مصنف ابن ابی شیبہ کی ایک قدیم روایت کے مطابق حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ قبیلہ مراد سے منسوب ایک علاقے میں زیر تعمیر مکان کے قریب سے گزرے تو اینٹ یا تعمیراتی سامان کا ایک ٹکڑا گر کر آپ کے سر پر لگا اور زخم آیا۔ پھر روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ یہ عمارت مکمل نہ ہو، اور بعد کے الفاظ میں آتا ہے کہ اس پر مزید اینٹ نہ رکھی گئی اور وہ مکمل گھروں جیسی نہ رہی۔ سند محمد بن بشر سے ابو مکین اور ان کے ماموں ابو امیہ تک جاتی ہے۔ ابو مکین کی ثقاہت اچھی طرح منقول ہے جبکہ ابو امیہ کے رجال سے متعلق مواد محدود ہے۔ بعد کے کلاسیکی مصادر بھی بنیادی طور پر اسی سندی خاندان کو محفوظ کرتے ہیں، اس لیے واقعے کو بلا قید صحیح تاریخی حقیقت کے بجائے سندی احتیاط کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔
اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دعا منقول ہے کہ عمارت مکمل نہ ہو۔ کلاسیکی روایت کے اگلے حصے میں آتا ہے کہ اس کے بعد مزید اینٹ نہ رکھی گئی اور عمارت مکمل گھروں جیسی حالت تک نہ پہنچی۔ یوں ترتیب ہے: اتفاقی چوٹ، دعا، اور پھر تعمیر رک جانے کا منقول نتیجہ۔
سب سے قدیم براہ راست جانچ شدہ ماخذ مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت نمبر ۳۲۸۰۵ ہے۔ سند محمد بن بشر سے ابو مکین، یعنی نوح بن ربیعہ، اور ان سے ان کے ماموں ابو امیہ تک جاتی ہے۔ ابن ابی الدنیا نے مجاب الدعوۃ میں محمد بن بشر اور ابو مکین کے ذریعے یہی واقعہ محفوظ کیا۔ لالکائی نے اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کرامات میں شامل کیا، جبکہ ابن عساکر اور ابن کثیر نے بھی نقل کیا۔ یہ کلاسیکی قبولیت دکھاتا ہے، مگر زیادہ تر اسی سندی خاندان پر منحصر ہے اور متعدد آزاد سندیں نہیں دیتا۔
راویوں کے بارے میں مواد موجود مگر یکساں نہیں۔ ابو مکین کی رجال کی کتابوں میں اچھی توثیق ملتی ہے؛ احمد بن حنبل، ابن معین اور یحییٰ القطان سے ان کی ثقاہت منقول ہے۔ ان کے ماموں ابو امیہ کو بخاری اور ابن ابی حاتم نے شریح ابو امیہ کے نام سے پہچانا، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھنے والے تھے اور جن سے ابو مکین نے روایت کی۔ ابن حبان نے انہیں ثقہ افراد میں ذکر کیا، لیکن ان کا سوانحی اور رجالی مواد نسبتاً کم ہے۔ یہی کمی احتیاط کی ایک وجہ ہے۔
عوامی بیان کی حدود واضح رہنی چاہییں۔ جانچ شدہ شواہد تعمیر کو صرف قبیلہ مراد سے منسوب علاقے میں رکھتے ہیں، اس لیے کوئی زیادہ دقیق جدید مقام خود سے نہ بنایا جائے۔ عمارت کے نامکمل رہنے کے الفاظ منقول تاریخی منظر سے متعلق ہیں؛ انہیں یہ دعویٰ نہ بنایا جائے کہ عمارت تمام بعد کی تاریخ میں کبھی تبدیل نہیں ہوئی۔ گرنے والے سامان سے چوٹ کو بھی کسی ماخذ کے بغیر دانستہ حملہ نہ کہا جائے۔
محتاط نتیجہ یہ ہے کہ ایک قدیم سنی سند حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تعمیراتی سامان سے زخمی ہونے، عمارت مکمل نہ ہونے کی دعا کرنے، اور پھر روایت کے مطابق تعمیر رک جانے کا ذکر کرتی ہے۔ کلاسیکی مصنفین نے اسے کرامت کے طور پر نقل کیا، لیکن شواہد بنیادی طور پر ایک ہی سندی خاندان پر قائم ہیں اور ابو امیہ کے بارے میں رجال کی تفصیل محدود ہے۔ اس لیے اسے بلا قید صحیح یقین کے بجائے احتیاط سے پیش کرنا چاہیے۔
خلاصۂ نتیجہ
کلاسیکی سنی مصادر میں روایت محفوظ ہے کہ تعمیراتی سامان گرنے سے حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے، آپ نے عمارت مکمل نہ ہونے کی دعا کی، اور منقول دور میں تعمیر نامکمل رہی۔ سند میں قابل ذکر تائید موجود ہے لیکن یہ بنیادی طور پر ایک ہی روایت خاندان ہے، اس لیے اسے درمیانے اعتماد کی منقول کرامت کے طور پر احتیاط کے ساتھ پیش کرنا بہتر ہے۔