صحیح بخاری میں خیبر کے دن یہ واقعہ محفوظ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جھنڈا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں فتح دی۔ بابِ خیبر کا واقعہ ابو رافع کی ایک الگ روایت میں آتا ہے، جو مسند احمد اور دلائل النبوۃ للبیہقی میں محفوظ ہے۔ اس کے مطابق لڑائی کے دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ڈھال ہاتھ سے نکل گئی تو آپ نے قلعے کا ایک دروازہ لے کر اسے ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور فتح تک لڑتے رہے۔ اسی روایت میں بعد میں ابو رافع اور سات دوسرے آدمیوں، یعنی کل آٹھ افراد، کے اس دروازے کو پلٹ نہ سکنے کا ذکر بھی ہے۔ چالیس اور ستر آدمیوں والی صورتیں الگ روایات ہیں اور یہاں ابو رافع کے واقعے کے ساتھ نہیں ملائی گئیں۔
دروازے کا واقعہ ابو رافع سے منقول ایک الگ روایت میں آتا ہے۔ اس روایت کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ قلعے کے قریب لڑ رہے تھے کہ آپ کی ڈھال ہاتھ سے نکل گئی۔ عین معرکے کے دوران آپ نے قلعے کا ایک دروازہ لے لیا اور اسے اپنی ڈھال کی جگہ استعمال کرنا شروع کردیا۔ آپ اسی دروازے کو سامنے رکھ کر لڑتے رہے، یہاں تک کہ فتح حاصل ہوئی۔
لڑائی ختم ہونے کے بعد روایت بیان کرتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہ دروازہ زمین پر ڈال دیا۔ اس کے بعد ابو رافع خود ایک حیرت انگیز منظر بیان کرتے ہیں: وہ اور سات دوسرے آدمی، یعنی مجموعی طور پر آٹھ افراد، اس دروازے کے پاس گئے اور اسے پلٹنے کی کوشش کی، لیکن وہ اسے پلٹ نہ سکے۔ یوں حکایت میں دروازے کو ڈھال بنانے کے ساتھ آٹھ آدمیوں کا اسے بعد میں نہ پلٹ سکنا بھی ایک نمایاں حصہ بن جاتا ہے۔
ابو رافع کی یہ روایت مسند احمد میں محفوظ ہے اور امام بیہقی نے بھی اسے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے۔ واقعہ مختصر اور مسلسل ترتیب میں سامنے آتا ہے: ڈھال ہاتھ سے نکلتی ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ قلعے کا دروازہ لے لیتے ہیں، اسے ڈھال بنا کر جنگ جاری رکھتے ہیں، فتح ہوتی ہے اور پھر دروازہ زمین پر ڈال دیا جاتا ہے۔
بابِ خیبر کے بارے میں دوسری کلاسیکی روایات میں اس سے بڑے اعداد بھی منقول ہیں۔ ایک روایت میں چالیس آدمیوں اور دوسری میں ستر آدمیوں کا ذکر آتا ہے۔ وہ الگ صورتیں ہیں، اس لیے انہیں ابو رافع کی روایت کے ساتھ جوڑ کر ایک ہی واقعہ نہیں بنایا گیا۔ یہاں آٹھ آدمیوں کی تفصیل صرف اسی روایت کے ساتھ رکھی گئی ہے جس میں ابو رافع خود بعد کا منظر بیان کرتے ہیں۔
یوں عوامی حکایت کا مرکزی واقعہ صاف رہتا ہے: خیبر میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ ڈھال ہاتھ سے نکلنے کے بعد انہوں نے قلعے کا ایک دروازہ اٹھایا، اسے لڑائی میں ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور فتح کے بعد زمین پر ڈال دیا۔ ابو رافع کی روایت پھر اس منظر پر ختم ہوتی ہے کہ آٹھ آدمی مل کر بھی اس دروازے کو پلٹ نہ سکے۔
خلاصۂ نتیجہ
اس منقول کرامت کا نمایاں منظر بابِ خیبر ہے: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قلعے کے دروازے کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جبکہ روایت کے مطابق بعد میں آٹھ آدمی اسے پلٹ نہ سکے۔