امام آجری نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے آخری ایام سے متعلق ایک روایت محفوظ کی ہے جس میں آپ نے نبی اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھا اور اپنی قوم کی طرف سے پیش آنے والی سختی اور کشمکش کا ذکر کیا۔ روایت کے مطابق نبی ﷺ نے آپ کو دعا کرنے کا فرمایا، جس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ سے دعا کی کہ ان لوگوں کے بدلے انہیں بہتر لوگ عطا ہوں اور ان کے بدلے ان پر ایسا شخص آئے جو ان سے بدتر ہو۔ اس کے بعد روایت براہِ راست صبح کی نماز کے وقت پہنچتی ہے، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور آپ پر حملہ ہوا۔ اسی بنیادی واقعے کی مختصر صورت ابن ابی الدنیا اور لالکائی نے بھی نقل کی ہے۔
خواب کا اگلا حصہ شکایت سے دعا کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ دعا کریں۔ اس پر آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان لوگوں کے بدلے انہیں ایسے لوگ عطا فرمائے جو ان سے بہتر ہوں، اور ان کے بدلے ان لوگوں پر ایسا شخص لائے جو ان سے بدتر ہو۔ یہ دعا اسی آخری رات کے واقعات میں بیان ہوئی ہے اور روایت اسے اگلی صبح کے منظر سے جوڑ دیتی ہے۔
صبح ہوئی تو واقعہ نماز کے ماحول میں داخل ہوتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور لوگوں کو فجر کی نماز کے لیے پکارا۔ خواب کی خاموش فضا سے اچانک قصہ ایک عوامی اور فیصلہ کن لمحے میں پہنچ جاتا ہے۔ اسی وقت آپ پر حملہ ہوا۔ یوں خواب، دعا اور صبح کا حملہ روایت میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے آخری واقعات کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
اس حکایت کی اصل تاثیر اسی ترتیب میں ہے۔ پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھتے ہیں اور اپنے حالات بیان کرتے ہیں۔ پھر آپ کو دعا کی ہدایت ملتی ہے اور آپ وہ دعا کرتے ہیں جسے روایت نے محفوظ کیا۔ اس کے کچھ ہی بعد آپ نماز کے لیے باہر نکلتے ہیں اور حملہ پیش آتا ہے۔ اس طرح خواب کو الگ واقعے کے بجائے آخری صبح سے براہِ راست جڑی ہوئی یاد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
اسی بنیادی قصے کی مختصر صورت ابن ابی الدنیا اور امام لالکائی نے بھی نقل کی ہے۔ لالکائی نے اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کرامات سے متعلق مواد میں ذکر کیا۔ بعد کے تاریخی اور سوانحی مصنفین نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے آخری دن کے ساتھ اس خواب کا ذکر محفوظ کیا، لیکن یہاں عوامی کہانی امام آجری کی مفصل ترتیب کے مطابق رکھی گئی ہے۔
اس ترتیب سے واقعہ بالکل واضح رہتا ہے: نبی اکرم ﷺ کا خواب میں دیدار، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت، دعا کی ہدایت، آپ کی دعا، اور پھر وہ فجر جس میں آپ باہر نکلے اور حملے کا سامنا کیا۔ یہی مناظر اس روایت کا مرکزی قصہ بناتے ہیں۔
خلاصۂ نتیجہ
روایت کا اختتام اس منظر پر ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خواب اور دعا کے بعد فجر کی نماز کے لیے باہر نکلتے ہیں اور پھر اس حملے کا سامنا کرتے ہیں جو آپ کے آخری ایام سے جڑا ہوا ہے۔