وہ درخت جو نبی ﷺ کے حکم پر آیا، تین مرتبہ گواہی دی اور اپنی جگہ واپس چلا گیا

نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیمخالفین پر حجتصحیح حدیث
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

حضرت ابن عمرؓ سے منقول ایک مضبوط کلاسیکی روایت میں آتا ہے کہ سفر کے دوران ایک بدوی نبی محمد ﷺ سے ملا اور آپ کی دعوت پر گواہ طلب کیا۔ نبی ﷺ نے وادی کے کنارے ایک درخت کو بلایا؛ وہ آپ ﷺ کے پاس آیا، تین مرتبہ آپ کی سچائی کی گواہی دی اور پھر اپنی جگہ واپس چلا گیا۔ ابن کثیر نے اس سند کو جید کہا، ہیثمی نے اس کے راویوں کو صحیح کے راوی قرار دیا، اور ابن حبان نے اسے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ رکانہ سے متعلق الگ قصہ مرسل ہے۔

اس معجزے کی زیادہ مضبوط صورت ایک سفر کے دوران شروع ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر میں تھے کہ ایک بدوی قریب آیا۔ نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کہاں جارہے ہو، پھر اسے اس بات کی دعوت دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔

بدوی نے فوراً قبول کرنے کے بجائے سوال کیا: آپ جو کہتے ہیں، اس پر گواہ کون ہے؟ نبی ﷺ نے وادی کے کنارے موجود ایک درخت کی طرف اشارہ فرمایا اور بتایا کہ یہی گواہی دے گا۔

یہاں غیر معمولی منظر سامنے آیا۔ نبی ﷺ نے درخت کو بلایا۔ روایت کہتی ہے کہ وہ اپنی جگہ سے چلا، زمین میں راستہ بناتا ہوا آگے آیا اور نبی ﷺ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ ابن حبان، دارمی اور دوسرے محدثین کے محفوظ الفاظ میں درخت کے واقعی اپنی جگہ سے آنے کا واضح بیان ہے۔

پھر نبی ﷺ نے درخت سے اپنی بات کی گواہی طلب کی۔ روایت کے مطابق آپ ﷺ نے تین مرتبہ اسے گواہ بنایا اور اس نے تین مرتبہ شہادت دی کہ نبی ﷺ اپنی بات میں سچے ہیں۔ گواہی کے بعد اسے واپس جانے کا حکم دیا گیا اور وہ اسی جگہ لوٹ گیا جہاں سے آیا تھا۔

بدوی کا ردعمل واقعے کو خوبصورت انجام دیتا ہے۔ وہ صرف حیران ہوکر نہیں گیا۔ وہ اپنی قوم کی طرف لوٹا اور اس مفہوم کی بات کہی کہ اگر وہ میری بات مان گئے تو میں انہیں آپ ﷺ کے پاس لے آؤں گا، اور اگر نہ مانے تو میں خود واپس آکر آپ ﷺ کے ساتھ رہوں گا۔ جس شخص نے ابتدا میں گواہ مانگا تھا، وہ آخر میں دعوت اپنی قوم تک لے جانے کے ارادے کے ساتھ روانہ ہوا۔

اس ابن عمرؓ والی روایت کو محدثین کی مضبوط تائید حاصل ہے۔ ابن کثیر نے اسے نقل کرکے سند کو «جید» کہا۔ ہیثمی نے اس کے راویوں کو صحیح کے راوی قرار دیا، سیوطی نے سند کو صحیح لکھا، اور ابن حبان نے اسے اپنی صحیح میں درج کیا۔ دارمی اور بیہقی بھی یہی واقعہ قریب الفاظ میں روایت کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ مکہ میں رکانہ سے متعلق ایک الگ مشہور قصہ بھی منقول ہے جس میں نبی ﷺ ایک درخت کو بلاتے ہیں، وہ آتا ہے اور حکم پر واپس چلا جاتا ہے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ابن اسحاق نے رکانہ کا یہی مخصوص قصہ مرسل نقل کیا۔ اس لیے دونوں روایتوں کو ایک نہیں بنانا چاہیے۔

سب سے مضبوط بیان یہی ہے: ایک بدوی نے گواہ مانگا، نبی ﷺ نے درخت کو بلایا، وہ حاضر ہوا، تین مرتبہ گواہی دی، اپنی جگہ لوٹ گیا، اور سوال کرنے والا شخص اپنی قوم تک دعوت لے جانے کے ارادے کے ساتھ واپس ہوا۔

خلاصۂ نتیجہ

حیثیتِ روایت: نبی ﷺ کے حکم پر درخت کے آنے اور رسالت کی گواہی دینے کا وسیع تر معجزہ ابن عمرؓ کی الگ روایت سے مضبوط طور پر مؤید ہے۔ سب سے قابلِ اعتماد قصہ یہی ہے کہ درخت وادی کے کنارے سے آیا، تین مرتبہ گواہی دی، اپنی جگہ واپس گیا اور بدوی اپنی قوم تک دعوت پہنچانے کے ارادے کے ساتھ لوٹا۔

مآخذ

Ibn Kathir, al-Bidaya wa'l-Nihaya, vol. 4, pp. 255-256

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-01 and independently verified Ibn Kathir, al-Bidaya wa'l-Nihaya, vol. 4 pp. 255-256. The Rukana sequence explicitly gives the Prophet calling a visible tree, the tree coming until it stood before him, and returning to its place on command. Ibn Kathir explicitly states that Ibn Ishaq transmitted this exact story mursal with this wording.

Ibn Kathir, al-Bidaya wa'l-Nihaya, vol. 8, p. 678, Bab Inqiyad al-Shajar

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_GRADING_CONFIRMATION: linked to CLM-05 and independently verified Ibn Kathir's Ibn Umar tree-testimony route in the chapter on tree obedience. The report gives the Bedouin's request for a witness, the tree coming from the side of the valley, threefold testimony, and return to its place. Ibn Kathir explicitly calls this chain isnad jayyid and notes that it was not narrated by Ahmad.

Sahih Ibn Hibban 6505

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-04 and independently verified Sahih Ibn Hibban 6505, vol. 14 p. 434. It explicitly gives the Ibn Umar journey setting, a Bedouin asking for a witness, the tree coming from the valley side, testifying three times that the Prophet was as he said, and returning to its place.

Ibn Hisham, al-Sira al-Nabawiyya, vol. 1, p. 391

V3_TASK_4_SAME_TRADITION_CONFIRMATION: linked as additional same-Ibn-Ishaq-tradition support for CLM-01. Ibn Hisham vol. 1 p. 391 preserves the Rukana story with the tree coming to the Prophet and returning on command. This is not treated as an independent isnad.

Ibn Kathir, al-Bidaya wa'l-Nihaya, vol. 4, pp. 255-256

V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: direct Ibn Kathir vol. 4 pp. 255-256 row added for CLM-02. The Rukana story explicitly says the Prophet commanded the tree to return to its place and it returned.

Ibn Kathir, al-Bidaya wa'l-Nihaya, vol. 4, pp. 255-256

V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: direct Ibn Kathir vol. 4 pp. 255-256 row added for CLM-03. Ibn Kathir explicitly calls this exact Ibn Ishaq Rukana sequence mursal and separately notes stronger tree-coming reports on other occasions. The broader strength is not transferred into the exact Rukana chain.

Sahih Ibn Hibban 6505

V3_TASK_4_COLLECTION_STATUS_LINK: Sahih Ibn Hibban 6505 linked directly to CLM-05 as the collection-status half of the grading claim. Ibn Hibban includes the Ibn Umar tree-testimony report in his Sahih; Ibn Kathir's own isnad-jayyid judgment remains separately linked through SRC-02.