حضرت ابن عمرؓ سے منقول مشہور روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک پکارے: «اے ساریہ، پہاڑ!» بعد میں لشکر کے قاصد نے بتایا کہ مسلمان سخت دباؤ میں تھے، اسی وقت انہوں نے یہی ندا سنی، پہاڑ کو اپنی پشت کی طرف کرکے پوزیشن بدلی اور پھر اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔ ابن حجر نے بنیادی سند کو حسن اور ابن کثیر نے بھی جید حسن کہا ہے۔
امام بیہقی کے محفوظ کردہ ابن عمرؓ کے طریق کے مطابق حضرت عمرؓ نے خطبے کے دوران یکایک پکارا: «یا ساریۃ، الجبل!» یعنی «اے ساریہ، پہاڑ!» الفاظ میدانِ جنگ کی فوری تدبیر معلوم ہوتے ہیں کہ پہاڑ کو حفاظت کے لیے استعمال کرو۔ مضبوط بنیادی طریق میں یہ ضروری نہیں بتایا گیا کہ حضرت عمرؓ نے اسی وقت حاضرین کو دور کے میدان کا پورا منظر سمجھایا تھا۔
اصل معنی قاصد کی واپسی پر سامنے آیا۔ اس نے بتایا کہ مسلمانوں کا دشمن سے سخت مقابلہ ہوا اور ایک وقت وہ دباؤ میں آکر پیچھے ہٹنے لگے۔ اسی نازک لمحے انہوں نے ایک آواز سنی: «اے ساریہ، پہاڑ!» سپاہیوں نے فوراً پہاڑ کی طرف حرکت کی اور اسے اپنی پشت بنا لیا۔ اس سے ایک جانب قدرتی حفاظت مل گئی اور جنگی پوزیشن بہتر ہوگئی۔ روایت کہتی ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں دشمن پر فتح عطا فرمائی۔
یہی مطابقت کرامت کا مرکز ہے: حضرت عمرؓ کے خطبے میں نکلنے والی پکار اور دور کے لشکر کا بعد میں یہی کہنا کہ خطرے کے وقت انہوں نے وہی الفاظ سنے۔ ابو نعیم نے بھی اسی واقعے کا قریب المعنی طریق محفوظ کیا ہے جس میں پکار، سننا، پہاڑ کی طرف حرکت اور فتح کا یہی سلسلہ ہے۔
حدیثی تحقیق میں بنیادی روایت کو قابلِ ذکر تقویت حاصل ہے۔ ابن حجر نے ابن وہب، یحییٰ بن ایوب، محمد بن عجلان، نافع اور ابن عمرؓ والی سند کو حسن کہا ہے۔ ابن کثیر نے بھی اسی طریق کو «جید حسن» قرار دیا اور مختلف منقول طرق کے ایک دوسرے کو تقویت دینے کا ذکر کیا۔
بعد کی سوانحی اور تاریخی کتابیں ساریہ بن زنیم کو حضرت عمرؓ کی طرف سے فارس بھیجے گئے لشکر کا امیر بتاتی ہیں، اور بعض بیانات مہم کو 23 ہجری میں فسا اور دارابجرد سے جوڑتے ہیں۔ یہ پس منظر مفید ہے، مگر اسے بنیادی حسن طریق کے الفاظ کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
یوں مضبوط ترین story سادہ اور اثر انگیز رہتی ہے: حضرت عمرؓ کی پکار، لشکر کا اس ندا کو سننے کی خبر دینا، پہاڑ کو پشت بنا کر تدبیر بدلنا، اور پھر اللہ کی طرف سے فتح ملنا۔
خلاصۂ نتیجہ
حیثیتِ روایت: یہ صحابی کی کرامت سے متعلق ایک مشہور کلاسیکی روایت ہے جس کا بنیادی طریق حسن درجے کی تقویت رکھتا ہے۔ سب سے قابلِ اعتماد بیان یہی ہے کہ حضرت عمرؓ نے «یا ساریۃ، الجبل» پکارا، اور بعد میں لشکر کے قاصد نے بتایا کہ خطرے کے وقت انہوں نے یہی ندا سنی، پہاڑ کو پشت بنایا اور پھر اللہ نے فتح عطا فرمائی۔
مآخذ
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0076-CLM-01 now links this SOURCE to a claim reconstructed only from its supplied locked canonical text.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0076-CLM-02 now links this SOURCE to a claim reconstructed only from its supplied locked canonical text.
UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0076-CLM-03 now links this SOURCE to a claim reconstructed only from its supplied locked canonical text.