قشیری نے محمد بن منصور طوسی سے ایک روایت محفوظ کی ہے کہ انہوں نے معروف کرخی رحمہ اللہ کو ایک دن دیکھا اور اگلے دن واپس آئے تو ان کے چہرے پر تازہ نشان پایا۔ پہلے اس کی وضاحت سے گریز کے بعد معروف نے مبینہ طور پر بتایا کہ گزشتہ رات نماز پڑھنے کے بعد ان کے دل میں بیت اللہ کا طواف کرنے کی خواہش ہوئی، وہ مکہ گئے، طواف کیا، پھر زمزم کی طرف جاتے ہوئے پھسل گئے جس سے چہرے پر چوٹ آئی۔ خطیب بغدادی اسی بنیادی واقعے کو ایک مختلف بالائی سند سے محفوظ کرتے ہیں اور ذہبی بعد میں اسے دہراتے ہیں۔ مشترک براہ راست شاہد معتبر ہے، مگر غیر معمولی سفر کو قطعی تاریخی حقیقت کے بجائے منقول کرامت ہی سمجھنا چاہیے۔
معروف نے ابتدا میں اس نشان کی وجہ بتانا پسند نہیں کیا۔ روایت کے مطابق انہوں نے سوال کرنے والے سے کہا کہ وہ ایسی بات پوچھے جو اس کے کام کی ہو۔ پھر جب سوال پر اصرار کیا گیا اور قسم کے ساتھ پوچھا گیا تو انہوں نے وضاحت دی۔ یہ ہچکچاہٹ بھی اسی محفوظ بیان کا حصہ ہے اور غیر معمولی دعوے سے پہلے آتی ہے۔
اس کے بعد معروف سے منقول ہے کہ گزشتہ رات انہوں نے اپنے مقام پر نماز پڑھی اور ان کے دل میں بیت اللہ کا طواف کرنے کی خواہش ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ مکہ گئے اور طواف کیا۔ پھر زمزم کا پانی پینے کے لیے اس کی طرف بڑھے تو اس کے داخلے کے پاس پھسل گئے اور چہرے پر چوٹ آئی۔ روایت میں اگلے دن دیکھا جانے والا تازہ نشان اسی بیان کردہ سفر کے انکشاف کا ظاہری سبب بنتا ہے۔
قشیری اس واقعے کو ایک نامزد سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں جو محمد بن منصور طوسی پر ختم ہوتی ہے۔ خطیب بغدادی اسی بنیادی روایت کو ایک دوسری بالائی سند سے محفوظ کرتے ہیں، لیکن وہ بھی آخرکار محمد بن منصور ہی پر جمع ہوتی ہے۔ ذہبی نے بعد میں یہ حکایت درج کی۔ اس طرح مختلف بالائی نقلیں کلاسیکی تحفظ کی وسعت دکھاتی ہیں، اگرچہ معروف کے بیان کے براہ راست شاہد کے لحاظ سے سب کا مدار آخر میں ایک ہی شخص پر رہتا ہے۔
خود اس شاہد کے لیے معنی خیز سوانحی تائید موجود ہے۔ رجال کے ماخذ محمد بن منصور کو ثقہ بتاتے ہیں، اور ان کے تذکرے میں معروف کرخی ان لوگوں میں درج ہیں جن سے انہوں نے روایت کی۔ اس سے دونوں کے براہ راست رابطے کی تائید ہوتی ہے اور واقعے کی فوری شاہدی سطح کسی بے نام حکایت کے مقابلے میں مضبوط ہوتی ہے۔
تاہم یہ شواہد یہ ثابت نہیں کرتے کہ غیر معمولی سفر کس طریقے سے ہوا، اور پہلے تحقیقی مرحلے میں مکمل اسانید کے لیے کوئی رسمی قطعی تصحیح مقرر نہیں ہوئی۔ اس لیے محتاط عوامی نتیجہ یہ ہے کہ کلاسیکی سنی ماخذ ایک روایت محفوظ کرتے ہیں جس میں معروف نے چہرے کے تازہ نشان کی وضاحت یہ بتا کر کی کہ وہ گزشتہ رات مکہ گئے، طواف کیا اور زمزم کے قریب پھسل گئے تھے۔ روایت کو درمیانے اعتماد کے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے، مگر سفر کا طریقہ، رفتار یا یقینی فوق العادت نظام خود سے گھڑنا درست نہیں۔
خلاصۂ نتیجہ
کلاسیکی سنی ماخذ ایک روایت محفوظ کرتے ہیں جس میں معروف کرخی رحمہ اللہ اپنے چہرے کے تازہ نشان کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ گزشتہ رات مکہ گئے، طواف کیا اور زمزم کے قریب پھسل گئے تھے۔ معتبر مشترک شاہد اور متعدد کلاسیکی نقلیں درمیانے اعتماد کے ساتھ احتیاطی شمولیت کو سہارا دیتی ہیں، مگر غیر معمولی سفر کو کسی ثابت شدہ طریقۂ انتقال یا قطعی تاریخی یقین کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔