حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی دعا اور ایک شخص کی بینائی چلی جانے کی روایت

ولی یا صالح کی کرامتالٰہی عذابدعا کی قبولیتتاریخی نتیجہبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

امام لالکائی نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی کرامات کے ضمن میں ایک روایت نقل کی ہے جس میں ایک شخص نے آپ کے سامنے کسی حدیث یا بات میں اختلاف کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انہیں گمان ہے کہ اس شخص نے جھوٹ کہا ہے، پھر پوچھا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو کیا اس کے خلاف اللہ سے دعا کریں۔ اس شخص نے دعا کرنے کو کہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دعا کی، اور روایت کے مطابق وہ مجلس سے جانے سے پہلے نابینا ہوگیا۔ ابن ابی الدنیا، طبرانی اور فضائل الصحابہ میں بھی اسی بنیادی واقعے کی صورتیں محفوظ ہیں۔

امام لالکائی نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی کرامات سے متعلق روایات میں ایک نمایاں واقعہ نقل کیا ہے۔ قصہ ایک شخص سے شروع ہوتا ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے کوئی حدیث یا بات بیان کرتا ہے۔ گفتگو اس وقت سنجیدہ ہوجاتی ہے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے کہتے ہیں کہ انہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے سچ نہیں کہا۔ وہ شخص اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹتا اور روایت دعا سے متعلق ایک آزمائش کی طرف بڑھتی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ اس شخص سے پوچھتے ہیں کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو کیا آپ اس کے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ روایت کے مطابق اس نے جواب دیا کہ دعا کریں۔ اصل نقل میں دعا کے کوئی مخصوص الفاظ محفوظ نہیں، اس لیے واقعے میں اپنی طرف سے کوئی عبارت شامل نہیں کی جاتی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں

اس کے فوراً بعد روایت کا غیر معمولی حصہ سامنے آتا ہے۔ بیان کیا گیا ہے کہ وہ شخص مجلس سے ابھی نکلا بھی نہ تھا کہ اس کی بینائی چلی گئی۔ کلاسیکی نقل میں ترتیب واضح ہے: ایک بات پر اختلاف، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اسے جھوٹا قرار دینا، اس شخص کا دعا کی آزمائش قبول کرنا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دعا، اور پھر مجلس سے رخصت ہونے سے پہلے نابینا ہوجانے کا ذکر۔

ابن ابی الدنیا نے مجاب الدعوۃ میں اسی بنیادی واقعے کو محفوظ کیا ہے۔ امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں اسے نقل کیا، جبکہ امام احمد کی فضائل الصحابہ میں بھی اس سے متعلق ایک صورت موجود ہے جس میں رحبہ کا ذکر آتا ہے۔ ان نقلوں میں کچھ فرق ہے، لیکن مرکزی واقعہ ایک ہی رہتا ہے: اختلاف یا انکار، دعا کی پیش کش اور قبولیت، پھر بینائی چلی جانے کا منقول نتیجہ۔

امام لالکائی کی نقل مختصر ہے۔ اس میں دعا کے مخصوص الفاظ، نابینا ہونے کے طریقے کی تفصیل یا اس شخص کے بعد کے حالات بیان نہیں ہوئے۔ روایت مجلس کی گفتگو، اس شخص کی بات کے سچ یا جھوٹ ہونے سے متعلق دعا کی پیش کش، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دعا اور فوراً سامنے آنے والے نتیجے تک محدود رہتی ہے۔ اسی حد میں واقعہ اپنی اصل منقول صورت برقرار رکھتا ہے۔

واقعہ اسی مقام پر مکمل ہوجاتا ہے۔ ایک شخص حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنی متنازع بات پر قائم رہا، آپ نے فرمایا کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے خلاف دعا کریں، اس نے دعا کی اجازت دی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ سے دعا کی، اور روایت کے مطابق وہ شخص مجلس سے نکلنے سے پہلے اپنی بینائی کھو بیٹھا۔ یہی مختصر ترتیب کلاسیکی روایات میں اس کرامت کے طور پر محفوظ ہوئی۔

خلاصۂ نتیجہ

روایت اسی واضح ترتیب پر ختم ہوتی ہے: متنازع بات، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی دعا، اور مجلس سے نکلنے سے پہلے اس شخص کی بینائی چلی جانے کا منقول واقعہ۔

مآخذ

Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 26
al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna wa al-Jama'a, vol. 9 p. 134, report 73
al-Tabarani, al-Mu'jam al-Awsat, vol. 2 p. 219, report 1791
Ahmad ibn Hanbal, Fada'il al-Sahaba, report 869
al-Haythami, Majma' al-Zawa'id, vol. 9 p. 119, on al-Tabarani al-Awsat 1791