حضرت علی رضی اللہ عنہ اور بابِ خیبر

ولی یا صالح کی کرامتتاریخی نتیجہقدیم تاریخ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

صحیح بخاری میں خیبر کے دن یہ واقعہ محفوظ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جھنڈا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں فتح دی۔ بابِ خیبر کا واقعہ ابو رافع کی ایک الگ روایت میں آتا ہے، جو مسند احمد اور دلائل النبوۃ للبیہقی میں محفوظ ہے۔ اس کے مطابق لڑائی کے دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ڈھال ہاتھ سے نکل گئی تو آپ نے قلعے کا ایک دروازہ لے کر اسے ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور فتح تک لڑتے رہے۔ اسی روایت میں بعد میں ابو رافع اور سات دوسرے آدمیوں، یعنی کل آٹھ افراد، کے اس دروازے کو پلٹ نہ سکنے کا ذکر بھی ہے۔ چالیس اور ستر آدمیوں والی صورتیں الگ روایات ہیں اور یہاں ابو رافع کے واقعے کے ساتھ نہیں ملائی گئیں۔

بابِ خیبر کی مشہور حکایت خیبر کی فتح کے ایک معروف پس منظر سے جڑی ہوئی ہے۔ صحیح بخاری میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جھنڈا ایسے شخص کو دیا جائے گا جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا۔ پھر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا، رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھ پر اپنا لعاب مبارک لگایا، جھنڈا ان کے حوالے کیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی۔

دروازے کا واقعہ ابو رافع سے منقول ایک الگ روایت میں آتا ہے۔ اس روایت کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ قلعے کے قریب لڑ رہے تھے کہ آپ کی ڈھال ہاتھ سے نکل گئی۔ عین معرکے کے دوران آپ نے قلعے کا ایک دروازہ لے لیا اور اسے اپنی ڈھال کی جگہ استعمال کرنا شروع کردیا۔ آپ اسی دروازے کو سامنے رکھ کر لڑتے رہے، یہاں تک کہ فتح حاصل ہوئی۔

لڑائی ختم ہونے کے بعد روایت بیان کرتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وہ دروازہ زمین پر ڈال دیا۔ اس کے بعد ابو رافع خود ایک حیرت انگیز منظر بیان کرتے ہیں: وہ اور سات دوسرے آدمی، یعنی مجموعی طور پر آٹھ افراد، اس دروازے کے پاس گئے اور اسے پلٹنے کی کوشش کی، لیکن وہ اسے پلٹ نہ سکے۔ یوں حکایت میں دروازے کو ڈھال بنانے کے ساتھ آٹھ آدمیوں کا اسے بعد میں نہ پلٹ سکنا بھی ایک نمایاں حصہ بن جاتا ہے۔

ابو رافع کی یہ روایت مسند احمد میں محفوظ ہے اور امام بیہقی نے بھی اسے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے۔ واقعہ مختصر اور مسلسل ترتیب میں سامنے آتا ہے: ڈھال ہاتھ سے نکلتی ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ قلعے کا دروازہ لے لیتے ہیں، اسے ڈھال بنا کر جنگ جاری رکھتے ہیں، فتح ہوتی ہے اور پھر دروازہ زمین پر ڈال دیا جاتا ہے۔

بابِ خیبر کے بارے میں دوسری کلاسیکی روایات میں اس سے بڑے اعداد بھی منقول ہیں۔ ایک روایت میں چالیس آدمیوں اور دوسری میں ستر آدمیوں کا ذکر آتا ہے۔ وہ الگ صورتیں ہیں، اس لیے انہیں ابو رافع کی روایت کے ساتھ جوڑ کر ایک ہی واقعہ نہیں بنایا گیا۔ یہاں آٹھ آدمیوں کی تفصیل صرف اسی روایت کے ساتھ رکھی گئی ہے جس میں ابو رافع خود بعد کا منظر بیان کرتے ہیں۔

یوں عوامی حکایت کا مرکزی واقعہ صاف رہتا ہے: خیبر میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ ڈھال ہاتھ سے نکلنے کے بعد انہوں نے قلعے کا ایک دروازہ اٹھایا، اسے لڑائی میں ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور فتح کے بعد زمین پر ڈال دیا۔ ابو رافع کی روایت پھر اس منظر پر ختم ہوتی ہے کہ آٹھ آدمی مل کر بھی اس دروازے کو پلٹ نہ سکے۔

خلاصۂ نتیجہ

اس منقول کرامت کا نمایاں منظر بابِ خیبر ہے: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قلعے کے دروازے کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جبکہ روایت کے مطابق بعد میں آٹھ آدمی اسے پلٹ نہ سکے۔

مآخذ

Sahih al-Bukhari 4210, Kitab al-Maghazi, Bab Ghazwat Khaybar
Musnad Ahmad 23858
Al-Bayhaqi, Dala'il al-Nubuwwah, vol. 4, p. 212
Musnad Ahmad 23858
Al-Haythami, Majma al-Zawa'id, vol. 6, p. 155
Ibn Hajar al-Asqalani, Muwafaqat al-Khabar al-Khabar, vol. 1, p. 193
Ibn Kathir, al-Bidaya wa al-Nihaya, Khaybar section
Shu'ayb al-Arna'ut, takhrij of Musnad Ahmad 23858
Al-Bayhaqi, Dala'il al-Nubuwwah, vol. 4, p. 212
Ibn Abi Shayba, al-Musannaf 32802
Al-Sakhawi, al-Maqasid al-Hasana, p. 230
Ibn Hajar al-Asqalani, Lisan al-Mizan, vol. 5, p. 484
Ibn Hajar al-Asqalani, al-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba, vol. 7, pp. 279-280
Al-Mufid, al-Irshad, Mu'assasat Aal al-Bayt edition, p. 129
CAND-0081 Task 1 cross-source evidence synthesis