اللالکائی نے ایک کلاسیکی روایت محفوظ کی ہے جس میں ایک نامعلوم شخص نے اقرار کیا کہ وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کا سامان لوٹنے والوں میں شامل تھا۔ اس شخص پر خوشبو لگانے کے باوجود تارکول جیسی بو غالب رہتی تھی۔ اس نے ایک خوف ناک خواب بیان کیا جس میں وہ شدید پیاسا تھا، رسول اللہ ﷺ کو پانی کے قریب دیکھا، اسے حسین رضی اللہ عنہ کو لوٹنے والوں میں شمار کیا گیا، اور پانی کے بجائے تارکول دیا گیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ بیدار ہونے کے بعد بھی یہی بو باقی رہی۔ روایت کو حسین رضی اللہ عنہ سے متعلق کرامت کے طور پر نقل کیا گیا ہے، لیکن خواب اور بو کی یہ پوری ترتیب بنیادی طور پر ایک ہی روایتی خاندان اور ایک نامعلوم شخص پر قائم ہے۔
اس شخص کے اپنے اقرار کے مطابق وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھ موجود لوگوں کا سامان لوٹنے والوں میں شامل تھا۔ پھر اس نے ایک نہایت خوف ناک خواب سنایا۔ خواب میں اس نے لوگوں کو شدید پیاس کی حالت میں اٹھایا ہوا دیکھا۔ اسی منظر میں اس نے رسول اللہ ﷺ کو پانی کے پاس یا اس کے قریب دیکھا اور پانی مانگا۔ روایت کے مطابق خواب ہی میں اس کی شناخت ان لوگوں میں ہوئی جنہوں نے حسین رضی اللہ عنہ کو لوٹا تھا۔
روایت کہتی ہے کہ اسے پانی دینے کے بجائے خواب میں تارکول دیا گیا۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ جب وہ جاگا تو تارکول کی بو اس کے ساتھ باقی تھی اور وہ جو خوشبو بھی لگاتا، یہ بو اس پر غالب آجاتی۔ اس طرح روایت کے اندر اس کا لوٹ مار کا اقرار، پیاس اور باز پرس کا خواب، اور بیداری کے بعد باقی رہنے والی بو ایک ہی مسلسل غیر معمولی واقعے کی صورت میں پیش ہوتے ہیں۔
اللالکائی نے اس واقعے کو حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کرامات کے باب میں ذکر کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کلاسیکی سنی لٹریچر میں اسے کس زاویے سے قبول اور نقل کیا گیا۔ تاہم دستیاب جانچے گئے شواہد اس عین واقعے کے لیے متعدد آزاد اور مضبوط طور پر مصدقہ اسانید فراہم نہیں کرتے۔ اصل روایت عبد الملک بن عمیر سے ایک نامعلوم شخص تک پہنچتی ہے، اور اس شخص کی شناخت ثابت نہیں۔ بعد کی نقلیں بھی بنیادی طور پر اسی روایت پر منحصر ہیں، اس کی آزاد تصدیق نہیں کرتیں۔
اس لیے خواب کو ایک منقول خواب اور بو کو ایک منقول غیر معمولی نتیجہ ہی رہنے دینا چاہیے۔ اسے باقاعدہ وحی، اس شخص کے آخرتی انجام کے یقینی علم، یا کسی ثابت شدہ طبی و جسمانی سبب کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مضبوط ترین محتاط نتیجہ یہ ہے کہ ایک کلاسیکی سنی ماخذ میں ایسے شخص کی روایت محفوظ ہے جس نے حسین رضی اللہ عنہ کو لوٹنے کا اقرار کیا، پھر ایک سزا نما خواب بیان کیا اور دعویٰ کیا کہ بیداری کے بعد تارکول جیسی بو باقی رہی۔ کرامت کے طور پر اس روایت کی کلاسیکی پذیرائی واضح ہے، مگر تاریخی یقین کے لیے اس کی شہادتی بنیاد کمزور ہے، اس لیے اسے کم اعتماد والی منقول روایت کے طور پر پیش کرنا مناسب ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
کلاسیکی سنی لٹریچر میں ایک ایسی روایت محفوظ ہے جس میں حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو لوٹنے کا اقرار کرنے والے شخص نے بعد میں ایک خوف ناک خواب بیان کیا اور کہا کہ بیدار ہونے کے بعد تارکول جیسی بو باقی رہی۔ چونکہ یہ عین واقعہ ایک نامعلوم شخص اور بنیادی طور پر ایک ہی روایتی خاندان پر قائم ہے، اس لیے اسے قطعی طور پر ثابت واقعہ نہیں بلکہ کم اعتماد والی منقول کرامت سمجھ کر پیش کرنا چاہیے۔