پیدائش کی صحیح تاریخ معلوم نہیں۔ ابتدائی سوانحی روایت انہیں مصر کے بالائی علاقے انصنا کے نواحی گاؤں حفن سے منسوب کرتی ہے؛ یہ غالب تاریخی نسبت ہے، قطعی پیدائشی دستاویز نہیں۔
ماریہ قبطیہؓ
نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
حضرت ابراہیمؓ کی والدہ کے طور پر مذکور؛ رشتے کا درجہ بنیادی ماخذ کی روایت کے مطابق رکھا گیا ہے۔
PER-000003
خاندان کی شخصیت
قوی امکان
مشترک قبرستانی نقطہ
مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا مصر سے مدینہ آنے والی ایک باوقار خاتون، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ اور گھرانۂ نبوت سے وابستہ اہم تاریخی شخصیت تھیں۔ ابتدائی سوانحی ماخذ ان کی آمد کو مقوقس کے جواب، ان کے قبولِ اسلام، مدینہ کی بالائی آبادی میں قیام اور حضرت ابراہیم کی ولادت سے جوڑتے ہیں۔ ان کے باقاعدہ نکاح یا امِ ولد کی قانونی حیثیت کے بیان میں بعد کی تحریروں کا اسلوب یکساں نہیں، اس لیے اس پروفائل میں مشترک تاریخی حقائق کو مقدم اور اختلافی عنوان کو محتاط رکھا گیا ہے۔
محرم ۱۶ ہجری، تقریباً ۶۳۷ عیسوی، مدینہ میں وفات ہوئی۔ ابن حجر اور طبری کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔
ابتدائی تاریخی و سوانحی ماخذ ان کی تدفین جنت البقیع، مدینہ میں بیان کرتے ہیں۔ اس انتظامی فائل میں بنیادی مزار یا نقشاتی ربط موجود نہیں؛ یہ خالی محفوظ خانے تاریخی تدفین کی روایت کو رد نہیں کرتے اور شخصی متن کی اشاعت میں رکاوٹ نہیں ہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا ابتدائی اسلامی تاریخ میں مصر اور مدینہ کے درمیان ایک نمایاں انسانی رابطے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ابن سعد کی روایت انہیں مصر کے بالائی علاقے انصنا کے نواحی گاؤں حفن سے منسوب کرتی ہے، جبکہ بعد کے سوانح نگار ان کا نام ماریہ بنت شمعون بھی نقل کرتے ہیں۔ ان کی پیدائش کی صحیح تاریخ اور بچپن کی تفصیل محفوظ نہیں۔ ان کی معروف کنیت امِ ابراہیم ہے، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔
صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو مصر کے حاکم مقوقس کی طرف دعوتی خط کے ساتھ بھیجا۔ ابن سعد کے مطابق مقوقس نے اسلام قبول نہ کیا، مگر جواب اور تحائف کے ساتھ ماریہ اور ان کی بہن سیرین کو مدینہ روانہ کیا۔ یہ سفر عام طور پر ۷ ہجری، تقریباً ۶۲۸ عیسوی، کے قریب رکھا جاتا ہے۔ اسی روایت میں ہے کہ دونوں بہنوں کے سامنے اسلام پیش کیا گیا اور انہوں نے اسے قبول کیا۔
ابتدا میں دونوں بہنوں کو حضرت ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرایا گیا۔ بعد میں ماریہ کو مدینہ کی بالائی آبادی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زمین پر منتقل کیا گیا، جو مشربۂ امِ ابراہیم کے نام سے مشہور ہوئی۔ ابن سعد انہیں نیک دیندار خاتون قرار دیتے ہیں۔ ابتدائی ماخذ ملکِ یمین اور امِ ولد کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جبکہ بعض بعد کی مذہبی تحریروں میں زوجہ کے احترام آمیز الفاظ ملتے ہیں۔ اس لیے غیر جانب دار تاریخی بیان انہیں گھرانۂ نبوت کی محترم رکن اور حضرت ابراہیم کی والدہ کہتا ہے، مگر ایک قانونی عنوان پر عالم گیر اتفاق کا دعویٰ نہیں کرتا۔
ذوالحجہ ۸ ہجری کے قریب ماریہ کے ہاں حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ ابن سعد نام رکھنے، عقیقے اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنے کی روایات نقل کرتے ہیں۔ صحیح مسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت ابراہیم سے شفقت، مدینہ کے مضافات میں ان کی رضاعت اور ان سے ملاقاتوں کو محفوظ کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم کم عمری میں وفات پا گئے؛ صحیح عمر اور مہینے کے بارے میں اختلاف ہے، مگر صحیح بخاری نبوی آنسو، غم، رحمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زبان کو مضبوط طور پر محفوظ کرتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ماریہ مدینہ میں رہیں۔ ابن حجر کی جمع کردہ روایات کے مطابق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے نفقے اور احترام کا خیال رکھتے رہے۔ محرم ۱۶ ہجری، تقریباً ۶۳۷ عیسوی، میں ان کی وفات ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جنازے کے لیے جمع کیا، نماز پڑھائی اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ طبری کی تاریخی فہرست بھی ۱۶ ہجری میں وفات، حضرت عمر کی نماز اور مدینہ کے قبرستان میں تدفین کی تائید کرتی ہے۔
حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ظاہر کرتی ہے کہ ابتدائی مسلم معاشرہ صرف عرب قبائل تک محدود نہ تھا بلکہ مصر، افریقہ اور بحیرۂ روم کے وسیع انسانی رابطوں سے بھی تشکیل پا رہا تھا۔ ان کی یاد گھرانۂ نبوت کی نجی تاریخ، حضرت ابراہیم کی مختصر حیات، نبوی شفقت اور غم میں صبر کے ساتھ وابستہ ہے۔ ذمہ دار تحقیق ان کی عزت محفوظ رکھتے ہوئے قانونی حیثیت، والد کے نام کی بعد کی صورت اور ایسے جزئیات کے اختلاف کو صاف بیان کرتی ہے جو ابتدائی ماخذ میں یکساں مضبوط نہیں۔
صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو مصر کے حاکم مقوقس کی طرف دعوتی خط کے ساتھ بھیجا۔ ابن سعد کے مطابق مقوقس نے اسلام قبول نہ کیا، مگر جواب اور تحائف کے ساتھ ماریہ اور ان کی بہن سیرین کو مدینہ روانہ کیا۔ یہ سفر عام طور پر ۷ ہجری، تقریباً ۶۲۸ عیسوی، کے قریب رکھا جاتا ہے۔ اسی روایت میں ہے کہ دونوں بہنوں کے سامنے اسلام پیش کیا گیا اور انہوں نے اسے قبول کیا۔
ابتدا میں دونوں بہنوں کو حضرت ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرایا گیا۔ بعد میں ماریہ کو مدینہ کی بالائی آبادی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زمین پر منتقل کیا گیا، جو مشربۂ امِ ابراہیم کے نام سے مشہور ہوئی۔ ابن سعد انہیں نیک دیندار خاتون قرار دیتے ہیں۔ ابتدائی ماخذ ملکِ یمین اور امِ ولد کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جبکہ بعض بعد کی مذہبی تحریروں میں زوجہ کے احترام آمیز الفاظ ملتے ہیں۔ اس لیے غیر جانب دار تاریخی بیان انہیں گھرانۂ نبوت کی محترم رکن اور حضرت ابراہیم کی والدہ کہتا ہے، مگر ایک قانونی عنوان پر عالم گیر اتفاق کا دعویٰ نہیں کرتا۔
ذوالحجہ ۸ ہجری کے قریب ماریہ کے ہاں حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ ابن سعد نام رکھنے، عقیقے اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنے کی روایات نقل کرتے ہیں۔ صحیح مسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت ابراہیم سے شفقت، مدینہ کے مضافات میں ان کی رضاعت اور ان سے ملاقاتوں کو محفوظ کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم کم عمری میں وفات پا گئے؛ صحیح عمر اور مہینے کے بارے میں اختلاف ہے، مگر صحیح بخاری نبوی آنسو، غم، رحمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زبان کو مضبوط طور پر محفوظ کرتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ماریہ مدینہ میں رہیں۔ ابن حجر کی جمع کردہ روایات کے مطابق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے نفقے اور احترام کا خیال رکھتے رہے۔ محرم ۱۶ ہجری، تقریباً ۶۳۷ عیسوی، میں ان کی وفات ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جنازے کے لیے جمع کیا، نماز پڑھائی اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ طبری کی تاریخی فہرست بھی ۱۶ ہجری میں وفات، حضرت عمر کی نماز اور مدینہ کے قبرستان میں تدفین کی تائید کرتی ہے۔
حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ظاہر کرتی ہے کہ ابتدائی مسلم معاشرہ صرف عرب قبائل تک محدود نہ تھا بلکہ مصر، افریقہ اور بحیرۂ روم کے وسیع انسانی رابطوں سے بھی تشکیل پا رہا تھا۔ ان کی یاد گھرانۂ نبوت کی نجی تاریخ، حضرت ابراہیم کی مختصر حیات، نبوی شفقت اور غم میں صبر کے ساتھ وابستہ ہے۔ ذمہ دار تحقیق ان کی عزت محفوظ رکھتے ہوئے قانونی حیثیت، والد کے نام کی بعد کی صورت اور ایسے جزئیات کے اختلاف کو صاف بیان کرتی ہے جو ابتدائی ماخذ میں یکساں مضبوط نہیں۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کی تاریخی اہمیت کا پہلا پہلو مصر اور مدینہ کے درمیان سفارتی، مذہبی اور انسانی رابطہ ہے۔ ان کی آمد اس مرحلے کو ظاہر کرتی ہے جب ابتدائی مسلم دعوت عرب سے باہر کے حکمرانوں اور معاشروں کے ساتھ براہِ راست رابطے قائم کر رہی تھی۔
دوسرا پہلو گھرانۂ نبوت کی خاندانی تاریخ ہے۔ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی ولادت اور کم عمری میں وفات کے ذریعے والدین کی محبت، غم، رحمت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے صبر کی ایک مضبوط مثال محفوظ ہوئی۔ ماریہ کی اپنی زندگی اس تاریخ کا بنیادی مگر نسبتاً خاموش حصہ ہے۔
تیسرا پہلو ماخذی احتیاط ہے۔ ابتدائی سوانحی روایت انہیں امِ ولد اور ملکِ یمین کے دائرے میں بیان کرتی ہے، جبکہ بعض بعد کی تحریروں میں زوجہ کا عنوان ملتا ہے۔ اس فرق کو واضح رکھنا ان کی عزت اور تاریخی دیانت دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔
دوسرا پہلو گھرانۂ نبوت کی خاندانی تاریخ ہے۔ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی ولادت اور کم عمری میں وفات کے ذریعے والدین کی محبت، غم، رحمت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے صبر کی ایک مضبوط مثال محفوظ ہوئی۔ ماریہ کی اپنی زندگی اس تاریخ کا بنیادی مگر نسبتاً خاموش حصہ ہے۔
تیسرا پہلو ماخذی احتیاط ہے۔ ابتدائی سوانحی روایت انہیں امِ ولد اور ملکِ یمین کے دائرے میں بیان کرتی ہے، جبکہ بعض بعد کی تحریروں میں زوجہ کا عنوان ملتا ہے۔ اس فرق کو واضح رکھنا ان کی عزت اور تاریخی دیانت دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔
خاندانی روابط
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
Al-Tabaqat al-Kubra | Ibn Sa'd | Vol. 1, p. 107, notice on Ibrahim ibn the Messenger of Allah | https://ftp.shamela.ws/book/1686/105 | Embassy to al-Muqawqis, Mariya and Sirin, Hafn origin, acceptance of Islam, residence in al-Aliya, and birth of IbrahimAl-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba | Ibn Hajar al-Asqalani | Vol. 8, p. 311, entry 11741 | https://shamela.ws/book/9767/4224 | Mariya's Medina residence, status terminology, Ibrahim, support under Abu Bakr and Umar, death in 16 AH, funeral prayer, and burial in al-Baqi
Dhayl al-Mudhayyal within Tarikh al-Tabari | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Vol. 11, p. 504, deaths of 16 AH | https://shamela.ws/book/9783/6249 | Death in 16 AH, Umar's funeral prayer, and burial in al-Baqi
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 2316 | https://sunnah.com/muslim:2316 | Ibrahim's foster nursing in the outskirts of Medina and the Prophet's tenderness toward him
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Ismail al-Bukhari | Hadith 1303 | https://sunnah.com/bukhari:1303 | The Prophet's tears, mercy, grief, and disciplined words at Ibrahim's death
Māriyya the Copt: Gender, Sex and Heritage in the Legacy of Muhammad's Umm Walad | Aysha Hidayatullah | Islam and Christian-Muslim Relations 21(3), 2010, pp. 221-243 | https://doi.org/10.1080/09596410.2010.500475 | Academic analysis of changing portrayals, umm walad terminology, and later wife-like representations
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔