یوں روایت اس پراسرار زائر کو سفیان ثوری رحمہ اللہ کے طور پر شناخت کرتی ہے۔
حکایت اسی انکشاف پر ختم ہوتی ہے۔ اس کا یادگار سلسلہ سیدھا ہے: سحر سے پہلے زمزم پر بار بار ملاقات، تین صبحوں میں باقی مشروب کے تین مختلف ذائقے، اور آخر میں بزرگ کی شناخت کا ظاہر ہونا۔ ابو نعیم نے یہ واقعہ حلیۃ الاولیاء میں محفوظ کیا اور لالکائی نے بھی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے متعلق کرامات کے ضمن میں اسی بنیادی حکایت کو نقل کیا ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
واقعہ اس پر ختم ہوتا ہے کہ تین صبحوں کی ملاقات اور تین منقول ذائقوں کے بعد بزرگ نے اپنا تعارف سفیان ثوری رحمہ اللہ کے طور پر کرایا۔
مآخذ
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya, report 9924: Herati witness enters Zamzam at dawn
Abu Nu'aym, report 9924: first leftover described as almond sawiq
Abu Nu'aym, report 9924: second leftover described as water mixed with honey
Abu Nu'aym, report 9924: third leftover described as milk mixed with sugar
Abu Nu'aym, report 9924: concealed man identifies himself as Sufyan ibn Sa'id
Abu Nu'aym, report 9924: route-specific addition that the drink sufficed until the next time without hunger or thirst
al-Lalaka'i preserves the same three-morning Zamzam story through Abd al-Rahman ibn Ya'qub ibn Ishaq al-Makki and a truthful shaykh from Herat
Abu Nu'aym's route names the Herati witness as Abd Allah al-Harawi and passes through Abd al-Rahman ibn Ya'qub ibn Ishaq al-Makki
al-Lu'lu' al-Munazzam fi Fadl Ma' Zamzam, pp. 226-227: 'وقد وردت قصة مشابهة لسفيان الثوري إلا أن إسنادها لا يثبت' and identifies Abd al-Rahman ibn Ya'qub and his informant as unknown
CAND-0179 Task 1 V2.0 evidence synthesis from verified source layers